
مورخہ ۳ مئی ۲۰۰۹ء کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایک ادبی تقریب منعقد ہوئی۔نارتھ ویسٹ سنٹر میں ہونے والی اس تقریب کا انعقاد ٹی آئی کالج اولڈ بوائز ایسوسیشن جرمنی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس تنظیم کے روح رواں جناب عرفان خان فرنیکفرٹ کے ادبی حلقے کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور پہلے حصے میں فرینکفرٹ کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے شاعر طاہر عدیم کی نئی کتاب ، شعری مجموعہ ’’ تیرے نین کنول ‘‘ کی رسمِ اجراء ہوئی۔ اس کی صدارت فرینکفرٹ کے مشہور شاعر طاہر مجید کو سونپی گئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کے طور پر، سرور غزالی برلن سے تشریف لائے تھے۔
جبکہ تقریب میں عزازی مہمانِ خصوصی اسحاق سا جد فرائی برگ سے تشریف لائے تھے۔
مقالہ پڑھنے کے لئے طاہر ملک، سب سے پہلے اسٹیج پر آئے۔ اور طاہر عدیم کی شاعری پراظہارِ خیال کیا۔اسکے بعد مشہور شاعر اسحاق ساجد نے طاہر عدیم کی شاعری پر ایک سیر بحث کی۔ ظفراللہ محمود نے اپنے مقالے میں طاہر عدیم کو ’’نظر میں قوس قضا کے تھان گھولنے والا شاعر‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے طاہر عدیم کے حالتِ زندگی کو بھی سامعین کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد طاہر عدیم نے اپنی شاعری ، اس محرکات اور اسباب سے سامعین کو آگاہ کیا۔
رسمِ اجراء کی تقریب کے سب سے آخر میں، طاہر مجید نے اپنے خطبہ صدارت میںطاہر عدیم کی شاعری کو سراہا۔
اور بتا یا کہ ’’بامِ بقا‘‘، ’’تم کبھی بے وفا نہ کہنا‘‘ اور تیرے’’ نین کنول‘‘ کا خالق طاہر عدیم محبت اور فطرت کا شاعر ہے۔ان کی شاعری میں خیالات کی گہرائی ہے اور انکے الفاظ کا چناؤ نہایت جامع ہے۔
خطبۂ صدارت کے بعد چائے کا وقفہ رکھا گیا تھا۔ جس میں مہمانوں کی ضیافت کے لئے طرح طرح کے لذیذ کھانے موجود تھے۔
تقریب کے دوسرے حصے میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرے کی تقریب کی نظامت مشہور سماجی شخصیت جناب زیدی صاحب نے کی۔ اور برلن کے مشہور شاعر جناب حنیف تمنا سے درخواست کی کہ وہ مشاعرے کی صدارت قبول کریں۔ مشاعرے کی تقریب میںحنیف تمنا، طاہر مجید، طاہر عدیم، اسحاق ساجد اور سرور غزالی اسٹیج پر جلوہ نما رہے۔ انکے علاوہ شفیق مراد، بشارت احمد بشارت، اسحاق طاہر، مبشر محیط، حمیداللہ ظفر، شریف خالد اور کئی مقامی شعراء نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔طاہر عدیم کے اس شعر کو سامعین نے نے بہت پسند کیا
نہا کے پیار کی بارش میں اس نے دھوپ جب پہنینظر میں گھول گیا قوسِ قضا کے تھان کا منظر
تقریب کے مہمانِ خصوصی سرور غزالی ، جو بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور ’’بکھر ے پتے‘‘ کے خالق ہیں، انکی نظم ’’ پیاس‘‘ بہت پسند کی گئی۔
اسحاق ساجد اپنے گیتوں کی وجہ سے اردو شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں، انہوںنے سامعین کے اصرار پر یہ گیت سنا کر ان کے دل کو موہ لیا۔
چاند تا روں میں ڈھونڈا کروگےہم نہ ہو نگے تو رویا کر و گے
’’خوشبو کا سفر ‘‘ کے خالق طاہر مجید کا یہ شعر بہت پند کیا گیا
دشمنوں کی قید سے طاہر نکل آیا تھا میںباندھ رکھا ہے مری مٹی نے میرے پاؤں کوسب آخر میں صدرِ مشاعرہ حنیف تمنا کو دعوتِ کلام دیا گیا۔
حنیف تمنا اپنی طویل نظموں اور غزلوں شہنشاہ ہیں۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا کلام سنا کر محفل کو گر ما دیا۔ حاظرینِ محفل اور خاصکر خواتینو ںکے اصرار پر انہیں دوبارہ اسٹیج پر آنا پڑا۔ ان کی نظم ’’ یہ عصرِ حاضر کے نو جہادی‘‘ بہت پسند کی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی خوبصورت غزلیں بھی پیش کیں۔
سہ پہر تین بجے شروع ہونے والی یہ ادبی محفل شام کے چھ بجے اپنے اختیتام کو پہنچی۔