14.10.2026, 06:59am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

روشنی حرا سے (100)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
07.05.2016, 12:03am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ قسط میں غزوہ خیبر کے وا قعات پر با ت کر رہے تھے ۔اسی دوران ایک اور اہم وا قعہ بھی پیش آیا ۔                           
حضرت جعفر اور دو سرے مہا جر ین اور مہا جرا ت کی حبشہ سے واپسی:جیسا کہ آپ کو علم ہے صلح حد یبیہ کے بعد مدینہ وا پس آ کر سب با دشا ہو ں کو حضور (ص) نے خطوط لکھوائے تھے لہذا شا ہ حبشہ نجا شی کو بھی خط لکھا گیا تھا جس میں آپ  (ص)نے اسے یہ بھی لکھا تھا کہ جو مہا جر ین اس کے پا س ہیں انہیں وا پس بھیجد یا جا ئے ۔لہذا وہ آپ  (ص)کے ایلچیو ں کے سا تھ بہت عزت و احترا م سے پیش آ یا ۔اور اس نے نہ صرف حضرت عبد اللہ  ضمری (رض) کی پزیرا ئی کی بلکہ ان کو کچھ تحا ئف دیکر رخصت کیا ۔ابن ِہشا م نے حضرت سفیان (رض) بن عینیہ سے یہ روایت بیا ن کی ہے کہ حضرت جعفر (رض) بن ابی طا لب عین فتح خیبر کے دن پہو نچے جس سے حضو ر (ص)  کو بہت خو شی ہو ئی ۔  انہو ں (ص) نے پہلے تو ان کی پیشا نی کو بو سہ دیا،اور پھر سینے سے چمٹا لیا۔اور فر ما یاکہ ” میں (ص) یہ نہیں بتا سکتا کہ مجھے فتح خیبر سے زیا دہ خو شی ہو ئی، یا جعفر کی واپسی سے “۔ چو نکہ ہم پہلے ان لو گو ںکے نا م لکھ چکے ہیں جنہو ں نے حبشہ  5   نبوی میں ہجرت کی تھی لہذا یہا ں ہم صرف وہ نا م دے رہے ہیں جو کہ وہا ں قیا م کے دورا ن انتقال فر ما گئے ۔اور انہیں مدینہ آنا نصیب نہ ہوا ان کی تعداد سات تھی ان میں ایک تو تھے عبدا للہ بن حجش جو کہ نصرانی ہو گئے تھے ,جو حضرت ام ِ حبیبہ کے پہلے شو ہر تھے، دوسرے حضرت عمرو (رض) بن امیہ تیسرے حضرت حاطب (رض) بن حا رث، چو تھے ان کے بھا ئی حضرت خطا ب  (رض)، پانچویں حضرت عبد اللہ (رض) بن حا رث، چھٹے  حضرت عروہ (رض) بن عبد العز ی ٰاور سا تویں حضرت عدی(رض)  بن فضلہ ۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ اور صحابیات وہا ں پیدا ہو ئے ۔ حضرت عبد اللہ بن جعفر ،محمد بن ابو حذیفہ،سعید بن خالد ،امتہ بنت ِ خالد ،زینب بنت ابو سلمہ ،عبد اللہ بن مطلب ،مو سی ٰ بن حارث، عائشہ بنت ،فا طمہ بنت حا رث، زینب بنت حارث ،امتہ بنت خال ،زینب بنت ابو سلمہ،عائشہ بنت حا رث ،زینب بنت حا رث اور فا طمہ بنت حا رث۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین۔ اب ہم ذیل میں اس نا مہ مبا رک کا اردو تر جمہ پیش کر رہے ہیں جو کہ حضور (ص) نے نجا شی کو بھیجا تھا ۔                               
                                                  بسم اللہ الرحمٰن ال رحیم ہ
 یہ خط ہے محمد رسول (ص) اللہ کی طرف سے نجا شی با دشا ہ حبشہ کے نام اس شخص پر سلام ہوجو ہدایت کی پیر وی کرے ۔میں (ص) تمہا رے سا منے اس خدا ئے بزرگ اور بر تر کی پا کی بیا ن کر تا ہو ں،جس کے سوا کو ئی لا ئق ِ عبا دت نہیں ہے اور جو باد شا ہ اور تما م عیبو ں سے پاک ہے اورکامل ہے اور امن دینے والا ہے ،نگہبا نی کر نے والا ہے اور میں (ص) شہا دت دیتا ہو ں کہ عیسیٰ  (ع)ابن ِ مر یم رو ح اللہ اور امر ِ ربی “ ہیں۔جسے حق تعالیٰ نے پاک باطن اور پا کدا من مر یم تک پہنچا یااور اس کے روح پھو نکنے سے حضرت عیسیٰ  (ع) بطن ِ مر یم میں جا گزیں ہو ئے ۔جیسے اللہ نے آدم کو اپنے دست ِ مبا رک سے پیدا فر ما یا۔ میں (ص) تمہیں اللہ تعا لیٰ کی طرف دعوت دیتا ہو ں ۔جو تنہا ہے جس کا کو ئی شریک نہیں ہے ۔اور اس کی اطا عت اور فر ما نبر داری کی طر ف بلا تا ہو ں ۔نیز یہ کہ تم میری  (ص)پیر وی کرو اورس چیز کا اتبا ع کرو جو اللہ کی طرف سے میرے پا س آئی ہے کیو نکہ میں اللہ کا رسول (ص) ہوں۔اور تمہیں اور تمہا رے لشکروں کو اللہ عزو جل کی طرف بلا تا ہو ں۔میں (ص) نے اللہ کا پیغام پہنچا دیااور نصیحت پو ری کر دی اب تم نصیحت قبو ل کرو۔ پس اس پر سلا متی ہو جس نے ہدا یت کی پیر وی کی ۔                              
