پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو افغان حکام نے بدھ کو کابل میں پاکستانی سفیر کے حوالے کر دیا جنہیں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے وطن روانہ کر دیا گیا ہے۔
علی حیدر گیلانی کو تین سال قبل ملتان کے مضافات سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا اور منگل کو یہ خبر آئی کہ افغان سکیورٹی اور امریکی اسپشل فورسز نے صوبہ پکتیکا کے علاقے گیان میں ایک کارروائی کے دوران علی گیلانی کو بازیاب کروایا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق علی گیلانی کو وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی طیارے کے ذریعے وطن واپس لایا جا رہا ہے۔
علی کو لانے کے لیے ان کے جڑواں بھائی قاسم گیلانی پاکستانی حکام کے ہمراہ کابل گئے۔
اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ القاعدہ سے منسلک گروپ کی قید سے علی حیدر گیلانی کو رہا کروایا گیا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مارچ میں ہی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو رہائی بھی تقریباً ساڑھے چار سال بعد عمل میں آئی تھی۔
شہباز کو 2011ء میں لاہور سے اغوا کیا گیا تھا اور مارچ میں وہ اچانک بلوچستان میں کوئٹہ کے قریب ایک علاقے کچلاک میں منظر عام پر آئے تھے۔
ان کے بارے میں پہلے یہ خبر آئی کہ انھیں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے بازیاب کروایا لیکن بعد ازاں ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ اغوا کار انھیں خود ہی یہاں چھوڑ گئے تھے۔