|
میں فن پر اک نوازش کر رہا ہوں از عزیز بلگامی
14.05.2016, 04:19am , ہفتہ (GMT+1)
عزیز بلگامی
میں فن پر اک نوازش کر رہا ہوں غزل کہنے کی کوشش کررہا ہوں تمناؤں کی بارش کررہا ہوں یوں دِل کی آزمائش کر رہا ہوں کوئی لوٹادے مجھ کو میرا بچپن گزارش پر گزارش کررہا ہوں میں نفرت کر رہا ہوں سارے جگ سے خلاف اپنے ہی سازش کر رہا ہوں لکھا کچھ بھی نہیں ہے جن خطوں میں اُنہیں کو نذرِ آتش کر رہا ہوں کرم کی، ظلم کے ماروں کی خاطر شریروں سے سفارش کر رہا ہوں فلک کوتک رہا ہوں، آنکھ بھر کر دُعاؤں کی میں بارش کر رہا ہوں کوئی بادل اُٹھے اور جم کے برسے پرندوں کی سی خواہش کر رہا ہوں مقرر دِن ہے پرسش کا مگر میں ابھی سے دِل کی پرسش کر رہا ہوں عزیزؔ اِس دورِ ظلمت میں مسلسل قلم سے سعئ تابش کررہا ہوں
|