بیچتا ہے رات دن واعظ خدا کے نام کو
نام پر دین نبی کے دیں کا کاروبار ہے
کیسی ذلت کی ہوئی ہے انتہا مت پوچھیئے
مولوی ہی مولوی کا حاشیہ بردار ہے
دوستی کے نام پر گردن جو کاٹے دوست کی
ایسا بدکردار ہی سب سے بڑا دیں دار ہے
تم تقاضا آج بھی کرتے ہو بیعت کا مگر
اور مجھ کو آج بھی کھلم کھلا انکار ہے
آج بھی ہے دشت کربل میں کھڑا تنہا حسین
آج بھی صفدر یزید وقت کی سرکار ہے