درشانہ صد افسوس کہ تم اس معاشرے میں پیدا ہوئی... جہاں انسان نہیں درندے بستے ہیں....
آج کی خبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور کلی کو سکول سے واپسی پر بھنبھوڑ کے مسل دیا گیا...
میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہونے پر رپورٹ تبدیل کر کے خود کشی کی رپورٹ بنا دی گئی.... کیا نو سالہ معصوم بچی خودکشی کر سکتی ہے ....؟؟؟؟؟؟
بچوں کو تو خدا کا روپ کہا جاتا ہے نہ ...؟؟؟؟ اسلام کے نام پر بچوں کو اسکول میں قطار بنوا کرگولیاں ماردی جاتی ہیں تو کبھی مدرسوں میں معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کہ ان کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ وہ معصوم اپنے حق میں بول ہی ناسکے ۔ ۔۔ .
کیا ہماری بیٹیاں اور بیٹے اپنوں میں محفوظ ہیں... ؟
کیا واقعی ہمیں بھی آج سے اپنے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوتے ہی دفن کر دینے چاہیئے کہ وہ درندوں کے معاشرے میں پیدا ہورہے ہیں ۔۔
دوستو ۔۔۔ !
بیشک آپ لوگ قران ، حدیثیں لے آیئے کہ انسانیت کی فلاح بقا میں اسلام کا کیا ہاتھ ہے ۔۔ یا پھر مغرب سے بیٹھ کر مقابلہ کرنا شروع کر دیں ۔۔۔۔۔۔ مجھے ان دونوں سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے ۔۔ یہاں پر درندگی میں جانوروں کوبھی پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے اور ایک نو سالہ معصوم لڑکی دنیا سے رخصت ہو چکی ۔ اس کے لواحقین کسی کومنہ دیکھانے کے لائق نہیں رہے ۔ اس کے ماں باپ جیتے جی ہر پل مرتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور لوگ یہ کہہ کر دامن بچا لیں کہ درندگی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔۔۔۔ تو پھر یہ کون ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ کیسے ہوا یہ سب ۔۔ ؟ کس سے غفلت ہوئی ۔۔ ؟ ۔۔ پولیس کو کیسے پتہ چلا کہ نوسالہ درشانہ خودکشی کی ۔۔۔
ایسے واقعات اگر مسلمان معاشرے میں ہوں تو اس پر ہزار گنا افسوس ہونا چاہیئے کہ ہمارا دین عورت کی عزت اور تحفظ کی بات سب سے زیادہ کرتا ہے ۔ ہمارے نبی آخر احترام معاشرہ اور انسانیت ہی تو لائے تھے ۔ اگر ہم دن میں دسیوں بار اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں تو ہمیں ایسی معصوم بچیوں کی عصمت دری کا جرم بھی اتنی ہی شدت سے قبول کرنا ہو گا ۔۔۔۔۔۔ ریت میں سر چھپا
لینے سے باقی بدن کب محففوظ رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صد افسوس
جب اسلام آیا اسوقت برصغیر کہاں تھا۔ اور یہ بھی غلط فہمی ہے کہ اسلام سے پہلے عورت کی عزت نہیں تھی۔ اللہ کے لیئے مطالعہ کیجئے۔ ہوائی باتیں نہ کریں۔ یہ جو ہے کہ اسلام سے پہلے لڑکی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا تو یہ سارے عرب یا سوقت کی ساری دنیا میں نہیں تھا۔ اہل عرب کا صرف ایک قبیلہ تھا جسمیں یہ بدعت تھی۔ اسلام نے دراصل معیارات قائم کیئے اور اللہ کے رسول نے اس معیارات پر خود عمل کیا۔ اسلام نے عورت کو اعتبار دیا۔ اور اب ذرا ایک تلخ لیکن مبنی بر حقیقت بات سن لیجئے۔ میری تحاریر اور متعدد گفتگو میں یہ فقرہ موجود ہے کہ اسلام نے عورت کو عزت دی اور مسلمان نے وہ عزت چھین لی۔ اسلام کا دفاع ہم سب کرتے ہیں اور کریں گے لیکن بے عمل اور حرام خور مسلمان کا دفاع کرنا دراصل اسکے کارہائے خبیثہ میں شامل ہونا ہے ۔
باقی مذاہب اور معاشرے ایسا پرچار نہیں کرتے کہ جیسے ماں کے قدموں کے نیچے جنت ۔۔ عورت کو عزت عیسائیت نے دلائی ۔۔۔۔عورت کو مساوی حقوق ہونے چاہیئے ۔۔ عورت کو آزادی دی جائے ۔۔ دہائی خدا کی ۔۔۔۔ یہ نعرے مغرب کے نہیں ہیں بلکہ تیسری دنیاکے بےضمیر انسانوں کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں اپنے جرم تسلیم بھی نہیں اور الزام بھی دوسروں پر ۔۔۔۔۔۔
جتنا جسمانی ، جنسی ، معاشی ، جذباتی اور سماجی استحصال عورت کا مسلم معاشروں میں ہوتا ہے کہیں اور نہیں ہوتا ۔۔۔۔
آدمی اپنی بیوی سے 3 ماہ سے الگ رہے تو خود کو بیچارہ سمجھ کر دوسری شادی کرنے کاجواز تراش لاتا ہے اور اس کی ہاں میں ہاں ملا کر باقاعدہ ڈھول بجایا جاتا ہے ۔۔ اور وہیں اسی بیچارے مرد کی بیوی پوری عمر اسی بیچارے کا انتظار کرتی رہ جاتی ہے ۔ اس کے بچے پال پوس کر دنیا سے چلی جاتی ہے لیکن اس کی تنہائی پر کوئی فتوی صادر نہیں ہوتا اور نا ہی اس کی خوشی کے بارے میں سوچا جاتا ہے ۔۔۔۔یہ ہے اسلام کا چہرہ جو مسلمانوں نے دنیا کو دکھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدمی شہوت کا بےلگام گھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے مسلمان مرد کا چہرہ جو دنیا کو اس وقت دکھایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صد افسوس
میں نے یہ بحث فیس بک پر چھیڑی تھی ۔۔ جہاں پر پچاس جوابات میں سے صرف تین جوابات قابل غور تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی سب ایک جذباتی ردعمل
آیئے آپ بھی پڑھیئے ۔۔۔۔۔۔
پہلا جواب ۔۔۔۔۔۔ ناصر صدیقی
گناہ انسان کرتا ہے۔ مسلمان،عیسائی،ہندو،یہودی نہیں کرتا۔پہلے انسان کو اچھی طرح سمجھا تو جائے۔مذہب تو بہت بعد کی چیز ہے۔
دوسرا جواب ؛ آصف گیلانی بھائی صاحب کا ۔۔۔
میں آپکے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتا ہوں۔ مسلمانوں کی سوسائٹی دراصل "عرب وحشیوں" کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے جسے کسی حد تک "اِسلام" نے سنوارنے کی کوشش کی۔ اگر اصل اسلامی ضابطۂ حیات پر عمل جاری رہتا تو ممکن تھا کہ 5-6 نسلوں کے بعد کچھ مہذب معاشرہ کی شکل نکھر آتی، لیکن افسوس کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اسلامی مملکت پر ملوکیت کی چھاپ آ گئی۔ وہ دن اور آج کا دن، حاکمینِ وقت "اِسلام" سے صرف اپنے مطلب کے معانی گھڑتے رہے۔ اِس مسخ شدہ دین اور عقائد کا "اِسلام" سے کیا مطلب!!!
تیسرا جواب ؛ محترم صفدر ہمدانی صاحب ک ا
صدیوں سے اسلام اور مسلمان دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اسلام تو ایک نظام ہے اور اس نظام پر عمل کر کے غیر مسلم بھی فیض یاب ہو سکتا ہے اور ہورہا ہے۔ مسلمان حاکموں اور عوام کی غالب اکثریت تو اسلام کی بدنامی ہیں
معزز بہن بھائیو ۔۔۔۔۔۔۔۔ کون یہاں پر اسلام کو برا کہہ رہا ہے ۔۔ بات یہ کہی جا رہی ہے کہ مسلمانو ں کے غلط رویئے اسلام کی بدنامی کا باعث ہو رہے ہیں ۔ اور یہاں پر مغرب سے بھی کوئی تقابلی جائزہ نہیں ہو رہا ۔ کیونکہ ان کے ہاں جو جائز ہے اور ناجائز ہے وہ خود اس کے زمیدار ہیں ۔ اور ویسے بھی دوسروں کی آنکھ میں پڑے شہتیر کودیکھنے کے لئے پہلے اپنی آنکھ صاف رکھنی پڑتی ہے ۔
میری سمجھ سے باہر ہے کہ اسلام اور مسلمان لکھتے ہی لکھنے والے ہوش کیوں کھو دیتے ہیں ۔ کاش یہ جذباتیت کسی مثبت نتیجے پر کسی کو پہنچا سکتی ۔ لوگ تو اللہ کو نہیں مانتے کیا دنیا ان پر تنگ کر دی گئی ۔۔ لوگ حضور پاک کونہیں مانتے کیا دنیا سے رحم اور انصاف ختم ہو گیا ۔۔ لوگ مولا علی کو نہیں مانتے توکیا دنیا سے علم اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔۔۔ تو دوستو میرے یاآپ کے رہنے یا نارہنے سے اس دنیا کو کوئی فر ق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کہیں فرق پڑتا ہے تو صرف ہمارے عمل سے ۔۔۔۔۔۔ گناہ انسان کرتا ہے ۔۔ کوئی مذہب گناہ نہیں کرواتا ۔۔ لیکن گناہ کرنے والے کا مذہب اس کی وجہ
سے بدنام و رسوا ضرور ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
محترم صفدر ہمدانی نے اسی پوسٹ پر جولکھا اس کے بعدمیں سمجھتی ہوں کچھ بھی لکھنا سورج کو چراغ دکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ لکھتے ہیں ۔۔
“ میری سمجھ میں وہ اتھلی سوچ کے نام نہاد اور بزعم خویش اسلام دوستی کا دعوی کرنے والے نہیں آئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان گناہ ، قتل، زنا، چوری، ڈاکہ اور دہشت گردی وغیرہ نہیں کر سکتا۔ ایسے لوگ عمومی طور پر یہی کہتے ہیں کہ یہ کرنے والا مسلمان نہیں۔ اللہ کے لیئے ذہن کی کھڑکی کھولیں اور کوئی تازہ ہوا اندر آنے دیں۔ کیا ایسے واقعات ہم آئے دن اسی نام نہاد اسلامی معاشرے میں نہیں دیکھتے کہ مسجد میں شیطان صفت مولوی قرآن پڑھنے کے لیءے آنے والی بچی اور بچے سے زیادتی کرتا ہے، باپ بیٹی سے منہہ کالا کرتا ہے، بھائی برسوں بہن کی
عصمت لوٹتا رہتا ہے۔ یہ ہوتا ہے ہاں یہ ہوتا اسی اسلامی معاشرے میں جیسے دوسرے ادیان کے لوگوں میں ہوتا ہے۔
اسلام کو اور مسلمان کو الگ الگ رکھیں۔ جب ہم مسلمان کی خامی بیان کرتے ہیں تو اسے اسلام کی کامی نہیں کہتے۔ چوری کرنے والا عیسائی غلط ہے عیسائیت نہیں، کوئی دین غلط کاری کا درس نہیں دیتا یہ اس دین کے ماننے والے ہیں جو ذاتی اغراض اور نفس کے سرکش گھوڑے کو قابو نہیں رکھ سکتے ۔
باب شہر علم نے فرمایا تھا کہ سب سے برا جہاد اصل میں جہاد بالنفس ہے اور پھر کہا کہ دنیا پر حکمرانی آسانی اور نفس پر حکمرانی مشکل ترین ہے اور یہی انسان کا امتحان ہے۔اس رویے کو ترک کیجئے کہ ایسا کرنے والا مسلمان نہین ہو سکتا۔خود مسلمان نے ہی اکسٹھ ہجری میں سوار دوش رسول نواسے کو پورے کنبے سمیت شہید کر دیا تھا۔ کون انکار کرے کا اس حقیقت سے اور نواسہ رسول کا قتل کروانے والا خلیفہ وقت بھی تھاانسانی خامیاں جو اللہ نے انسان کی جبلت میں رکھی ہیں وہ ہی دراصل اسکا امتحان ہیں ۔ خدا کے لیئے فکری اور علمی مباحث کو جزباتیت کی نذر نہ کیا کریں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کہ آپ ہی سب سے بڑے مسلمان ہیں ۔یہ طے ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اسلام کے قوانین اور ضابطوں پر عمل کرے کہ اسلام فقط اور فقط عمل کا دین ہے ۔۔۔وعظ بہت آسان اور عمل نہایت مشکل کام ہے ''
آج نوے فیصد اسلامی ممالک کے حاکم حرام خور، چور، لٹیرے، عوان کا خون چوسنے والے، عوام کو تعلیم سے دور رکھنے والے، بیرونی ممالک میں گھر کا سرمایہ رکھنے والے، مگرب مین آ کر جوا اور گھڑ ریس کھیلنے والے، زنا کاری کے اڈے سجانے والے ہیں۔ اسی تناسب سے ذرا اسلامی ممالک کے عوام کا بھی اندازہ لگا لیجئے۔
اسلام کا اصل دشمن لا علم، کم علم اور جاہل مسلمان ہے۔ اسلام کا امتیاز علم ہے اور فقط علم اور صدیوں سے مسلمان علم سے کوسوں دور۔
ڈاکٹر نگہت نسیم