وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ معیشت مستحکم اور شرح نمو 8سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے وزیرخزانہ کو کھاد کی قیمتیں کم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
لندن سے وڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے صحت کے مسائل کا سامنا ہے جس کیلئے لندن آنا پڑا ، ڈاکٹروں نے آپریشن ضروری قرار دیا ہے ، قوم میرے لیے دعاکر رہی ہے ، یہی دعائیں ہی میرا اثاثہ ہیں ، نیک پیغامات پر سیاسی جماعتوں کے قائدین کا بھی مشکور ہوں ، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں ،میں کابینہ کے ساتھیوں کی دعاؤں اور نیک خواہشات کا شکرگزارہوں ۔
انہوں نے کہا کہ جون 2013 ءمیں حکومت سنبھالی تو معیشت کی صورت حال انتہائی کمزور تھی،سرمایہ کاری میں مسلسل کمی کا سامنا تھا،صنعتیں تباہ تھیں ، معاشی مسائل سےنبرد آزما ہونے کے لیے پالیسیاں تشکیل دیں ، افراط زر تین فیصد سے کم ہوگیا ہے،سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے،تین سال بعد محنت کاثمر حاصل کر رہے ہیں،غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر آج 21اعشاریہ 6ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ کھاد کی قیمتیں کم کرنے کے لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے کہوں گا کہ کاشت کاروں کے لیے یوریا کی قیمتیں قابل ذکر حد تک کم کی جائیں،پیٹ کاٹ کر بھی کسان کی مشکل دور کرنا پڑی تو کریں گے ،وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی مالیاتی معاشی امورسےمتعلق انتھک محنت پرمبارکباددیتاہوں،میرا لہو اور ایک ایک سانس وطن کی مٹی کا قرض اداکرتی رہے گی،اللہ کا شکر ہے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، زرعی شعبہ کاٹن کی فصل کی وجہ سے ہدف حاصل نہ کر سکا ، زرعی اہداف پورے کرنے سے جی ڈی پی حاصل کرلیتے۔
بجٹ تجاویز کی منظوری کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنی مرضی سے یہاں نہیں آیا علاج کے لیے آیا ہوں،میں ٹھیک ہوں ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو بہت زیادہ تنگ کر رہا ہو، کابینہ کے بجٹ اجلاس سے ایک دن پہلے اخباروں کی سرخیاں لگی ہوتی ہیں،سندھ اور کے پی وزیراعلیٰ نےمیرے لیے اچھے کلمات کہے، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اورگورنر خیبر پختونخوا کے الفاظ پر بھی شکر گزارہوں۔
اس سے قبل انہوں نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے 1675ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری بھی دی ۔