مجوزہ بائیسویں آئینی ترمیم کے زرئعے آئین کے سات آرٹیکلز میں کل نو ترامیم کی جائیں گی، تاہم بائیسویں آئینی ترمیم میں سب سے اہم الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کے انتخاب کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں آئین میں بائیس ویں ترمیم کا بل آج پیش نہیں کیا جاسکا۔ ذرائع کے مطابق بائیس ویں ترمیم کا بل کل اسمبلی میں پیش کیا جائیگا، جس میں سب سے اہم الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کے انتخاب کا طریقہ کار ہے۔
آئین پاکستان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے لئے لازم ہے کہ وہ یا تو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سابق جج ہوں، تاہم بائیسویں آئینی ترمیم کے زریعے اب حاضر سروس یا ریٹائرڈ سینئر بیورو کریٹ، ٹیکنوکریٹ بھی الیکشن کمیشن کے سربراہ یا رکن بن سکیں گے۔موجودہ قوانین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی غیرموجودگی میں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے بعد سینئر ترین جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بنتا ہے، جبکہ بائیسویں آئینی ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان میں موجود سینئر ترین رکن قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دے سکے گا۔
موجودہ قوانین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان پانچ سال کے لئے منتخب ہوتے تھے، تاہم بائیسویں ترمیم کے بعد چار میں سے دو ارکان ڈھائی سال جبکہ دو ارکان پانچ سال کے لئے منتخب ہوں گے۔ذرائع کے مطابق بائیسویں آئینی ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی عمر کی حد بھی مقرر کی گئی ہے۔ ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر کی عمر کی حد اڑسٹھ برس اور رکن کی عمر پینسٹھ سال مقرر کردی گئی۔