چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو نقطہ اعتراض پر اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ سنا تھا وزیراعظم محلے میں آئے ہوئے ہیں، بہت انتظار کیا لیکن وہ ہماری گلی سے نہیں گزرے۔ ان کا انتظار کرتے کرتے اب ایوان سے واک آئوٹ کر رہے ہیں۔ اس پر متحدہ اپوزیشن مسلسل چھٹے روز بھی ایوان سے واک آئوٹ کر گئی۔ اپوزیشن کے چلے جانے کے بعد سترہ نکاتی ایجنڈہ صرف آدھا گھنٹہ ہی چل سکا۔ سینیٹر بابر اعوان نے اعلیٰ عدالتوں میں خواتین ججوں کو نمائندگی دینے کا بل پیش کیا۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ستر سال میں ایک بھی خاتون آج تک سپریم کورٹ کی جج نہیں بن سکی اور کسی خواتین جج کا نام جوڈیشل کمیشن میں بھی زیر غور نہیں آیا۔ حکومت بل کی مخالفت نہ کرے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ حکومت خاتون ججوں کیخلاف نہیں مگر بل کے مطابق سپریم کورٹ میں خواتین ججوں کی تعداد ایک تہائی تجویز کی گئی ہے جو کہ چھ بنتی ہے۔ یہ تعداد مقرر کرنا قبل از وقت ہوگا۔
حکومت کی جانب سے مخالفت پر چیئرمین نے بل پر ووٹنگ کرائی جس پر بل کے جق میں تئیس اور مخالفت میں پندرہ ووٹ آئے۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا اور چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سینیٹر عبدالقیوم کی طرف سے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت تیار کرکے عالمی دنیا اور اداروں کو بھجوانے کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ چیئرمین نے ایوان بالا کا اجلاس منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔ -