ایوان بالامیں پانامہ لیکس پرہنگامہ۔ وزیراعظم نوازشریف کے سینیٹ اجلاس میں نہ آنے پراپوزیشن کاروزانہ کی بنیاد پرایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ کااعلان ۔اپوزیشن لیڈراعتزازاحسن کاکہناہے کہ ستر کروڑ روپے چھپانے والے گرفتارہورہے ہیں لیکن سات ارب روپے کی کمپنیاں بنانے والوں کوکچھ نہیں کہاگیا۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین رضا ربانی کی زیر صدارت شروع ہواتونکتہ اعتراض پربات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ایوان میں آکر پانامہ لیکس میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت کریں۔
ستر کروڑ روپے چھپانے والے کو تو گرفتار کر لیا گیا لیکن سات ارب روپے چھپانے والوں کو کچھ نہیں کہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف جب سے وزیر اعلی پنجاب بنے اس وقت سے لے کر اب تک اپنے کتنے اثاثے بنائے ہیں وہ لے آئیں۔ اس سے قوم کا کنفیوژن دور ہو جائے گا جس پرمتحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم کی ایوان سے عدم حاضری پرواک آوٹ کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ جب تک وزیراعظم ایوان میں نہیں آئیں گے روزانہ کی بنیاد پرسینیٹ اجلاس کابائیکاٹ کیاجائےگا۔چیئرمین سینیٹ نے راجا ظفر الحق کو اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لانے کی ہدایت کی تاہم راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ان کی بات نہیں مانے گی
بعدازاں اپوزیشن ارکان کچھ دیرکے لئے ایوان میں آئے اوروزیراعظم کی عدم حاضری پردوبارہ واک آوٹ کردیا۔سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پہلے بھی پارلیمان میں آتے رہے ہیں اب بھی آئیں گے ۔انہوں نے کہاکہ آف شورکمپنیاں کسی وزیرکی نہیں عمران خان کی تمام اے ٹی ایم مشینیں پکڑی گئی ہیں ۔سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا