14.10.2026, 07:06am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » محمد عظیم اعظم
 

بڑامنصب بڑامنہ اور بڑی بات، پانامالیکس قدرت کی لاٹھی
16.05.2016, 03:30am , سوموار (GMT+1)

محمداعظم عظیم اعظم

آج اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اِن دونوں مُلک ِ پاکستان کو پانامالیکس کے جِن نے اپنے پنچے میں جکڑرکھاہے، ساری پاکستانی قوم پانامالیکس کے جِن کے انجام کی جانب دیکھ رہی ہے، اَب جیسے جیسے وقت آگے کی جانب سرکتاجارہاہے پانامالیکس کا تنازعہ روزبروزکسی نئے موڑپر پہنچ رہاہے اور ہر لمحہ ایک نئے انداز سے کہیں کا کہیں نکلتاجارہاہے،گزشتہ دِنوںاِس میں اُس وقت اور زیادہ شدت آگئی جب سُپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے جوڈیشنل کمیشن بنانے کے لئے لکھے گئے خط کو قانونی تحفظات کے ساتھ مسترد کردیاتھااَب اِس کے بعد سے پانامالیکس پر حکومتی گرفت ضرور ڈھیلی ہوتی محسوس ہورہی ہے اور ایسالگتاہے کہ اَب جیسے حکومت کو اپنی اکڑختم کرنی پڑے گی اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر پانامالیکس کے معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے میں دوقدم آگے بڑھ کراپنا کوئی مثبت کردار ضروراداکرناپڑے گا۔

اگر اِس تناظر میں دیکھاجائے تو ابھی تک ہمارے وزیراعظم حزبِ مخالف کے پانامالیکس پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات اوراپوزیشن کے ٹی اوآرز/ٹرمزآف ریفرنسز سمیت وزیراعظم کے پارلیمنٹ آنے پر اپوزیشن کے پوچھے جانے والے سوالات پر یہ کہتے آئے ہیں کہ ” یہ منہ اور مسور کی دال“ اسمبلی میں اسمبلی کی باتیں اور کمیشن میں کمیشن سے متعلق سوالات اور باتیں ہوگیں ،کوئی سیاستدان کمیشن بننے کی کو شش نہ کرے اور وغیرہ وغیرہ “ وزیراعظم نوازشریف کی پانامالیکس پر اپوزیشن سے متعلق کہی ہوئیں ایسی باتیں ہیں جن سے ابھی تک وزیراعظم حزبِ مخالف کو بہلاتے رہے ہیں اور اپنی اِنہی سیاسی اور غیرسیاسی باتوں اور جملوں سے اپوزیشن کے جذبات کو کئی سو فیصد فارن ہائٹ تک گرماتے رہے ہیں جن سے اِن دِنوں اپوزیشن کی جماعتوں کا پارہ اُبلنے لگاہے اوراَب وہ اتنااُبل چکاہے کہ اپوزیشن والے اپنے جامے سے باہر آنے کو ہیں۔

مگر اَب جبکہ صدرِمملکت محترم المقام عزت مآب جناب ممنون حسین صاحب نے بھی ایک موقع پر اپنے بڑے منصب اور بڑے منہ سے پانامالیکس کے حوالے سے یہ بڑی بات کہہ دی ہے کہ” پانامالیکس قدرت کی لاٹھی ہے ، بدعنوان پکڑمیں آنے والے ہیں،کچھ ابھی کچھ ایک سال کے دوران پکڑے جائیںگے،مجرموں کو سزاملنے تک مُلک درست نہیں ہوگااور ایسی بہت سی چونکا دینے والی باتیں کہیں ہیں۔

یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ اَب وزیراعظم نوازشریف صدر کی اِن باتوں پر کیا کہیں گے؟آج قوم وزیراعظم نوازشریف سے پوچھناچاہتی ہے کہ اَب کیا وزیراعظم نوازشریف صدرممنون حُسین کے لئے بھی ” یہ منہ اور مسور کی دال“والی بات کہیں گے ؟؟ یا اِن کا منصب دیکھتے ہوئے اِس سے بھی کوئی بڑی بات کہیں گے؟؟ بہرحال، اَب تو یہ وزیراعظم صدرممنون حُسین سے ہی پوچھیں کہ اُنہوں نے ایسی باتیں کن پیرائے میں کہی ہیں اور اِن کا اشارہ کس کی جانب تھا؟؟

بہرکیف، خبرہے کہ پچھلے دِنوں کوٹری میں چیمبرآف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرممنون حُسین نے (اپنے نرم و ملائم لہجے والے روائتی خطاب سے ہٹ کر ضرورت سے کہیں زیادہ بلنداور جذباتی انداز سے ) کہاکہ ” پانامالیکس قدرت کی لاٹھی ہے،بدعنوان پکڑمیں آنے والے ہیں،آنے والے ہفتوں ،مہینوں اور کچھ ابھی اور کچھ ایک سال بعدپکڑے جائیںگے،لوگ دیکھیںگے کہ کیسے کیسے لوگ گرفت میں آتے ہیں،کرپشن کامیدان مارنے والے (خواہ کوئی بھی ہو)نہیں بچ سکیں گے،اِن کا یہ بھی کہناتھاکہ”کرپشن کرنے والوںکے چہرے منحوس ہوجاتے ہیں،یہ لوگ اپنے چہروں کی وجہ سے جلد پہچان میں آئیں گے اور پکڑے جائیںگے“(گویاکہ صدرممنون حُسین نے کرپشن کرنے والوں کا پیمانہ بھی بتادیاہے اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھادیاہے کہ کرپٹ اور کرپشن کرنے والوں کی پہچان اِن کے چہروں پر برستی نحوست سے لگایاجاسکتاہے اور اِنہیں پکڑکر قانون کے مطابق سزادی جاسکتی ہے تو ایسے میں قوم اِن کے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں صدر ممنون حُسین سے یہ بھی پوچھناچاہتی ہے کہ کیا وہ اپنے اِس تجربے اور مشاہدے کی مدد سے یہ بتاسکتے ہیں کہ آج پانامالیکس میں آف شورکمپنیوں کے حوالے سے وزیراعظم اور اِن کے خاندان والوںکے نام آرہے ہیں اِن کے چہرے مبارک کے حوالے سے صدرِمحترم کوکیا لگتاہے؟اورکیا محسوس ہوتاہے؟؟اورذرایہ بھی تو قوم کو بتادیں کہ پانامالیکس میںوزیراعظم اور اِن کی فیملی ممبران کی آف شورکمپنیاں عیاں ہونے سے پہلے اِن کے چہرے کیسے تھے اور اَب کیسے ہیں؟)تاہم صدرِمملکت نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ ”پانامالیکس کی وجہ سے پتہ نہیں کون کون سے معاملات اُٹھیں گے؟لوگ دیکھیں گے کہ بہت سے لوگ جو اطمینان سے بیٹھے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کرلیاوہ کرلیاہے اِن کا کچھ نہیں ہوسکتا سب پکڑمیں جلد آئیں گے،یہ کہنے کے بعد اُنہوں نے بڑے وثوق سے اِس بات کا یقین دِلاتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ”یہ میری بات یاد رکھئے گاکہ کوئی واقعہ دوماہ بعدہوگاکوئی چارہ ماہ بعد اور کوئی ایک سال بعدہوگا،اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے، کرپٹ لوگوںمیں بھی مختلف درجات ہیں کوئی بہت زیادہ کرپٹ ہے اور کوئی درمیانہ کرپٹ ہے، لوگ اِسے دیکھیں یہ منحوس چہرے ہوتے ہیں چہرے سے نحوست ٹپک رہی ہوتی ہے“۔

ہاں البتہ ! اِس موقع پر اِنہوں نے اِس بات کو کھلے دل اور دماغ سے ضرور تسلیم کیاکہ ” 1970ءکی دہائی تک قومی ترقی کا سفر اطمینان بخش تھااِ س کے بعدبدعنوانی نے ترقی کی رفتار روک دی،ساتھ ہی اِن کا یہ بھی کہناتھاکہ پاکستان میں قابلِ اور اہل لوگوں کی کوئی کمی نہیں ، لیکن کرپشن اور سفارش کلچرنے کارکردگی کو متاثرکردیاہے،پاکستان ایک عظیم مُلک ہے،اِس مُلک کی خرابیاں اَب ختم ہوں گی کرپشن اور بدعنوانی کوجڑسے اُکھاڑپھینکناچاہئے اِس کے بغیر مُلک ترقی نہ کرسکے گا“آج اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معصوم اور سادہ سوچ وفکرکے حامل صدرِ مملکت ممنون حُسین نے جتنی بھی باتیں کہیں ہیں متاثرکن نہیں ہیں مگراَب کیا ہی یہ اچھاہو کہ صدروزیراعظم ہاو ¿س سمیت اپنے اردگر نظریں دوڑائیں اور پانامالیکس میں نام آنے والے افراد کو اِن کے چہروں سے پہنچان کرقانون کے کٹہرے میں لائیں اور اِن سے صاف وشفاف تحقیقات کے بعد اصل حقائق قوم کے سامنے پیش کریں اور قومی مجرموں کو سزادلائیں۔

:دیگر مضامین
(12.05.2016) مشتاق رئیسانی کی کرپشن اور لوٹ مار میں مشتاقی توبہ توبہ . . .!!! 
(02.05.2016) حکمرانوں کی بودی سیاست اورغیر مُلکی قرضے۔از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(25.04.2016) جنرل راحیل نے فوج سے احتسابی عمل شروع کردیاہے
(06.04.2016)  تہلکہ خیز انکشافات اور وزیراعظم اور بچوں کی آف شور کمپنیاں۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(26.03.2016) ماضی اور حال کے مصطفی کمال اورکراچی کے عوام ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(18.03.2016)  متحدہ کی کراچی میں صفائی مہم اور سندھ حکومت ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(28.02.2016) اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا احساسِ محرومی
(26.02.2016) مقروض مُلک اورقوم کی ترقی وخوشحالی کے دعوے ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم 
(17.02.2016) نیب کے خلاف وزیراعظم ہی ہوجائیں تو..!! پاکستان میں کرپشن کو لگام کون دے گا؟
(14.02.2016)  ویلنٹائن ڈے ہے اوروہ مجھے بہت یاد آرہاہے.از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(14.01.2016) ایران اور سعودی عرب تنازعہ اغیار کی سازش ہے ۔از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(17.12.2015) رینجرز اختیارات . سندھ اسمبلی سے مشکوک ومشروط قرارد اد کی منظوری اور خدشات
(26.11.2015) کیا رُوسی جنگی طیارہ مارگرانا تیسری عالمی جنگ کی ابتداءہوگی
(24.11.2015) حکمران تو قوم کے68سالہ پانی خوراک تعلیم اور صحت جیسے مسائل ہی حل نہ کرسکے
(13.11.2015) سیاسی جماعتیں اور حکومتی حلقے نئے کالم نویسوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ..؟؟
(11.11.2015) عزت و ذلت کا معاملہ تو خداکے ہاتھ ہے، ایاز صادق کا دوبارہ اسپیکرمنتخب ہونا
(03.11.2015) اَب کہیں تیسری بارزلزلہ آیااور تُوبہ کی مہلت ہی نہ ملی تو .از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(20.10.2015)  گاو ماتا،ہندوستان کے جنونی ہندووں کے مسلمانوں پر حملے . . . !!
(17.09.2015) بھارتی خصلت یابھارتی جنگی جنون ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(11.09.2015) مٹی سے بنااِنسان بڑاتوانگربنابھرتاہے جومٹی سے ڈرتاہے ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں