، گزشتہ قسط میں ہم غزوہ خیبر پر با ت کر رہے تھے ۔ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ وہا ں بہت سی چھو ٹی چھو ٹی بستیاں تھیں اور اس کے علاوہ وہ قبا ئل بھی مدینے کے اطراف میں تھے جن کا پیشہ صرف لو ٹ ما ر کر نا تھا ۔لہذا وہ شو رش بر پا کر تے رہتے تھے اور اکثران کو کسی نہ کسی کی پشت پنا ہی حا صل رہتی تھی ۔اب جب حضو ر(ص) کو ذرا اطمینا ن حا صل ہوا تو حضو ر (ص) نے ان کی طر ف تو جہ فر ما ئی اور مختلف سرا یا مرتب فرمائے ،جن کا ذکر تفصیل سے مغا زی میں تو نہیں ہے البتہ صحیح بخا ری اور مسلم کے علا وہ بہیقی (رح) نے الد لا ئل میں کیا ہے۔ جو کہ ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں۔
بنو فرازہ کے خلا ف مہم: اس مہم پر حضور (ص) نے حضرت ابو بکر (رض) کو ما مو ر فر ما یا ۔اس کو روایت کر تے ہو ئے اما م احمد (رح) فر ما تے ہیں کہ ان سے یکے بعد دیگرے بہذام، اکرمہ بن عمّار ا،یا س بن سلمہ اور خو د ان کے والد نے فر ما یا کہ ”ابو بکر بن قحا فہ کے سا تھ ہم لوگ مدینے سے بنو فرا زہ کے خلا ف جنگ کے لیے روا نہ ہو ئے ۔اسی کو اما م احمد آگے ایا س بن سلمہ کی زبا نی فر ما تے ہیں کہ “راستہ میں جو بھی جنگ جو ملتا گیا اور آما دہ پیکا ر ہوا تو ہم اس کو قتل کر تے ہو ئے آگے بڑھتے گئے حتیٰ کہ ہم ا ن کے کنو یں تک پہنچ گئے۔جہا ں پہو نچ کر حضرت ابو بکر (رض) نے ہمیں پڑا ؤ کر نے کا حکم دیا۔ لیکن بنی فرا زہ جب تک ہما ری آمد کی خبر سن کر اپنی بستی چھو ڑ ،پہا ڑو ں پر چڑھ چکے تھے ۔ہم نے اگلے رو ز نماز ِ فجر کے بعد پہاڑو ں میں انہیں تلا ش کر نا شروع کر دیا اور جہا ں بھی ان کی کو ئی ٹکڑی ملی اس سے جنگ کی حتیٰ کہ انہو ں نے ہتھیا ر ڈا لدیئے ۔ہم نے ان کے با قی ماندہ لو گو ں کو گرفتا ر کر لیا ۔ ان میں ایک انتہا ئی حسین عرب لڑ کی بھی تھی جو کہ انتہا ئی میلے کچیلے کپڑو ں میں تھی۔ اس کی ما ں تو بھا گ گئی ،مگر اس کو میں پکڑنے میں کا میا ب ہو گیا۔اس کے بعد میں نے اس کو حضرت ابو بکر (رض) کے سا منے پیش کر دیا مگر انہو ں نے وہ مجھے ہی بخش دی ۔وہ مزید بیا ن فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ پہو نچے اور حضور (ص) نے اس کو دیکھا تو پہچا ن گئے۔ لہذا مجھ سے فر ما یا کہ اسے مجھے دیدو ۔میں نے عرض کیا حضو ر (ص) آپ اسے لیکر کیا کر یں گے اور کیو ں طلب فر ما رہے ہیں ؟ تو حضور (ص) نے سکو ت فر ما یا اور تشریف لے گئے ۔لیکن اس کے بعد جب آپ نے نے دو با رہ اس کو ما نگا تو میں نے انکے سپر د کر دیا،کیو نکہ مجھے آپ کی ہر خواہش کا احترا م اپنی جا ن سے بھی زیا دہ عزیز تھا ۔لیکن مجھے حضور (ص) کے با ر با ر مطا لبہ پر تشو یش ضرور رہی ۔وہ اسوقت دور ہو ئی جب مکہ سے مسلمان قید یو ں کا تبا دلہ ہوا اور اس لڑکی کو بطو ر فدیہ مکہ بھیجا گیا۔ تو مجھے اس کی اہمیت کا ادراک ہوااور اس تا خیر پر بڑی ندا مت ہو ئی۔ یہ واقعہ مسلم اور بیہقی (رح) نے بھی حضرت عکر مہ بن عما ر کی زبا نی بیا ن کیا ہے۔
سریہ تربت یا سریہ تر بہ:یہ بھی بہیقی ہی نے بیان کیا ہے کہ حضور نے حضرت عمر (رض) کی زیر قیادت ایک دستہ جو کہ تیس آدمیو ں پر مشتمل تھا روا نہ کیا،اہلِ تربت کے سر کشو ں کی سر کو بی کے لیے۔ اور اس کی رہبری کے لیے بنی ہلا ل کا ایک بہت ہی آزمودہ کا ر آدمی سا تھ فرمایا جو کہ اس چھو ٹے سے دستہ کو بہت ہی طو یل را ستے سے لے گیا تا کہ انہیں خبر نہ ہو ،اس لیے کہ ان کا طر یقہ کا ر یہ تھا کہ جب وہ کسی کی آمد کی خبر سنتے تھے تو فرار ہو جا تے ،اور اس کے بعد اپنی شرا رتیں شرو ع کر دیتے تھے۔اس مرتبہ طے یہ کیا گیا کہ انہیں فرار ہو نے کا مو قعہ ہی نہ دیا جا ئے، اور اچا نک پہنچ کر ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا جا ئے ۔حا لانکہ یہ بستی زیا دہ فاصلے پر نہ تھی وہ صرف چا ر میل دورتھی لیکن جو را ستہ طے کیاگیا اس میں کئی دن لگے اور وہ را ت کو چلتے اور دن میں آرام کر تے ہوئے پہنچے تو انہیں احسا س ہواکہ ان کے پا س اب کو ئی راہ ِ فرار نہیں ہے ،لہذا انہو ں نے ہتھیا ر ڈا لدیئے۔ بیہقی کا بیا ن ہے کہ کسی نے مدینہ وا پسی پر حضرت عمر (رض) سے پو چھا کہ اس مہم کا فا ئدہ کیانکلا ؟جس کے لیے آپ نے چا ر دن ضا ئع کئے ۔تو انہو ں نے جوا ب میں فر ما یا کہ میں نے صرف حضور (ص)کے حکم کی تعمیل کی جو میرے لیے لا کھو ں سعا دتو ں سے بڑ ھ کر ہے ۔اور میرے لیے یہ کا فی تھا کہ حضور (ص) نے مجھے سرکش ہوا زن کی سر کو بی کا حکم دیا اور میں نے اس کی تعمیل کر دی۔
بشیر بن سعد کی مہم:واقدی (رح) نے اس کو بہت سے مستند حوا لو ں سے بیا ن کیا ہے ۔ایک دستہ حضور (ص) نے حضرت بشیر (رض) بن سعد کی سر کر دگی میں بنی مر ہ کی طر ف روانہ کیا جن کی بستی فدک کے قریب وا قع تھی اورجو دو با رہ سر کشی پر اتر آئے تھے، لہذا وہا ں زبر دست مقا بلے کے بعد اس رسا لے نے ان کو شکست دی اور وہا ں اسلا می اقتدار دوبارہ بحال کر نے کے بعد وہ رات کو فدک چلے آئے ،پھر وہاں ایک را ت قیا م کر نے کے بعدوہ مدینہ وا پس آگئے ۔لیکن یہ لوگ اپنی حر کتو ں سے با ز نہیں آئے اور انہو ں نے پھر بغا وت کر دی۔ جس کے لیے حضرت غالب (رض) بن عبد اللہ کو روانہ فر ما یا جن کے سا تھ کئی اور جلیل القدر صحابی بھی شا مل تھے ان کے نا م یہ ہیں ۔اسا مہ بن زید ،ابو مسعود البدری اور کعب بن عجرہ (رض) ۔پہلی مبازرت طلبی پر جو شخص سا منے آیا وہ تھا، مر داس بن نہیک جو خو د تو اس قبیلے کانہ تھا مگر ان کا حلیف تھا اور جب اس کو حضرت اسا مہ (رض) بن زید نے زیر کر لیا تو وہ کلمہ پڑھنے لگا ،لیکن ان کے سا منے ان لو گو ں کی بار بار کی بد عہد یا ں تھیں ،لہذا انہو ں نے اسے قتل کر دیا۔ واقدی (رح) لکھتے کہ اس کے بعد ان لو گو ں نے پھر ہتھیا ر ڈا لدئے اور وہ حضور (ص)کے حکم کے مطا بق بنی قدید کی سرکو بی کے لیے روانہ ہو گئے اور ان کو بھی زیر کر کے کا میا ب مدینہ واپس پہنچے ۔
اصنم کی مہم : ابن ِ ا سحا ق (رح) نے روا یت کیا ہے کہ ان سے یزید بن عبداللہ بن قسیط نے کہا کہ ان سے ابن ِ عبد اللہ (رض) بن ابی حدرد نے کہاکے ان کے والد کو حضور (ص) نے اس مہم پر روانہ کیا اور ان کے ہمرا ہ حضرت ابو قتا دہ الحارث اور محلم ا بن جثامہ (رض) بھی تھے۔ جب یہ لو گ ان کی بستی میں دا خل ہو ئے تو وہ لو گ کسی تقریب میں جا رہے تھے اور ان کے سا تھ دودھ سے بھرے ہو ئے بر تن کھجو ریں اور کچھ دو سرا سا ما ن تھا ۔جب ہم ان سے ملے تو عا مر بن اضبط نے ہم کو آگے بڑھ کر اسلا می طر یقہ سے سلا م کیا ۔لیکن حضرت محلم بن جثا مہ (رض) نے انہیں قتل کر دیا۔اور جو سا ما ن وہ لو گ لے جا رہے تھے اسکو چھین لیا۔ اس پر یہ آیت ِ شریفہ نازل ہوئی۔ یاایھاالذین آمنو ااذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینو ولا تقولو۔۔۔۔ الخ
اس واقعہ کاذکر جب ان لو گو ں نے واپسی میں حضور (ص) سے فر ما یا کہ اس کے با وجو د کہ انہوں نے اسلا می بر تا ؤ کیا پھر بھی محلم نے قتل کر دیا ۔تو حضو ر (ص) نے جواب طلب کیا ۔ محلم نے جوا ب میں کہا کہ میں سمجھا کہ وہ حیلہ کر رہے ہیں ۔لیکن اللہ جو دلو ں کا حال جا نتا ہے۔ اس نے حضور (ص) کو اصل حقیقت سے مطلع فر ما دیا جو کچھ اور تھی۔ حضور (ص) نے فر ما یا “کا ش تم مسلما ن نہیں ہو ئے ہو تے “اور اللہ نے بعد میں اس کا پر دہ دنیا میں ہی فا ش کر دیا کیونکہ انتقا ل کے بعد جب ان کی میت دفن کر نے کی کو شش کی گئی تو قبر نے با ہر پھینکدیا، جب دو با رہ دفن کیا تو بھی یہ ہی ما جرہ پیش آیا۔ آخر تیسری مرتبہ کے بعد یہ کوشش ترک کر دی گئی اور میت کو ایک پہا ڑی گڑھے میں پتھر ڈا ل کر پا ٹ دیا گیا۔ جب حضور (ص) کو اس واقعہ کی اطلا ع ملی تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ مٹی کثیف سے کثیف شے کو قبول کر لیتی ہے مگر محلم کی لا ش کو قبو ل نہ کر کے تمہا رے لیے اس نے عبرت کا سا ما ن بنا دیا ۔اس کے بعد مقتول کے ورثہ نے حضور (ص) سے خو ن بہا کا مطا لبہ کیا جس کو اس نے قتل کیا تھااور حضور (ص)نے بیت الما ل میں سے سو اونٹ بطو ر خو نبہا عطا فر ما ئے ۔
حضرت عبد اللہ (رض) بن خدا فہ سہمی کی مہم:صحیح مسلم اور بخا ری میں بیا ن کیا گیا ہے کہ ایک مہم حضو ر(ص) نے حضرت عبد اللہ (رض) بن خذافہ کی سر کر دگی میں روانہ کی اور سا تھیو ں کو یہ حکم دیا کہ تمہیں ہر حا لت میں اپنے امیر کی اطا عت کر نی ہے مگر حضرت عبد اللہ (رض) بن خذا فہ کو یہ محسوس ہوا کہ ہر فرد من ما نی کر نے پر تلا ہوا ہے۔ تو انہو ں نے سب کو حکم دیا کہ جنگل سے لکڑ یا ں چن کر لا ؤ اور جب وہ لے آئے تو کہا کہ ان میں آگ لگا ؤ اور جب آگ پوری طر ح بھڑک اٹھی تو کہا کہ اس میں کو د جا ؤ۔ لیکن سب اس حکم پر مذبذب کھڑے رہے ۔تو انہو ں نے انتہا ئی غصہ سے دیکھا اور حضور (ص)کا حکم یا د دلا یا ۔اس کے بعد نہ صرف انکا غصہ فرد ہو گیا بلکہ آگ بھی یکا یک بجھ گئی ۔اس کے بعد وہ مدینہ واپس آگئے ،کیو نکہ اس صور تِ حال میں کا میا بی کی امید کم تھی ۔اور جب یہ تما م ما جرا حضور (ص) کے سا منے پیش ہوا تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”اگر تم لو گ عبد اللہ کے اس آخری حکم پر اس آگ میں دا خل ہو جا تے تو بھی اپنی پچھلے با غیا نہ خیا لا ت کی بدولت سزا کے طو ر پر اس آگ سے زندہ نہیں نکلتے۔ ۔“ باقی آئندہ