15.10.2026, 10:13am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

دین سے نفرت پیدا کرنے والے شیرانی جیسے ملا مولوی ہیں۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم
30.05.2016, 01:05am , سوموار (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی
دوستو ! 

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے جاری بیان " عورتوں کا مارنا جائز ہے بس ان کی ہڈی نا ٹوٹے " نے عورتوں میں جو شدید بے چینی پیدا کی ہے وہاں پر اسلام کی طرف مائل غیر اسلامی  افراد کو سخت صدمے سے دوچار کر دیا ۔ اور وہ طبقہ جو زرا سا بھی سوچ بچار کا عادی ہے وہ  سرجھکائے سوچ رہا ہے کہ کیا میرا خدا اتنا غیر عادل ہے کہ ایک ہی طرح کی سرکشی  جو عورت کرے تو مرد اس کا گوشت ہڈیوں سے بیشک اتار پھینکے بس ہڈی نا ٹوٹے اور جو وہی سرکشی آدمی کرے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت سکون و آرام سے اپنی چوٹیں سہلاتی خاموش رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کیا یہ واقعی  وہ اسلام ہے جو خود کو جدید ترین دین کہتا ہے یا یہ چند آدمیوں کا گھڑا ہوا منصوباتی دین ہے جو صرف اور صرف عورتوں کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔ 

پیدا ہو تو مار دی جائے ۔۔ بڑی ہو تو تعلیم سے محروم کر دی جائے ۔۔ شادی اس کی ہو اور فیصلہ باپ بھائی کا ہو ۔۔۔  ٖفیصلے سے انکاری ہو تو جلا دی جائے ۔۔ مار دی جائے ۔۔ پتھروں سے لہولہان کر دی جائے ۔۔ گھر میں اناج نا ہو تو کوڑیو کے بھاؤ بیچ دی جائے ۔۔ کوٹھوں کی زینت بنا دی جائے اور وہی باپ بھائی ان سے اپنی اولاد بھی پیدا کرے ۔۔۔۔۔۔ شوہر کے گھر جائے ٹھوکروں میں پڑی رہے ۔۔۔ وہ ہمبستری نا کرنا چاہے تو اس پر صبح تک فرشتے لعنت کریں ۔۔۔ یہ عورت جو لڑکی جنے تواسے  طلاق دیدی جائے ۔۔ 

اخ تھو۔۔۔ ایسی سوچ کے معذور لوگوں پر افسوس ہوتا ہے اور رحم آتا ہے اسلام پر کہ جسکی تفہیم ایسے امام الجہلا اور ابوجہل کی نسل کے نمائیندوں کے ہاتھ میں ہے، ہمارے درمیان ہی لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو ایسے ذہنی معذور لوگوں کو مولوی، مولانا بلکہ عالم دین بھی کہتے ہیں۔ ہائے میرے رسول کا دین اتنا بے بس ہے جو ایسے مکروہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور کیسا ظلم ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے دین کی تفہیم ایسے کریہہ المزاج لوگ کرتے ہیں اور ظلم یہ کہ اس اسلامی ملک کے مسلمان انکی ایسے بیہودہ باتوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی دُکھ تھا کہ استاد مقام شاعر صفدر ھمدانی نے کہا تھا کہ 

دین کی تفہیم گر مقصود ہے
مولوی سے دور رہنا چاہیئے

اے ایمان والو ، اے صبح و شام اللہ کے رسول کا درود پڑھنے والو، اے نبی کے روضے پر دھاڑیں مار کے رونے والو، اے حجر اسود کو بسہ دینے کے لیئے مرنے والو، اے ایک عور بی بی حاجرہ کی سنت نبھانے کے لیئے صفا مرویٰ کی سعی کرنے والو ، اے عورت کوپاوں کے نیچے جنت والی  ماں کہنے والو، آؤ دربار رسول میں اور مجھے بتاؤ کہ کیا عورت کا قصور یہی ہے کہ وہ عورت ہے اور مسلمان ہے سو اسے " جدید دین " پر صرف مار کھانی ہے چاہے اس کا اٹھنا بیٹھنا سرکشی کے دائرے میں آتا ہو یا نا ہو ۔۔۔ کیونکہ خدا تو مردوں کا ہے ۔۔۔۔ اس قدر سیکسیٹ دین کیا اسلام ہو سکتا ہے ۔ جو رحمت اور برابری کا پیغام لے کر آیا ۔۔۔ 

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مرد اپنی عورت کے ہوتے ہوئے اس کے سامنے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رنگ رلیاں منائے ۔۔اپنی بیوی کو ہر طرح سے ترسائے اور اس کے ایک بھی حقوق ادا نا کرے ۔۔۔  دوستوں کے ساتھ شراب پیئے ۔۔ نشے میں بیٹی بہن کی تمیز نا کرے ۔۔ کوٹھوں پر لاکھوں روپے لٹائے ۔۔ اپنے حرم میں پچاس لونڈیوں کی مد میں اپنی پسند کی عورتیں رکھے ۔۔۔ پر اس کے لیئے قران کی کوئی آیت نا اترے جو مولوی اور نظریاتی کونسل کو نظر آئے اور یہ بیان دے کہ " ایسے مردوں کی کھال کھینچ دی جائے بس زراخیال رہے  ہڈی نا ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

لعنت تم سب پر ایسی سوچ رکھنے والے  مولویو ۔۔ نظریاتی کونسل کے تمام ممبران پر ۔۔ اور ان پر بھی جو یہ پڑھ کر اور سن کر خاموش رہے ۔۔۔۔۔۔ یہ عورتوں کے خلاف بیان نہیں ہے کیونکہ وہ تو سدا سے ماریں کھاتی آ رہی ہیں ۔۔۔ یہ بیان تو اللہ پاک اور اس کے دین کی توہین ہے ۔ وہ پاک رب تو عادلوں کا عادل ہے ۔۔ عورت و مرد اس کی مخلوق اعظم ہے ۔ جو چیونٹی کو  مارنے سے روکتا ہے وہ عورت کو مارنے کا حکم کیسے دے سکتا ہے ۔۔۔ ؟

دوستو !
یہ ابو جہل کی اولادیں ہیں جو نظریاتی کونسل میں بیٹھ کر ایسے بیان دیتی ہیں اور سورت النساء کی آیت نمبر 16 کا ترجمہ اپنی نیت اور باپ دادا سے چلے آئے ترجمے کے حساب سے کرتے ہیں ۔۔۔۔ جو دراصل یہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: "اگر تم میں سے دونوں (یعنی میاں بیوی) بے حیائی کے مرتکب ہوں، دونوں کو ہلکی سزا دو اور جب وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو پھر ان سے در گزر کرو" (سورہ النسا ۔۱۶)

آج کا شاطر مولوی اور تمام شکی القلب مرد جو خود دودھ کا دھلا سمجھتے ہیں وہ مرد کو ہٹا دیتے ہیں اور صرف عورت کو نشانہ بنا لتے ہیں ۔ کیونکہ اسی آیت کا ترجمہ اور تفسیر پرانی کچھ اس طرح سے ہے 

"ترجمہ: مرد حاکم ہیں عورتوں کے، یہ سبب اس کے کہ جو خرچ کرتے ہیں اپنی مالوں سے پس نیک بخت عورتیں فرمانبردار ہیں، نگہبانی کرنے والی ہیں، بیچ غائب کے ساتھ محافظت اللہ کے اور جو عورتیں کہ تم ڈرتے ہو سرکشی ان کی سے پس نصیحت کرو ان کو اور چھوڑ دو بیچ ان کو خوابگاہ کے اور مارو ان کو، پس اگر کہا مانیں تو مت ڈھونڈو اور ان کی راہ، تحقیق اللہ تعالی بلند بڑا ہے (سورہ توبہ النسا ۳۴۔۴ ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب)"۔ ۔ ۔ 

یہ قدیم ترجمہ ہم نے جان بوجھ کر پیش کیا ہے۔ اس اسی کے مقابلے میں اسی آیت کا ترجمہ ایک جدید خیال روشن عالم دین کے قلم سے ملاحظہ ہو۔ ۔ ۔

"ترجمہ: مرد عورتوں کے سرپرست ہیں، بوجہ اس کے کہ اللہ تعالی نے ایک دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کئے پس جو نیک بیبیاں ہیں، وہ فرمانبرداری کرنے والی، رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، بوجہ اس کے کہ خدا نے بھی رازوں کی حفاظت فرمائی ہے اور جن سے تمہیں سرتابی کا اندیشہ ہو، تو ان کو نصیحت کرو ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑدو اور ان کو سزا دو، پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریںتو ان کے خلاف راہ نہ ڈھونڈو بے شک اللہ تعالی بہت بلند اور بڑا ہے۔ ۔ (سورہ النسا ۳۴ ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب)

کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مرد اکثر عورتوں کو مارا پیٹا کرتے تھے لیکن قرآن مجید نے عورت کا مرتبہ مرد کے برابر قرار دیا تو اس سے بجا طور پر سمجھا گیا کہ شریعت اسلامی مردوں کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی عورتوں کو ماریں، چنانچہ ایک دفعہ جب ایک انصاری نے اپنی بیوی کے منہ پر تھپڑ مارا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر شکایت کی آپ نے حکم دیاکہ اس انصاری کو بھی ویسا یہ تھپڑ مارا جائے۔ آپ کا فیصلہ قراآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کے مطابق تھا۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: "اگر تم میں سے دونوں (یعنی میاں بیوی) بے حیائی کے مرتکب ہوں، دونوں کو ہلکی سزا دو اور جب وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو پھر ان سے در گزر کرو" (سورہ النسا ۔۱۶)

پھر چونکہ عورتوں کو مارنا، اسلامی تعلیمات کے خلاف معلوم ہوتا تھا، اس لئے حضرت ابن عباس نے اس کی یوں تشریح فرمائی کہ عورت کو صرف مسواک سے مارنے کی اجازت ہے (تفسیر فتح القدیر از علامہ شوکانی، جلد اول صفحہ ۴۶۲)

حضرت ابن عباس جو قرآن مجید کے اول شارح تھے، کی اس وضاحت سے تو عورتوں کو مارنے کا معاملہ عجیب دکھائی دیتا ہے۔ امام شافعی نے اس کی ایک اور دوسرے طریقے سے وضاحت کی ہے اور وہ یہ کہ عورتوں کو مارنے کی اجازت تو دی گئی ہے لیکن اچھا یہ ہے کہ کہ انہیں نہ مارا جائے(ایضا)

ان کے ساتھ ہی صحیح بخاری نے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ شکایت تھی کہ وہ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں تو رسول اللہ نے انہیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ "کتنے شرم کی بات ہے کہ لوگ عورتوں کو مارتے بھی ہیں اور پھر ان سے مباشرت بھی کرنا چاہتے ہیں"۔ ۔ ۔

اس آیت میں در اصل میاں بیوی کے تعلقات کا سرے سے ذکر ہی نہیں بلکہ اس آیت میں اسلامی معاشرے میں عورت کی حیثیت اور مرتبے سے بحث کی گئی ہے جس لفظ یعنی "ضرب" کا ترجمہ "مارنا" کیا جاتا ہے، عربی زبان میں اس کے متعدد معنی ہیں اور جب کسی لفظ کے متعدد معنی ہوں تو سیاق و سباق کے مطابق اس کا وہ معنی اختیار کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ مناسب ہو۔ 

عربی زبان کے مشہور ماہر لغت سید مرتضی الحسن الزبیری نے لفظ "ضرب" کے کئی معنی بیان کئے ہیں اور فرمایا کہ جب اس لفظ کو قانونی مفہوم میں استعمال کیا جائے تو اس کا استعمال یوں ہوگا۔ ۔ ۔
ضرب القاضی علی یدہ ای حجرہ

ترجمہ: " قاضی نے اس کے باتھ پر مارا، یعنی اسے روکا"۔ ۔ ۔ ۔

تو دوستو ذہن نشین رہے کہ اس آیت میں "ضرب" کے معنی محض روکنے کے ہیں، اس معنی کی رو سے سورت النساء کی  آیت نمبر ۱۶ کے معنی یہ ہونگے۔ ۔ ۔

ترجمہ :" اور جب عورتوں سے تمہیں فحاشی کا خطرہ ہو تو تم انہیں تنبیہ کرو اور انہیں ان کے بستروں میں اکیلا چھوڑ دو اور انہیں گھر سے باہر جانے سے روک دو"۔۔۔۔۔۔

خیال رہے کہ یہاں گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگانے کو سزا قرار دیا گیا ہے، کیونکہ عام حالات میں عورتوں اور مردوں کو گھروں سے نکلنے کی کامل آزادی ہے، لیکن ان کا یہ نہ نکلنا کسی کام کے لئے ہو۔ اس بارے میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے لئے ایک ہی قسم کے احکامات ہیں کہ جب وہ اپنے گھروں سے کام کاج کے لئے جائیں تو اپنی نظروں کو نیچا رکھیں۔ لیکن ہمارے ہاں عام طور پر پردے کا یہ غلط مفہوم لیا جاتا ہے کہ عورتوں کو گھروں میں بند کیا جائے، حالانکہ قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق انہیں گھروں میں بند کرکے رکھنا ایک سزا ہے اور یہ سزا انہیں اس وقت دی جائے گی جبکہ وہ کسی معاملے میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں۔ ۔ ۔ ۔

مختصر یہ کہ دین اسلام اور اس کی شریعت  میں کسی “  مرد “  کو ہرگز یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی  کو مارے پیٹے۔ ۔

قران پاک میں سورہ النسا کی آیت ۱۶ کے مطابق اگر مردوں یا عورتوں میں سے کوئی بھی فحاشی کا ارتکاب کرے تو اسلامی معاشرہ انہیں مناسب سزا دے سکتا ہے یعنی دونوں کو سزا ملے گی، صرف عورت کو سزا دینا قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلامی نظریاتی کونسل ہو یا کسی اور ملاں مولوی کا بیان ۔۔۔ لللہ اپنے خداوند متعال پر یقین رکھئے ۔۔۔ اسلام دنیا کا جدید ترین دین ہے جو رحمت ، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ جو عورت اور مرد کو ایک جنس کے طور پر نہیں بلکہ اس کے تقوی اور مختلف امور پر بہتر صلاحیتوں پر ایک دوسرے پر  برتری دیتا ہے ۔۔ عورتوں کو چاہیئے کہ  جہالت اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور ایسے انسانیت سوز بیانات پر احتجاج کریں اور مردوں کے کسی بھی  رشتے میں ظلم سہنے سے انکار کر دیں ۔۔ اور یہ جرات اور بہادری صرف اسی وقت ممکن ہے جب عورتیں اپنے مقام کو اپنی تعلیم اور علم کی روشنی میں پہچانیں ۔ 

لعنت ہے ایسی حکومتوں پر جو صرف اقتدار کے لیئے ، اپنی کرسی مضبوط رکھنے کے لیئے، اپنے مکروہ دھندوں کو جاری رکھنے کے لیئے، اپنی بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیئے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیئے سیاسی جماعتوں سے سمجھوتے کرتے ہیں اور پھر سیاسی سودے بازی میں ملا شیرانی جئیسے لوگوں کو ایسے اہم مناصب پر فائز کر دیتے ہیں۔ ایسے حکمران اللہ، اسکے رسول، اسکی کتاب اور اسکے دستور کو آفاق میں بدنام کرنے والے ہیں۔

جس بیٹی کے لیئے اللہ کے رسول تعظیم کی خاطر اٹھ کھڑے ہو تے تھے مجھے یقین ہے کہ روز محشر وہ سیدہ طاہرہ بیٹی ایسے مکروہ لوگوں کا گریبان پکڑ کر ضرور پوچھیں گی کہ تم نے ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی مثال عورت کو بس اسی جہالت کی نظر سے دیکھا ہے؟ تمہارا ٹھکانہ جہنم سے بھی بدتر مقام ہوتا لیکن اللہ رحمان ہے اسکے پاس اس سے بدتر مقام نہیں ہے۔۔

(اس مضمون کی تیاری کے لیئے انٹرنیٹ کے مضامین اور قران پاک کی سورہ النساء کے ترجمے اور تفسیر سے مدد لی گئی )

:دیگر مضامین
(20.05.2016) شہوت کا بےلگام گھوڑا ۔۔ یہ ہے آج کے مسلمان مرد کا چہرہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(13.05.2016) اردو شاعری کیا صرف عروض کا نام ہے۔از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(29.03.2016) تازہ غم ۔۔۔ تازہ کالم ۔۔۔۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی 
(15.03.2016) کردار سازی کیوں اور کیسے ممکن ہے ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(08.03.2016) معاشرہ امیر کو عزت کی نگاہ اور غریب کو حقارت سے کیوں دیکھتا ہے؟از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.01.2016) صدیوں بعد بھی نہ ہم بدلے اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔ از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.01.2016) مجھے اس برس شجر ثمر بار بننا ہے ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.12.2015) میرے خدا یہ ترے کرم کی نشانی ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(29.11.2015) ہائے میری غمگسار ، خبر گیر ، دلدار ماں‌۔۔۔۔۔۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(15.11.2015) خوشبو ؤں کے دیس میں خون و بارود کی بارش ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(06.11.2015) گوگو گا گے گا ، اتنا بھاگے گا ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(25.10.2015) نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اتحاد کی علامت ہیں۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.10.2015) بچے ، والدین اور اساتذہ ایک تکون ہیں ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(02.10.2015) رسول اور آل رسول پر گفتگو تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(30.09.2015) نفس کی سازش ۔۔۔اپنا محاسبہ نہیں کرنے دیتی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(25.09.2015) قوم میں کاہلی اور سستی کے معاشرے پر اثرات ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.09.2015) سوال یہ ہے کہ محبت کیا ہے ۔۔ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.09.2015) کیا شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینا مغرب کی زمیداری ہے۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.09.2015) بچوں اور ماں باپ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(28.08.2015)  ہماری نجات اجتماعی توبہ میں ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں