نون لیگ اور تحریک انصاف میں صبح سے گرما گرمی رہی، ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے ہوتے رہے، شام میں موٹروے پر دونوں کے ترجمانوں کی ’اچانک‘ ملاقات ہوئی۔
پرویز رشید نعیم الحق کا ہاتھ تھام کر اپنی پراڈو میں لے گئے، مہمان کے لیے دروازہ بھی شاید میزبان نے کھولا، دونوں کی بڑی گاڑی میں طویل بیٹھک ہوئی۔
نعیم الحق کہتے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، بس ماحول کو بہتر بنانے پر گفتگو ہوئی۔پرویز رشید کہتے ہیں کہ نعیم الحق کو لفٹ دی، اتفاقی ملاقات میں دونوں نے اتفاق کیا کہ ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ایک دوسرے کے خلاف صف آراء حکومت اور تحریک انصاف کے ترجمان موٹر وے پر ایک ساتھ نظر آئے، ایک گاڑی میں بیٹھے، گلے شکوے کئے، گپ شپ کی اورکئی معاملات پر اتفاق بھی کر لیا، طے پایا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے پاناما لیکس پر متعلقہ فورم کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔
اب کی بار راہ میں ملاقات ہوئی دو اہم ترین شخصیات کی،ایک شخصیت ترجمان حکومت پاکستان اور دوسری ترجمان پاکستان تحریک انصاف، ایک طرف وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور دوسری طرف نعیم الحق،ملاقات ہوئی اچانک اور وہ بھی اسلام آباد اور لاہور کے درمیان موٹر وے پر۔
دونوں ترجمان سفر کی تھکان اتارنے بھیرہ کے ریسٹ ایریا میںالگ الگ رکے تھے اور پھر رہا نہ گیا، آنکھوں ہی آنکھوں میں شکایتوں کے انبار ایک طرف۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ہاتھ تھام لیا ترجمان تحریک انصاف کا،ساتھ ہی فرمائش کر دی کہ ان کی گاڑی میں بیٹھ کر مزید شکوے گلے راستے میں مل کے کر لیتے ہیں۔
نعیم الحق بھی محبت بھرا انداز نہ ٹھکرا سکے اور سوار ہو گئے ترجمان حکومت پاکستان کی گاڑی میں۔ نعیم الحق نے ٹویٹ کیا کہ ان کی بھیرہ میں پرویز رشید سے ملاقات ہو گئی، اپنی گاڑی میں بھی بٹھایا، اب سب کچھ عمران خان کو بتاؤں گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ غیررسمی ملاقات میں ذاتی اور سیاسی معاملات پر بات ہوئی، اس بات پر اتفاق تھا کہ میڈیا پر ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، پانامالیکس پر کمیشن بننے جا رہا ہے، میڈیا پر آکر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہئے، ایک متفقہ فورم بن رہا ہے، اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔
پرویز رشید کے مطابق نعیم الحق نے کہا کہ ہمیں اتفاق رائے سے آگے بڑھنا چاہئے، جمہوری کلچر کی توقیر بڑھانے اورمنفی تاثر ختم کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کو کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہئے۔
ترجمان حکومت پاکستان نے ترجمان تحریک انصاف کو پنڈی بھٹیاں انٹرچینج پر اتارا جہاں سے نعیم الحق فیصل آباد جبکہ پرویز رشید لاہور کی جانب روانہ ہو گئے۔