باجی نے بہت دلیل سے اُس آیت پر بات کی ہے ، میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ آیت بہت ہی آسان ہے بلکہ آپ یہ الفاظ دیکھیں ٱلرِّجَالُ قَوَّٲمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ
رجال یعنی مرد ، قوامون یعنی قوی (جسمانی طاقت رکھنے والے کو قوی کہتے ہیں ) علی النساء یعنی عورتوں سے ، آسان سا ترجمہ ہے مرد جسمانی طور پر عورتوں سے طاقتور ہوتے ہیں ، اس میں کون سی دو رائے ہیں ؟؟
اور آگے دیکھیے بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ۬
ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ، یعنی یہاں جملہ پھر مرد عورت پر آ گیا کہ کوئی مرد برتر ہے کوئی عورت برتر
وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٲلِهِمۡۚ اور جنہوں نے اپنے مال خرچ کیے
بس اتنا ہی سب کو سمجھ آ جائے تو کیا بات ہے ، یہاں مال کمانے کا نہیں خرچ کرنے کا ذکر ہے ، تو کمائی چاہے عورت کی ہو یا مرد کی ۔ ۔۔ ایک دوسرے پر خرچ ہوئی
باقی نیک عورتیں اپنی نگرانی کرتی ہیں جب مرد نہیں ہوتا ، یہاں تو یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ عورت بنا مرد کے کہیں بھی ہو اپنی حفاظت کرے ، لفظ بیت یا گھر کہیں نہیں آیا ۔ ۔ ۔۔ کہ گھر میں ہی اپنی حفاظت کرے تو پھریہ ملا کون سا اسلام یا قرآن پڑھ کر ہمیں بتا رہا ہے ؟
وجہ صاف ظاہر ہے ، کہ ہم خود سے قرآن نہیں پڑھتے ، ہمیں مولوی چاہیے ، جو ہمارے لیے قرآن پڑھے اور اسکا ترجمہ اپنی مرضی سے بتائے
میں نے ایک آسان سی آیت کا ترجمہ بیان کیا ہے ۔۔ ۔ ذرا خود پڑھیں ، عربی کی لغت اُٹھائیں ۔ ۔۔ لفظ بہ لفظ پڑھتے چلے جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ بقول اقبال
مجاہد کی اذاں اور ، مُلا کی اذاں اور
Dr. Nighat Naseem
29.05.2016,
سرور غزالی
بہت جامع اور مدلل مضمون ہے ۔اس غیر اسلامی نظریاتی کونسل کا خاتمہ ہونا چاہئیے۔
کیا آج کا باشعور پڑھا لکھا انسان ان جاہلوں کا محتاج ہے کہ وہ بتائیں کہ اسلام کیا ہے۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں