جسٹس محمد منیر کا تاریخی فیصلہ
٭ 10 مئی 1955ء کو فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ کی مکمل بنچ نے اکثریت رائے سے چیف کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جو اس نے دستور ساز اسمبلی کی بحالی کے سلسلہ میں سنایا تھا۔
فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر، جسٹس ابو صالح محمد اکرم، جسٹس محمد شریف اور جسٹس ایس اے رحمن نے بعض قانونی ابہام کا دانستہ یا نادانستہ سہارا لیتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کے حکم کو برقرار رکھا۔ جبکہ بنچ میں شامل پانچویں جج جسٹس اے آرکارنیلئس نے اپنے ساتھی ججوں سے اتفاق نہیں کیا اور اپنے طویل اختلافی نوٹ میں لکھا کہ کو گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ارفع مقاصد کے لئے زہر قاتل کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ سوال سال ہا سال سے موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی فیصلہ تھا یا اس کے پیچھے سیاسی محرکات بھی کار فرما تھے۔ جوں جوں حقائق سامنے آتے جارہے ہیں ویسے ویسے اس فیصلے کی سیاسی نوعیت، اس میں بیان کردہ قانونی موشگافیوں کو بے معنی اور ناقابل اعتبار ثابت کرتی جارہی ہے۔اس فیصلے کے سیاسی ہونے کے ضمن میں سب سے اہم شہادت کسی اور نے نہیں بلکہ خود چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر نے ہی فراہم کی ہے۔انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ پر لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے 22 اپریل 1960ء کو اعتراف کیا تھا کہ فیڈرل کورٹ کا فیصلہ حالات کے دبائو کا نتیجہ تھا اور یہ کہ سندھ چیف کورٹ نے اسمبلی کی بحالی کا جو حکم دیا تھا اس حکم پر حکومت کو خون خرابے کے بعد ہی عملدرآمد پر مجبور کیاجاسکتا تھا۔ جسٹس منیر کے یہ الفاظ تو اور بھی زیادہ عدلیہ کی بے بسی کے مظہر تھے کہ ’’اس مقدمے نے ججوں کو جس ذہنی اذیت سے دوچار رکھا الفاظ اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اور دنیا میں کبھی بھی ججوں کو ایسے عمل سے نہیں گزرنا پڑا ہوگا جسے عدالتی ایذار رسانی قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
قمر جمیل کی پیدائش
٭10 مئی 1927ء پاکستان کے معروف نقاد، ادیب، شاعر اور اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی قمر جمیل کی تاریخ پیدائش ہے۔
قمر جمیل حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی زندگی میں ان کے دو شعری مجموعے خواب نما اور چہار خواب شائع ہوئے جبکہ دو جلدوں پر مشتمل تنقیدی مضامین کا مجموعہ جدید ادب کی سرحدیں ان کی وفات سے کچھ عرصے قبل شائع ہوا تھا۔ انہوں نے دریافت کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی جاری کیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے ریڈیو پاکستان نے وابستہ رہے۔ انہوں نے کراچی سے نثری نظم کی تحریک کا آغاز کیا اور ادیبوں اور شاعروں کی ایک پوری نسل کو تخلیق کا نیا رجحان دیا۔ اردو ادب کے علاوہ انگریزی اور عالمی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ 27 اگست 2000ء کو قمر جمیل کراچی میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
ایک پتھر جو دست یار میں ہے
پھول بننے کے انتظار میں ہے
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
مجنوں گورکھپوری کی پیدائش
٭4 جون 1988ء کو اردو کے ممتاز نقاد، محقق، ماہر تعلیم، مترجم اور افسانہ نگار جناب مجنوں گورکھپوری کراچی میں وفات پاگئے۔
مجنوں گورکھپوری کا اصل نام احمد صدیق تھا اور وہ 10 مئی 1904ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کراچی سے بطور استاد وابستہ رہے۔
مجنوں گورکھپوری کا شمار اردو کے چند بڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، نکات مجنوں، تنقیدی حاشیے، تاریخ جمالیات، ادب اور زندگی، غالب شخص اور شاعر، شعر و غزل اور غزل سرا کے نام سرفہرست ہیں۔
مجنوں گورکھپوری ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اوران کے افسانوں کے مجموعے خواب و خیال، مجنوں کے افسانے، سرنوشت، سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ وہ انگریزی زبان و ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے شیکسپیئر، ٹالسٹائی، بائیرن، برنارڈشا اور جان ملٹن کو تخلیقات کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں