چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ افسوس کی بات ہے ہم ستائیس برس بعد بھی ملک میں اردو کا نفاذ نہیں کرسکے، جبکہ قانون پرعملدرآمدکی ذمےداری صرف عدلیہ کی نہیں پورے معاشرے کی ہے
۔کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی تفصیل موجود ہے، جبکہ انسانی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے، جبکہ سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ ہم بنیادی اور اہم معاملات پر کوئی متفقہ لائحہ عمل نہیں بناسکے۔ آج ملک میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کانظام پنپ رہاہے۔
ملک میں قومی زبان کانفاذ نہ ہونے پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور ملک میں اسے نافذ کرناچاہتےہیں۔ دنیا بھر میں قانونی تعلیم قومی زبان میں دی جاتی ہے، تاہم یہاں تمام عدالتی کارروائیاں انگریزی زبان میں کی جاتی ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج ہر شخص حقوق کی بات کرتاہے، تاہم اپنی ذمے داری لینے کو تیار نہیں ہے قانون پرعملدرآمدکی ذمے داری صرف عدلیہ کی نہیں پورے معاشرے کی ہے، جبکہ عدلیہ کی آزادی کیلیے ہر شخص کو اپنی ذمے داری نبھاناہوگی۔