وزیراعظم نواز شریف کی صحت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز ڈاکٹروں نے وزیراعظم کو آئی سی یو میں چہل قدمی کرائی اور انہوں نے ہلکی غذا بھی لی، مریم نواز نے ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی طبیعت مزید بہتر ہوئی ہے اور انہوں نے میری والدہ اور بھائی کے ساتھ گفتگو بھی کی ہے۔
ادھر سرجنز کی ٹیم نے وزیراعظم کو مزید ایک روز آئی سی یو میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں آج کسی بھی وقت کمرے میں شفٹ کیا جائے گا۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزیراعظم نواز شریف کو گلدستہ بھجوایا ہے، وزیراعظم کے نام خط میں شاہ سلمان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے خصوصی ایلچی کے ذریعے ہارلے سٹریٹ ہسپتال میں ایک خط بھجوایا جس میں ڈیوڈ کیمرون نے نیک خواہشات اور ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کے ساتھ ساتھ وزیراعظم سے ملاقات کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی طرف سے مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا۔
دریں اثنا او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ایاد امین مدنی نے وزیراعظم پاکستان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم کا دنیا میں ایک مقام ہے انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے پاکستان اور مسلم امہ کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں، آپ کی صحت یابی کے لئے سب دعا گو ہیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نواز شریف کی صحت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ دعا گو ہوں کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف جلد صحتیاب ہوں۔ وزیر اعظم نواز شریف کو ڈیوڈ کیمرون اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے گلدستہ بھی بھجوایا گیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے فون پر رابطہ کیا اور وزیراعظم میاں نواز شریف کی خیریت دریافت کی۔ مولانا فضل الرحمن نے میاں شہباز شریف کو وزیراعظم کے کامیاب آپریشن پر مبارکباد دی اور ان کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔
نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی جلد اچھی صحت کیلئے اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم نے میرے ساتھ 2 منٹ تک گفتگو کی انہوں نے بارشوں سے ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کی امداد کیلئے ہدایت کی، تمام رہنائوں کی نیک تمنائوں کا خیرمقد کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے نواز شریف وطن واپسی سے قبل سعودی عرب جائیں گے۔ وزیراعظم کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم صحت یاب ہورہے ہیں، ڈاکٹروں نے ان کو آئی سی یو میں چہل قدمی کرائی ہے ، ان کو ہسپتال میں مزید چار سے پانچ دن لگیں گے ، دعائیں کرنے والوں کے شکرگزار ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم ابھی تک آئی سی یو میں ہیں، انہیں ابھی کمرے میں شفٹ نہیں کیا گیا۔ حسن نواز نے کہا گذشتہ روز وزیراعظم سے ملنا مشکل تھا مگر وہ (آج)جمعہ کو آئی سی یو سے کمرے میں منتقل کردئیے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے منظور احمد وٹو نے وزیراعظم کو اپنے بھتیجے کے ہاتھ پھولوں کا گلدستہ بھیجا اور نواز شریف کے لئے نیک تمنائوں اور جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
....................
لندن میں کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کے بعد وزیراعظم کی صحت میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ خاتون اول بیگم کلثوم نواز اوردیگراہل خانہ نےآئی سی یو میں وزیر اعظم سے ملاقات کی، جبکہ ملک بھر میں دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری ہے
۔وزیراعظم نواز شریف کے خاندانی ذرائع کے مطابق لندن میں دل کے کامیاب آپریشن کےبعد وزیراعظم کی صحت میں بہتری کے حوالے سے ڈاکٹرزمطمئن ہیں، جبکہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کو ہلکی غذا کی بھی اجازت دیدی ہے۔
مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ ان کی وزیراعظم نوازشریف سے بات ہوئی ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں۔ انشاءاللہ آج انہیں پرائیوٹ وارڈ میں منتقل کردیا جائے گا۔
.......................
مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں آپریشن کامیاب رہا ہے اور ان کی رمضان کے اختتام سے قبل وطن واپسی کا امکان ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام 'بول بول پاکستان' میں میزبان نصرت جاوید سے ٹیلی فون کے ذریعے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بہت بہتر ہے، آج وہ اٹھ کر بیٹھے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈاکڑز انھیں 5 سے 6 روز میں گھر جانے کی اجازت دے دیں گے جس کے بعد نواز شریف کو ایک ہفتے میں گھر منتقل کردیا جائے گا۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ آپریشن سے قبل وزیراعظم کے دل کی 3 شریانیں بند تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود وہ ملک میں جلسوں سے خطاب کررہے تھے تاہم ان کی آواز اس دوران بیٹھ جایا کرتی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب انھوں نے مخالفین کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے لندن میں ہونے والے ٹیسٹ سے قبل ان کے خاندان کو ان کی صحت کی اس قدر بگڑتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سرجن ان کے والد کی ریکوری کے حوالے سے مطمئن ہیں، اور امکان ہے کہ انھیں مزید 24 گھنٹے تک آئی سی یو میں رکھا جائے گا۔
.......................
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ ان کے والد کی سرجری چھوٹی نہیں تھی ان کے چار بائی پاس آپریشن ہوئے ہیں۔ حسین نواز کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اللہ نے میرے والد کی حفاظت فرمائی،انہیں دل کا عارضہ اچانک نہیں ہوا، بتدریج بڑھا۔
انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی سلامتی اور بائی پاس آپریشن کی کامیابی کے لیے دعا کرنے پر قوم سے تشکر کا اظہار کیا ہے۔
نواز شریف ہوش میں آگئے ہیں اور ان کا دورانِ خون تسلی بخش ہے، ڈاکٹروں کے مطابق آپریشن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں آئی،مزید دو دن تک انتہائی نگہداشت میں رکھا جائے گا
پاکستان کے وزیراعظم کی یہ سرجری ایسے وقت ہوئی جب رواں ہفتے ملک کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جانا ہے جب کہ اس کے علاوہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے بھی حکومت کو چیلنج کا سامنا ہے۔
اپنی سرجری سے ایک روز قبل ہی وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے قومی اقتصادی کونسل اور کابینہ کے خصوصی اجلاسوں کی صدارت کی تھی، جس میں اُنھوں نے اہم فیصلوں کی منظوری دی۔
اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ لندن میں قیام کے دوران سرجری سے قبل نوازشریف اپنے معاونین کی مدد سےحکومت کے اُمور چلاتے رہے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کے بعد وزیراعظم کتنے دن تک لندن میں قیام کریں گے۔
اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
...............
لندن کے ہسپتال میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری ہوئی جنہیں آپریشن کے بعد آئی سی یو منتقل کر دیا گیا۔
وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم کی طبیعت بہتر ہے، ان کو آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔
آپریشن کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے دل کا آپریشن کامیاب رہا، ان کے 4 بائی پاس ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب سرجری کے بعد وزیر اعظم کی صحت بہتر ہے، ان کے ساتھ والدین اور قوم کی دعائیں ہیں۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اس موقع پر پورے ملک نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، یہ ایک ایسا موقع ہے کہ اس قومی یکجہتی کو آگے بڑھایا جائے، اور تلخیوں کو ختم کرکے ملک کی خدمت کے لیے خود کو کمربستہ کرنا چاہیے، سیاسی جماعتوں کی قیادت سمیت سب نے نیک جذبات کا اظہارکیا۔
وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے بھی میڈیا سے گفتگو ان کے کامیاب آپریشن کے حوالے سے بتایا۔
قبل ازیں مریم نواز شریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ 'اللہ رب العزت کی مہربانی سے وزیراعظم کا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے اور انھیں آئی سی یو منتقل کردیا جائے گا۔'
.....................
لندن میں وزیراعظم نوازشریف کی شریانوں کی پیوندکاری کا عمل کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ۔ مریم نواز
لندن کے اسپتال میں وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کامیابی سے جاری ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کوئی پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ دعائیں معجزہ کررہی ہیں،اللہ کا شکرہے وزیراعظم کی سرجری کامیابی سے جاری ہے، وزیر اعظم کی تمام شریانوں کی پیوند کاری کامیابی سے ہوگئی ہے ، آپریشن مکمل ہونے میں مزید ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے۔
وزیر اعظم کے اہل خانہ بھی اسپتال میں موجود ہیں جو ان کی صحت کیلئے دعائیں اور تلاوت کلام پاک میں مصروف ہیں۔نوازشریف پانچ گھنٹے پہلے اسپتال پہنچے تھے۔
وزیر اعظم کے بیٹے حسن نواز نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف بہت پرسکون ہیں،ان کا آپریشن تھیٹرجاتے ہوئے حوصلہ بلند تھا۔
وزیراعظم نوازشریف نے آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے والدہ کو بھی ٹیلیفون کیا،وزیراعظم نوازشریف نے والدہ سے دعائیں لیںاور کہا کہ ماں جی میں ٹھیک ہوں ، آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔
نوازشریف آپریشن تھیٹرجانے سے قبل شہبازشریف سے گلے ملے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اسپتال کے ویٹنگ روم میں موجودہیں۔
لندن میں وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کا عمل جاری ہے،پوری قوم وزیراعظم کے کامیاب آپریشن اور جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔ملکی سیاسی و عالمی رہنماؤں نے نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی شریانوں کی پیوند کاری کا عمل جاری ہے
وزیر اعظم کا بائی پاس لندن کے ہارلے سٹریٹ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ہو رہا ہے جہاں ان کے اہل خانہ بھی اسپتال میں موجود ہیں جو ان کی صحت کیلئے دعائیں اور تلاوت کلام پاک میں مصروف ہیں۔
پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ہسپتال کے حوالے سے مختلف نام آتے رہے ہیں لیکن اب یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ بائی پاس ہارلے اسٹریٹ کے ایک نجی کلینک میں ہو رہا ہے
آپریشن ابھی تک جاری ہے لیکن پاکستان کے وزیر اطلاعات میڈیا پر کہہ چکے ہیں کہ آپریشن کامیاب رہا ہے
.....................
تازہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری لندن کے اسپتال میں جاری ہے
وزیر اعظم کے اہل خانہ بھی اسپتال میں موجود ہیں جو ان کی صحت کیلئے دعائیں اور تلاوت کلام پاک میں مصروف ہیں۔ نوازشریف پانچ گھنٹے پہلے اسپتال پہنچے تھے۔
آپریشن تھیٹر کے باہر نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز۔ بیٹا حسین نواز اور بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود ہیں، جبکہ وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو اسپتال آنے سے منع کردیا ہے۔
وزیر اعظم کے آپریشن کے لیے امریکا سے دو ماہر امراض قلب کو لندن بلایا گیا ہے، آپریشن کے بعد نواز شریف کو انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) منتقل کیا جائے گا، جبکہ ان کی وطن واپسی کا فیصلہ ڈاکٹروں کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا
وزیر اعظم کے بیٹے حسن نواز نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف بہت پرسکون ہیں، ان کا آپریشن تھیٹرجاتے ہوئے حوصلہ بلند تھا۔
وزیراعظم نوازشریف نے آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے والدہ کو بھی ٹیلیفون کیا، وزیراعظم نوازشریف نے والدہ سے دعائیں لیں اور کہا کہ ماں جی میں ٹھیک ہوں، آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔
نوازشریف آپریشن تھیٹرجانے سے قبل شہبازشریف سے گلے ملے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اسپتال کے ویٹنگ روم میں موجود ہیں۔
لندن میں وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کا عمل جاری ہے، پوری قوم وزیراعظم کے کامیاب آپریشن اور جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔ ملکی سیاسی و عالمی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی جلد صحت یابی کے لئے ہر طبقے سے وابستہ افراد دعائیں کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی صحت کے لئے دعا کرنے والوں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے وزیر اعظم کے ہیلتھ پروگرام کے تحت علاج معالجے کی مفت سہولیات حاصل کیں اور اب صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔
...................
وزیر اعظم نواز شریف کو ترک صدر رجب طیب اردگان نے ٹیلی فون کیا ہےاور وزیر اعظم کے آپریشن کی کامیابی اور جلد صحت یابی کےلیے دعا کی ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے ترک صدر کی جانب سے نیک تمناؤں کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نواز شریف کا آج بائی پاس آپریشن کیا جائے گا جس کے بعد وہ ایک ہفتے تک اسپتال اور پھر ایک ہفتے تک لندن میں موجود اپنی رہائش گاہ میں آرام کرنے کے بعد ملک واپس آجائیں گے۔
وزیر اعظم نے بیماری کے باوجود گزشتہ روز مصروف دن گزارا اور لندن سے ویڈیو لنک کےذریعے قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کیا اور اپنی حکومت کی معاشی کارگردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ۔سیاسی جماعتوں ، عالمی رہنماوں اور دیگر سماجی شخصیات کی جانب سے بھی ان کی صحت کے لیے نیک تمناوں اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعظم کی طبیعت کی بحالی میں دو ہفتے لگیں گے، قوم کی جانب سے ان کیلئے صحت یابی کی دعائیں کی گئی جبکہ وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزرا کی جانب سے بھی نیک تمناؤں کا اظہارکیا گیا۔وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی ہائی کمیشن سے واپس جاتے ہوئے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی بڑی بیماری نہیں، وہ جلد ہی صحت یاب ہوجائیں گے۔
میاں نواز شریف کی اہلیہ، بچے، بھائی شہباز شریف اور خاندان کے دیگر افراد لندن میں موجود ہیں ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کیلئےان کے بیٹے حسین نواز کی رہائش گاہ کے قریب اسپتال میں وقت لے لیا گیا ہے، جہاںآج صبح پاکستانی وقت کے مطابق 11 بجے ان کا آپریشن ہو گا۔
وزیراعظم نے 2011ءمیں دل کی تکلیف کیلئے ’ایٹریل فبریلیشن ایبلیشن‘ کرایا تھا جس کے دوران کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں، اس بات کاذکروزیراعظم کی صاحب زادی مریم نواز نے اپنےٹوئٹ میں بھی کیا تھا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے پر کارڈیالوجسٹ یا الیکٹرو فزیالوجسٹ کو فوری دکھانا چاہئے، ورنہ پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
لندن میں وزیر اعظم کی سرجری کے دوران برطانوی ڈاکٹروں کےعلاوہ پاکستان سے گئی ڈاکٹروں کی ٹیم بھی موجود رہے گی، وزیر اعظم کے اہل خانہ،بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف،ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد بھی لندن میں موجود ہیں۔
........................
وزیراعظم نواز شریف اوپن ہارٹ سرجری کےلئےآج رات ہی لندن کے اسپتال میں داخل ہوجائیں گے جہاں کل ان کاآپریشن کیاجائےگا۔ وزیر اعظم کے اہل خانہ ،بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور خاندان کے دیگر افراد لندن میں موجود ہیں ۔
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کیلئےان کے بیٹے حسین نواز کی رہائش گاہ کے قریب اسپتال میں وقت لےلیاگیاہے، جہاں آج رات انہیں داخل کر دیا جائے گا اور کل صبح پاکستانی وقت کے مطابق 11 بجے ان کا آپریشن ہو گا۔
وزیراعظم نے 2011 میں دل کی تکلیف کیلئے ”ایٹریل فبریلیشن ایبلیشن“ کرایا تھا جس کے دوران کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں،اس بات کاذکروزیراعظم کی صاحب زادی مریم نواز نے اپنےٹوئٹ میں بھی کیا تھا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے پر کارڈیالوجسٹ یا الیکٹرو فزیالوجسٹ کو فوری دکھانا چاہئے، ورنہ پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔لندن میں وزیر اعظم کی سرجری کے دوران برطانوی ڈاکٹروں کےعلاوہ پاکستان سے گئی ڈاکٹروں کی ٹیم بھی موجود رہے گی۔
وزیر اعظم کے اہل خانہ،بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد بھی لندن میں موجود ہیں
آئندہ مالی سال 2016-17 کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کے ایک ہی روز اجلاس کے بعد پیر کا دن ملک کی تاریخ میں ایک غیر معمولی دن ہوگا۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 44 کھرب روپے رکھے جانے کا امکان ہے، جس میں مجموعی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار 675 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔
حکومتی عہدیداران کے مطابق لندن میں علاج کی غرض سے قیام پذیر وزیر اعظم نواز شریف، پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے قومی اقتصادی کونسل جبکہ ساڑھے 6 بجے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کریں گے۔
