عراق کے شہر فلوجہ پر داعش کا قبضہ ختم کرانے کیلئے فورسز کو پیش قدمی میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ شہر پر حملے کیلئے انسداد دہشتگردی کی فورس بلوالی گئی ہے۔ شہر میں تقریباً پچاس ہزار شہری پھنسے ہوئے ہیں اور بھوک کی وجہ سے شہریوں کی اموات کی اطلاعات ہیں۔داعش کو فلوجہ سے نکالنے کلئے عراقی فورسز کو پیش قدمی میں اہم کامیابی مل گئی۔
فورسز نے فلوجہ کے قریبی گاؤں قرما کا کنٹرول داعش سے چھڑالیا ہے اور فلوجہ کے قریب بہترین زمینی فوجی تعینات کردئے گئے ہیں۔ کرما مکمل طور پر پولیس اور حکومتی فورسز کے قبضے میں آچکا ہے۔فلوجہ شہر پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے کے لیے بڑی تعداد میں انسداد دہشت گردی کی بہترین فورس بلوا لی گئی ہیں۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ شہر پر حملے کا آغاز کب کیا جائے گا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تقریباً پچاس ہزار عام شہری اب بھی فلوجہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انھیں فضا سے پرچے پھینک کر دولت اسلامیہ کے علاقوں سے دور رہنے اور اپنی چھتوں پر سفید کپڑے ڈالنے کے لیے کہا گیا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں بعض ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ لوگ بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں اور دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے سے انکار کرنے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