مہر رسالت۔ محمد رسول (ص) اللہ
 اس مسئلے پرمورخین میں شدید اختلا ف ہے ۔کیو نکہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ نجا شی اسلا م لے آیا تھا اور اس نے اس وفد کو جو کہ قریش نے بھیجا تھا بے عزت کر کے نکا ل دیا تھا ۔ لہذا دو با رہ یہ خط کیو ں ؟ اس پر بعض مور خین کی را ئے یہ ہے کہ در اصل یہ دو سرا نجا شی تھا اور ان کا استد لا ل یہ ہے کہ نجا شی حبشہ کے با دشا ہ کا لقب تھا نہ کہ نا م، لہذا وہ پہلا والا اورتھا جس کے انتقا ل کے بعد یہ تخت نشین ہو ا اور یہ اپنے آبا ئی مذ ہب پر ہی قا ئم رہا۔ لہذا اس کو بھی دعوت دینے کی ضرورت محسو س ہو ئی ۔اسی طر ح اس پر بھی اختلا ف ہے کہ حضور (ص) کا عقد حضرت ام ِ حبیبہ (رض) کے سا تھ 7  نبوی میں ہواجبکہ ہم اس کا ذکر پہلے کر چکے ہیں اور اس وقت جو با دشا ہ بر سرِ اقتدار تھا وہ مسلما ن ہو چکا تھا ۔لہذا قرین ِ قیا س یہ ہی ہے کہ وہ سب با تیں پہلے ہو گذریں اور یہ نجا شی دوسرا تھا جس کو حضو ر (ص) نے دعوت دی، اور وہ اور تھا جو کہ حضور (ص)کا وکیل بنا اور جس نے ام المو نین حضرت ام ِ حبیبہ (رض)  کو بطو ر وکیل حضو ر  (ص)کی طرف سے نکا ح میں لیا اور یہ غلط فہمی اس لیے پیدا ہو ئی کہ دو نو ں ہی مر تبہ حضرت عبد اللہ (ص) بن امیہ ضمری ہی کو حضور (ص) نے اپنا قا صد مقرر کیا اور اس کو اس سے تقویت اور بھی ملتی ہے کہ اس کے بعد حبشہ میں اسلام کا کو ئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔واللہ عا لم ۔    باقی آئندہ                         
 غزوہ وادی القریٰ :ابھی حضور خیبر میں ہی تھے کہ پتا چلا کہ وا دی ِ القر یٰ کے لو گ آما دہ فسا د ہیں ۔لہذا حضو ران کی طر ف متوجہ ہو ئے ،اور وادی القر یٰ میں پہنچ گئے ۔ وہاں مجا ہدین کو قیا م کا حکم دیا ۔ابھی یہ لو گ پڑا و¿ ڈال ہی رہے تھے کہ ایک تیر آیا اور حضو ر کے غلا م کو آکر لگا اور وہ شہید ہو گئے ،انکا نا م تھا حضرت مدعم ۔جن کو واپس آتے ہوئے راستے میں رفا عہ بن زید بن وہب الجزا می نے نذر کیا تھا۔ اور جنہوں نے فوراًہی حضور کی سواری کی نگہدا شت اپنے ذمہ لے لی تھی ۔یہا ں اس پر بھی اختلا ف ہے کہ وہ مسلما ن ہوئے تھے یا نہیں؟ ۔لیکن ان کی مو ت پر واقدی نے لو گو ں کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہو ں نے کہا کہ یہ بڑا خو ش قسمت تھا کہ حضور کی غلا می میں آتے ہی جنت الفردوس سد ہا را  ًاس سے یہ با ت پا یہ ثبو ت کو پہنچ جا تی ہے کہ وہ یا تو پہلے ہی سے مسلمان تھے یا غلا می میں آتے ہی مسلمان ہو گئے ۔ورنہ اگر وہ مو من نہیں تھ ے تو صحا بہ کرا م ایسی با ت کبھی بھی ان کے لیئے نہ نکا لتے۔ کیو نکہ ان سے زیا دہ اسلام شنا س اور کو ن ہو سکتاتھا کہ جو ”فہوا مومن“کی شرط ہی پو ری نہ کر تا ہو وہ جنتی کیسے ہو سکتا تھا ۔واللہ عالم ۔  بہر حا ل ان کی شہا دت کے بعد ۔حضور نے وا دی ِ کے محا صرے کا حکم دیدیا اور اسلا می پرچم حضرت خباب بن منذراور اپنا پر چم سعد بن عبا دہ کو عطا فر ما یا اور حکم دیا کہ پہلے انہیں دعوت دی جا ئے، اور کہا جا ئے کہ اگر وہ اسلا م قبو ل کر لیں تو ہم ان کے ما ل کو چھوئیںگے بھی نہیں۔ اور اپنے آدمی کا قصاص بھی خدا کے سپرد کر دیں گے ۔لیکن انہو ں نے بجا ئے مصا لحت پر ما ئل ہو نے کے ،با ہر نکل کر مبا زرت طلبی شروع کر دی۔ ادھر سے حضرت زبیر بن عوام نے دعوت قبو ل کی اور اسے قتل کر دیا اس کے بعد جب دوسرے آدمی نے مبا زرت طلب کی تو حضرت علی نے اسے وا صل جہنم کیا۔ اس بعد یکے بعد دیگرے ان کے آٹھ آدمی اور میدان میں اترے اور ما رے گئے۔ پھر انہو ں نے عا م حملہ کر دیا اور گھمسا ن کی جنگ شروع ہوگئی ۔لہذا مسلما نو ں نے بھی خو ب داد ِ شجا عت دی اور انکا جو آدمی بھی مقا بل آیا اس کو قتل کر دیا، حتی ٰکہ اللہ تعا لیٰ نے مسلما نو ں کو فتح سے ہم کنا ر فر مایا اور با قی لوگو ں کو قید کر لیا گیا۔ مگر یہا ں کی زمینیں حضور نے انہیں کے پا س رہنے دیں۔ اور انہیں میں سے ایک شخص کو حلف لیکر اپنا عا مل مقرر کر دیا اس سے اس کی سند ملتی ہے کہ کلیدی عہدوں پر بھی غیر مسلموں کو حلف لیکر مقرر کیا جاسکتا ہے۔واقدی کے مطا بق حضورنے یہا ں چا ر یو م قیا م فرما یا ۔ واقدی نے ہی حضرت عبد اللہ بن الزمن کے حوالے سے جو کہ انہوں نے ابو ہریرہ ،ابی سلمہ سے روایت کیا ہے، کہ یہ جنگ خلا فِ معمول شا م کو شروع ہو ئی اور پو ری را ت اور اس کے بعد طلو ع آفتا ب تک جا ری رہی ۔کیو نکہ حضور جب کہیں جنگ کے لیے تشریف لے جا تے تھے۔ تو پہلے قیا م فر ما تے تھے اور دوسرے دن حملہ کر تے تھے ۔مگر یہا ں کے باشندوں نے آتے ہی ایک آدمی کوشہید کر دیا، لہذا جنگ فو را ً شروع ہو گئی ۔اوریہ اس جنگ کی اچھو تی با ت تھی، کہ یہ شا م کو شرع ہو ئی اور پو ری را ت جار ی رہ کر دوسرے دن صبح کو ختم ہو ئی۔اب صرف ایک یہو دیو ںکی بستی رہ گئی تھی اور وہ تھی تیما۔جب انکو خیبر اور قریٰ کے انجا م کی خبر ملی توانہو ں نے حضو ر کی خدمت میں اپنا قا صد بھیج کر صلح کر لی اور جزیہ دینا منظو ر کر لیا ۔ باقی آئند٠                             








:دیگر مضامین
(01.05.2016) روشنی حرا سے (99)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.04.2016) ۔روشنی حراسے (98)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.04.2016) روشنی حراسے (97)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(09.04.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حراسے(96)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.04.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حراسے(95)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(25.03.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حرا سے (94)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.03.2016) سیرتِ پاک ۔۔۔روشنی حرا سے (93)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.03.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ ۔۔۔روشنی حرا سے (92)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.03.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (91)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.02.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (90)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.02.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (89)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.02.2016) سیرتِ پاک حضورصلی للہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (88)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.02.2016) سیرت پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (87)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(86)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(85)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.01.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (84)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.12.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(83)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے (82)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.12.2015) کی محمد (ص) سے وفا تونے تو۔۔۔؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (81۔)۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں