آئینی وقانونی ماہرین نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیئے کمشن قائم کرنے کے معاملہ پر حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط پر چیف جسٹس آف پاکستان کے جواب کو درست اور عدلیہ کی ساکھ کے عین مطابق قرار دیا ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کے کہنے پر کمشن بنانے سے انکار کر دیا ہے جو ایک صحیح فیصلہ ہے کیونکہ ایک کمزور اور بے اختیار کمشن کے قیام کا کوئی فائدہ نہیں تھ
ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ سپریم کورٹ کوکبھی بھی ایک بے اختیار اور کمزور کمشن نہیں بنانا چاھیئے ،پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیئے ایک طاقتور کمشن کی ضرورت ہے جس کے لیئے قانون سازی کرنی چاہیئے اور سپریم کورٹ نے بھی یہی موقف اختیار کرکے حکومتی ٹی آر اوز کو مسترد کر دیا ہے، اب حکومت کو بیٹھنا پڑے گا تاکہ جو اپوزیشن چاھتی ہے اس کے مطابق ٹی آر اوز مرتب کرکے کمشن کی تشکیل کے لیئے قانون سازی کی جا سکے
پاکستان بار کونسل کے رکن سابق وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاستدان اپنے گند کو عدلیہ کے ذریعے صاف کرانا چاھتے تھے پھر میں ناں مانوں کی رٹ بھی لگائی جاتی ہے سپریم کورٹ نے جو جواب دیا ہے وہ درست ہے کیونکہ ایسے معاملات میں عدلیہ کو غیر جانبدار ہی رہنا چاھیئے،لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ اس تنازعہ کا حصہ نہیں بننا چاھتی تاہم کرپٹ عناصر کا سخت احتساب ضرور ہونا چاھیئے،
سینئر قانون دان آفتاب باجوہ نے کہا کہ حکومت ایک ایسے قانون کے تحت کمشن بنانا چاھتی تھی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوکیونکہ جس قانون کے تحت حکومت کمشن قائم کرنا چاھتی تھی اگر یہ کمشن بنتا تو سپریم کورٹ کے تین ججوں کی رپورٹ عدالت میں پیش ہوتی تو عدالت اس رپورٹ کی بجائے پولیس کے ایک اے ایس آئی کی رپورٹ پر انحصار کرتی ،انھوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت ماضی میں جو کمشن بنے ان کی رپورٹوں کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا