14.10.2026, 01:21pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭10 مئی اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی قمر جمیل کی تاریخ پیدائش
10.05.2016, 04:04am , منگل (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
جسٹس محمد منیر کا تاریخی فیصلہ

٭ 10 مئی 1955ء کو فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ کی مکمل بنچ نے اکثریت رائے سے چیف کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جو اس نے دستور ساز اسمبلی کی بحالی کے سلسلہ میں سنایا تھا۔
فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر، جسٹس ابو صالح محمد اکرم، جسٹس محمد شریف اور جسٹس ایس اے رحمن نے بعض قانونی ابہام کا دانستہ یا نادانستہ سہارا لیتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کے حکم کو برقرار رکھا۔ جبکہ بنچ میں شامل پانچویں جج جسٹس اے آرکارنیلئس نے اپنے ساتھی ججوں سے اتفاق نہیں کیا اور اپنے طویل اختلافی نوٹ میں لکھا کہ کو گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ارفع مقاصد کے لئے زہر قاتل کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ سوال سال ہا سال سے موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی فیصلہ تھا یا اس کے پیچھے سیاسی محرکات بھی کار فرما تھے۔ جوں جوں حقائق سامنے آتے جارہے ہیں ویسے ویسے اس فیصلے کی سیاسی نوعیت، اس میں بیان کردہ قانونی موشگافیوں کو بے معنی اور ناقابل اعتبار ثابت کرتی جارہی ہے۔اس فیصلے کے سیاسی ہونے کے ضمن میں سب سے اہم شہادت کسی اور نے نہیں بلکہ خود چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر نے ہی فراہم کی ہے۔انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ پر لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے 22 اپریل 1960ء کو اعتراف کیا تھا کہ فیڈرل کورٹ کا فیصلہ حالات کے دبائو کا نتیجہ تھا اور یہ کہ سندھ چیف کورٹ نے اسمبلی کی بحالی کا جو حکم دیا تھا اس حکم پر حکومت کو خون خرابے کے بعد ہی عملدرآمد پر مجبور کیاجاسکتا تھا۔ جسٹس منیر کے یہ الفاظ تو اور بھی زیادہ عدلیہ کی بے بسی کے مظہر تھے کہ ’’اس مقدمے نے ججوں کو جس ذہنی اذیت سے دوچار رکھا الفاظ اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اور دنیا میں کبھی بھی ججوں کو ایسے عمل سے نہیں گزرنا پڑا ہوگا جسے عدالتی ایذار رسانی قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

قمر جمیل کی پیدائش

٭10 مئی 1927ء پاکستان کے معروف نقاد، ادیب، شاعر اور اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی قمر جمیل کی تاریخ پیدائش ہے۔
قمر جمیل حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی زندگی میں ان کے دو شعری مجموعے خواب نما اور چہار خواب شائع ہوئے جبکہ دو جلدوں پر مشتمل تنقیدی مضامین کا مجموعہ جدید ادب کی سرحدیں ان کی وفات سے کچھ عرصے قبل شائع ہوا تھا۔ انہوں نے دریافت کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی جاری کیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے ریڈیو پاکستان نے وابستہ رہے۔ انہوں نے کراچی سے نثری نظم کی تحریک کا آغاز کیا اور ادیبوں اور شاعروں کی ایک پوری نسل کو تخلیق کا نیا رجحان دیا۔ اردو ادب کے علاوہ انگریزی اور عالمی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ 27 اگست 2000ء کو قمر جمیل کراچی میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
 
ایک پتھر جو دست یار میں ہے
پھول بننے کے انتظار میں ہے
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

مجنوں گورکھپوری کی پیدائش

٭4 جون 1988ء کو اردو کے ممتاز نقاد، محقق، ماہر تعلیم، مترجم اور افسانہ نگار جناب مجنوں گورکھپوری کراچی میں وفات پاگئے۔
مجنوں گورکھپوری کا اصل نام احمد صدیق تھا اور وہ 10 مئی 1904ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کراچی سے بطور استاد وابستہ رہے۔
مجنوں گورکھپوری کا شمار اردو کے چند بڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، نکات مجنوں، تنقیدی حاشیے، تاریخ جمالیات، ادب اور زندگی، غالب شخص اور شاعر، شعر و غزل اور غزل سرا کے نام سرفہرست ہیں۔
مجنوں گورکھپوری ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اوران کے افسانوں کے مجموعے خواب و خیال، مجنوں کے افسانے، سرنوشت، سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ وہ انگریزی زبان و ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے شیکسپیئر، ٹالسٹائی، بائیرن، برنارڈشا اور جان ملٹن کو تخلیقات کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

:دیگر مضامین
(09.05.2016) ٭9 مئی 1958ء  مغربی پاکستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کوقتل کردیا۔
(08.05.2016) ٭8 مئی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید برکی کی تاریخ پیدائش
(07.05.2016) ملک فیروز خان نون 7  مئی 1893ءکو نون سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے
(06.05.2016) ٭6 مئی 1980ء کو پاکستان کے مشہور لوک فنکار فیض محمد بلوچ کوئٹہ میں وفات پاگئے
(05.05.2016)  پانچ مئی 2009ء کو شاعر قمر شہباز کراچی میں وفات پاگئے
(04.05.2016) اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی 4 مئی 1922ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔
(03.05.2016) نمایاں شہری اور فوجی خدمات کے لئے تمغوں کا اعلان
(02.05.2016) نامور فلسفی، دانشور سید محمد تقی کی تاریخ پیدائش 2 مئی 1917ء ہے
(01.05.2016) یکم مئی کو دنیا بھر کے محنت کش اپنے ان ساتھیوں کی یاد مناتے ہیں
(30.04.2016) ٭30 اپریل 1962ء کو روس نے فیض احمد فیض کو لینن انعام دیا
(29.04.2016)  انتیس اپریل 1976ء کو فلمی دنیا کے عظم مزاحیہ اداکارمنور ظریف دنیا سے رخصت ہوئے۔
(28.04.2016) آغا حشر کاشمیری کا انتقال 28 اپریل 1935ء کو لاہور میں ہوا
(27.04.2016) ٭27 اپریل 1962ء کو مولوی فضل الحق نے وفات پائی
(26.04.2016) ٭26 اپریل 2005ء کو پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور مزاحیہ اداکار خلیفہ نذیر وفات پاگئے
(25.04.2016) پچیس اپریل 1995ء کو جی ایم سید انتقال کر گئے
(24.04.2016)  نوے سالہ ملکہ الزبتھ.. تمام عرب ممالک کی خودمختاری کی ہم عصر
(22.04.2016) اکیس اپریل یوم وفات سید مصطفی علی ھمدانی ۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔ارم نقوی
(20.04.2016) امریکا میں معذور افراد کیلئے روبوٹ بازو تیارکر لیا گیا
(19.04.2016) شہزادہ علی اصغر ۱۰رجب المرجب کو  مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے
(18.04.2016) ریٹائرمنٹ انسان پرجسمانی اور ذہنی طور پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں