ویرنر فے مان نے پیر کے روز چانسلر کے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بعض سیاسی حلقوں کے مطابق آسٹریا کے صدارتی الیکشن میں انتہائی قدامت پسند سیاست دان کی پہلے راؤنڈ میں کامیابی سے عیاں ہو گیا تھا کہ ویرنر فے مان اطمینان کے ساتھ چانسلر کے عہدے پر مزید براجمان نہیں رہ سکیں گے۔ اُن کی ترجمان آنیا رِیشٹر نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فے مان نے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ رِیشٹر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ چانسلر نے سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چانسلر اور پارٹی کے عہدوں سے دست بردار ہونے کا اعلان کرنے سے قبل ویرنر فےمان نے اپنی جماعت کے سنیئر اراکین کے اجلاس میں شرکت کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ اس اجلاس میں انہوں نے پارٹی اراکین پر واضح کیا کہ وہ پارٹی میں عدم حمایت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہنگامی طور پر طلب کی گئی پریس کانفرنس میں اُن کی ترجمان آنیا رِیشٹر نے بتایا کے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایک نئے اور زوردار انداز میں کاربارِ سیاست کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق قدامت پسند سیاسی جماعت کی مقبولیت کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی دھڑے بندی کا شکار ہو رہی تھی۔