پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ میاں صاحب جلسے اور دورے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں آکر عوامی ںمائیندوں کو جواب دیں، جبکہ اسلام کے نام پرسیاست کرنے والوں کو شرم آنی چاہیئے، اگرملک میں یہودیوں کی حکومت آگئی تو مولانافضل الرحمان اس کے بھی وزیربن جائیں گے۔
پشاور میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف اور مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے قوم سے ٹیکس کاپیسہ اکٹھا کرکے لندن میں جائیدادیں خریدیں، جبکہ کرپٹ لیڈروں نے ملک کو تباہ کردیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میاں صاحب کو نیا خیبر پختونخوا نظر نہیں آرہا ہے، ایک سڑک بننے سے ترقی نہیں ہوتی، لوگوں کو روزگار دیں، انکی مدد کریں، سڑکیں بنانے سے قوم نہیں بنتی، نوجوان پر سرمایہ کاری سے قومیں بنتی ہیں۔
جلسہ سے خطاب کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے دور حکومت میں کے پی کے کی پولیس باقی تمام صوبوں سے بہتر ہے، ہم نے پولیس کو غیر سیاسی کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی موجودگی میں نیب انکے خلاف غیرجانبدار تحقیقات نہیں کرسکتی۔جمعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مولانا صاحب کے ہوتے ہوئے ملک کو یہودیوں کے ایجنٹ کی ضرورت نہیں، کیونکہ انکو اقتدار کی حواس ہے، اگر خدانخواستہ ملک میں یہودی وزیراعظم بن گیا، تو مولانا ان کے ساتھ بھی وزیرہونگے