سابق سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ بجٹ کی اس طرح منظوری سے حکومت کو اس نئے چیلنچ کا سامنا ہوسکتا ہے کہ وہ وفاقی بجٹ اور خاص طور پر فنانس بل 2016-17 کو تین روز سے زائد عرصے تک کیسے لیک ہونے سے روکے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق وفاقی بجٹ کی تاریخ بغیر کسی تبدیلی کے 3 جون مقرر ہے۔
لیکن جس طرح اس کی منظوری دی جارہی ہے یہ بے مثال ہے، کیونکہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار، کسی حکومتی سربراہ کی جانب سے بجٹ کی منظوری آن لائن دی جائے گی۔
بجٹ کے حوالے سے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہمیشہ فنانس بل کے پارلیمنٹ میں پیش کے جانے سے قبل ہوتا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ بجٹ کے حوالے سے میڈیا میں قیاس آرائیاں نہ ہوں، لیکن اس کے باجود مجوزہ بجٹ کا کچھ حصہ پارلیمنٹ میں پہنچنے سے قبل ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے۔
سابق سیکریٹری خزانہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ کابینہ میں تاجروں اور میڈیا نمائندوں کے دوست ہوتے ہیں، جن سے بجٹ کے حوالے سے اہم فیصلے زیادہ دیر تک سینے میں دبائے رکھنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کے مطابق آئندہ مالی سال کا مجموعی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار 675 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ 800 ارب جبکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 875 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
قبل ازیں آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے برآمدی شعبے کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بجٹ میں زیرو ریٹنگ کو دوبارہ بحال کیا جائے گا، تاکہ شعبے کو ٹیکس کی رقم کی واپسی کے مسائل کا سامنا نہ ہو۔
.................
تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کہتےہیں آئین میں قائم مقام وزیراعظم کی گنجائش نہیں، شاید ویڈیو لنک سے وزیراعظم کی شرکت قانونی تقاضا پورا کردے۔
تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ملتان میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے کہ نواز شریف کا آپریشن خیریت سے ہو۔ وزیراعظم کی غیرموجودگی میں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کابینہ کی صدارت کوئی اور کرسکتا ہے۔
اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ نے بھی کہا ہے کہ بجٹ پیش کرنے کے لیے وزیراعظم کا ہونا ضروری نہیں۔
ادھرترجمان وزیراعظم ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ آئین کے تحت وزیراعظم رخصت پر جاسکتے ہیں ۔ وزیراعظم کی تنخواہ، الاؤنسز اور استحقاق ایکٹ 1975 کی دفعہ 12 ون وزیراعظم کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران رخصت پر جانے کی اجازت دیتی ہے ۔ وہ صحت یا نجی امور کی وجوہات پر ایک ساتھ یا مختلف اوقات میں تین ماہ تک چھٹی لے سکتے ہیں۔
ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت وفاقی حکومت وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل ہے اور وزیراعظم وفاق کے چیف ایگزیکٹو ہیں جو براہ راست یا وفاقی وزراء کے ذریعے کام کرسکتے ہیں۔ ایسے میں آئین و قانون کےتحت کسی کو وزیراعظم نامزد کرنے کی ضرورت نہیں ۔
وزیراعظم نے پیر کے روز وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا، نواز شریف اس اجلاس کی صدارت ویڈیو لنک کے ذریعے کریں گے جس کے بعد متعدد اطراف سے حکومتی زمام کار چلانے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے آئینی بحران کے حوالے سے تمام افواہوں کے خاتمے پر زور دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں تمام وفاقی وزراء شریک ہوں گے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم پیر کے روز ہی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے جس میں شرکت کیلئے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو دعوت دے دی گئی ہے۔
اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور اہداف کی منظوری دی جائے گی۔
ادھر وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور دیگر وزراء نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کی غیرموجودگی میں حکومتی امور چلانے سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں بجٹ سے متعلق بھی معاملات زیر غور آئے۔
......................
وزیراعظم ہاوس کے ترجمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم لندن سے ریاستی امور کی نگرانی کر رہے ہیں، وزیراعظم کو ملکی امور سے باخبر رکھا جا رہا ہے اور اس حوالے سے قطعا کوئی التوا یا تاخیر نہیں ہو رہی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم وفاقی کابینہ کے ارکان سے رابطے میں ہیں، وزیراعظم کو ان کا اسٹاف تمام معاونت فراہم کر رہا ہے، 'وزیراعظم کو پرنسپل سیکرٹری، ملٹری سیکرٹری اور دیگر اسٹاف معاونت فراہم کررہے ہیں'۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات متعلقہ حکام تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی غیر موجودگی میں ریاستی امور چلانے کے حوالے سے متعدد سیاست دانوں نے سوال اٹھائے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت نواز شریف کی غیر موجودگی میں ملک کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے عبوری وزیراعظم کو منتخب کریں۔
نواز شریف کی غیر موجودگی عبوری وزیراعظم کی ضرورت، افتخار محمد چوہدری
سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ملک کو آئینی بحران کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی غیر موجودگی میں حکومت کو عبوری وزیراعظم منتخب کرنا چاہیے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ افتخار محمد چوہدری نے مزید کہا تھا کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی کوئی اور کام نہیں کرسکتا۔
انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے کہ جس کے مطابق وزیراعظم کی غیر موجودگی میں ان کی ذمہ داریاں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار چلائیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سادہ اکثریت کے ذریعے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کو عبوری وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے اور اس کیلئے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت بھی نہیں۔
.................
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں آئندہ ہفتے ’اوپن ہارٹ سرجری‘ ہو گی۔
وزیراعظم نواز شریف کے بیٹی مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغامات میں اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم کی سرجری آئندہ منگل کو ہو گی۔
مریم نواز کے مطابق سرجری کے بعد وزیراعظم تقریباً ایک ہفتہ اسپتال میں قیام کریں گے اور ڈاکٹروں کی اجازت کے بعد وہ جلد از جلد پاکستان واپس آ جائیں گے۔
اُنھوں نے اپنے والد کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کی اپیل بھی کی۔
حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک پیغام میں کہا کہ وہ وزیراعظم کی کامیاب سرجری اور جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں وزیراعظم نواز شریف کی صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل کی۔
...................
لندن میں وزیر اعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیا گیا ہے، نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری منگل کو کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف دل کے مرض کی علامات کے سبب معائنے کے لیے لندن گئے تھے،ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ نواز شریف کی انجیو پلاسٹی ٹھیک رہے گی، نواز شریف کی دل کی شریانوں کی صحیح صورتحال جاننے کےلیے انجیو گرام کیا گیا، انجیو گرام کے بعد طے پایا کہ انجیو پلاسٹی ٹھیک نہیں رہے گی، مزید ٹیسٹ معائنوں اور اسکینز کے بعد نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلےتین دن ان کے آپریشن کی تیاریاں کی جائیں گی، اوپن ہارٹ سرجری کےبعد نواز شریف کو ایک ہفتے اسپتال میں رہنا ہوگا، پاکستان واپسی کےسفر کے لیے حتمی منظوری ڈاکٹرز دیں گے۔
وفاقی وزیرخواجہ آصف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے وزیراعظم نواز شریف کواوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا، منگل کے روز وزیراعظم کی اوپن ہارٹ سرجری ہوگی،انہیں سرجری کےبعدریکوری میں ایک ہفتہ لگے گا۔
خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرز نے وزیراعظم کو آپریشن کے بعد ایک ہفتہ مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، آپریشن کے ایک ہفتے بعد ڈاکٹرز نوازشریف کی صحت کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ان کی وطن واپسی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