آپ نے جو کہا وہ سو فیصد درست ہے ۔ یہ وحشت و بربریت کے نمونے ہیں انکے چہروں پر اور جسموں پر لبادہ اسلام کا ہے ،اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان لوگوں کا کسی بھی دین سے کسی بھی مزہب سے کوئی تع؛ق واسطہ نہیں ہوتا ،
اور نہ ہی یہ انسان ہوتے ہیں ، شکلِ انسان میں ایک درندے ہیں جن میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ، اور ویسے بھی انسان ہونا ایک الگ بات ہے اور انسانیت ایک الگ چیز ہے ضروری نہیں کہ ہر انسان میں انسانیت ہو ،
نگہت بہنا آپ تو ڈاکٹر ہیں خوب جانتیہوں گی کہ انسان اربعاء عناصر کا مجموعہ ہے آگ ، پانی ، مٹی ، ہوا ، ان میں سے ایک چیز کم ہوئی وہ گیا کا جس ظرح انسان اربعاء عناصر کا مجموعۃ ہے اسی طرح انسانیت بھی چار چیزوں سے مل کر بنی ہے ، عفت ، حکمت ، شجاعت اور عدالت ضروری نہیں کہ یہ سب چیزیں ایک انسان میں ہوں ہر انسان میں انسانیت ہو ،آپ نے سہی تجزیہ کیا کہ یہ شہوت کا بےلگام گھوڑا ہے ، جس کو حوس کے نشے میں کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ،
ہاں ہمارے معاشرے میں یہ برائی عام ہے اور تعلیم کی کمی اسکی سب سے بڑی وجہ ہے ،
اور والدیں کا اولاد پر اندھا اعتماد ۔۔۔۔۔
دینی تعلیم کے سلسلے میں مدارس میں یہ بات عام پائی جاتی ہے ، کچھ بچوں کو تعلیم سے ہٹا لیتے ہیں اور کچھ اپنی عزت کہ ہاتھوں مجبور ہو کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ،
لیکن ان کالی بھیڑوں کو ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ، اور اگر کوئی ہاتھ ڈال بھی لے تو اس مجرم کہ پیچھے کوئی طاقت ور حکومتی نمئائندہ اسکو بچانے کے لیے اپنا دینی فرض سمجھ کر آ جاتا اسکو چھڑوانے کے لیے ،،،، معشرے کے ان ناسوروں کا کوئی علاج نہیں ابھی تک کسی کہ پاس ،،،، جب تک ایسے جرائم پر سرِعام سزائے موت کا اعلان نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے جرائم روز ہوتے رہیں گے ۔،۔،آپ جیسے اور مجھ جیسے لوگ چیختے چلاتے رہیں گے ،،،، اور اگر ذیادہ شور کریں گے تو کل کو اخبار یا ٹی وی پر خبر آئے گی کہ ہم نے خود کشی کر لی
appriciat
19.05.2016,
m.taskeen
Aslam o alikum
M NY ap ki post pari Jo k khawatenn k haqoq k bry m the.aj k her mard aurat ko khelona samj raha ha.m ziada kuch nhi khta q k Mary pass ilm ki shahid kmi ha
Lakin itna zroor khta gun Quraan pak m ya faisla o chuka ha k zinah Tom pa Katz ha .Allah pak Jo khta ha wohi krta ha.iss Lea AGR apni man bhen beti ko glt km sy gilt rasty sy rokna chahty hain to phr khd ko rook Len
Allah pak niat pa b sawab ata fur many wala ha.so niat kren khuda hafiz
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں