16.10.2026, 01:07pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
  تصویر میں خبر

مشقوں میں شرکت,روسی فوجی پاکستان پہنچ گئے



 
مضامین/تجزیات
 

زلزلے کیوں آتے ہیں  ۔از:‌ڈاکٹر جہاں آراءلطفی ۔ پاکستان 
03.06.2016, 01:01am , جمہ (GMT+1)

۵۲ اکتوبر کو آنے والے زلزلے نے سب کو ہلا کر رکھدیا ہے ۔ اچانک آنے والی اس قیامت صغری نے حساس لوگوں کو جھنجوڑ کر رکھدیا ہے،یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خوف خدا ہیں ۔خوف خدا ہے ، چنانچہ اخبارات میںایسے ہی ”الوالباب“نے ان نشانیوں کو پہچان لینے کے بعد ”امر بالمعروف اورنہی عن المنکر “ کی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے مضامین تحریر کیے اور قوم کو آگاہ کیا کہ معصیت کے کاموں کو ترک کردیں ، توبہ استغفار کریں ، زکواة ،صدقہ ،خیرات کا اہتمام کریں اور نیکی کو اپنائیں تاکہ اللہ تعالی کے غیض و غضب سے بچنے کے اسباب ہوں اور اللہ تبارک تعالی کا غصہ ٹھنڈا ہو۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر فعال ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریروں کے ذریعے ان اسباب و اعمال کی طرف توجہ دلائی جن کے ارتکاب کے نتیجے میں قوم پر آسمانی وزمینی آفات نازل ہوتی ہیں ۔مگر ہوا وہی جو دور جاہلیت کا انداز ہوتا ہے ،یعنی یہ کہ عقلمندوں نے پیغام سمجھ لیا مگر وارثان ِ ابوجہل و ابو لہب اپنی بات پر اڑے رہے اور میں نہ مانوں میں نہ مانوں کی رٹ لگاتے رہے ، یہ خود تو گمراہ ہیں ہی مگر ظلم یہ ہے کہ سادہ لوح لوگوں کو گمراہی کی جانب دھکیلنے میں یہود و نصاری اور مشرکین و کفار کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔ 
بقول شاعر
         گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے 

  قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی نا فرمانی ،ظلم بربریت، نا انصافی ، سود خوری ، زنا ، حق تلفی اور فحش اعمال کے نتیجے میں سخت عذاب اور زمینی و آسمانی آفات کے ذریعے تباہی بربادی اور ہلاکتوں کا واضح ذکر ہے یعنی اشاروںو کنایوں میں نہیں بلکہ کھلے اور 
روشن الفاظ میں ہر بات بیان کی گئی ہے ،یہاں چند آیات دی جارہی ہیں جو آنکھیں کھولنے کوکافی ہوسکتی ہیں بشرطیکہ ہم عبرت پکڑنے پر تیار ہوں ۔اللہ تعالی فرماتا ہے، ”جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں ان کو کھاﺅ اور اس میں حد سے نہ نکلنا ، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا ،اور جس پر میرا غضب نازل ہوگیا وہ ہلاک ہوگیا ۔“(سورہ طہ :۱۸)

  یعنی اللہ تعالی کی نعمتوں کا استعمال کرنا اور ان سے فائدے اٹھانا گناہ نہیں بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی حدود کو پار کرنا گنا ہ ہے۔اور جب بندہ ان حدوں کو پار کرلیتا ہے تو گویا اللہ کے غیض و غضب کو دعوت دیتا ہے۔اور حد کو پار کرنے کے بعدبجائے شرمندگی کے ڈھٹائی دکھانا اس کے عذاب کو اپنے اوپر لازم کرلینا ہے، سو جب یہ عذاب زمینی یا آسمانی شکل میں آتے ہیں تو پھر کہیں جاکر ہوش آتا ہے اور وہ بھی ایسے لوگوں کو جنہیں اس بات کی توفیق مل جائے ورنہ تو یہ توفیق بھی کسی کسی کو ملتی ہے۔قرآن کریم مین ارشاد باری تعالی ہے ۔۔
  ”خشکی اور تری میں لوگوں کے اعما ل کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ۔ ہو سکتا ہے اسطرح وہ بعض آجائیں (الروم:۱۴)

 یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ جس جگہ کے خوشحال باشندے بے راہ روی کا شکار ہوجائیں وہاں ایک خا ص مہلت کے بعد اللہ کا عذاب مختلف شکلوں میں نازل ہونے لگتا ہے، اللہ تعالی نے اس حقیقت کو خوب کھول کھول کر بیان فرمایا ہے جیساکہ ان آیات میں بالکل واضح سمجھ میں آرہا ہے کہ ہمیں کس حقیقت سے خبردار کیا جارہا ہے ۔ملاحظہ ہو ۔۔
 ” اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ (خوش حال)لوگوں کومامورکردیا کہ وہ اس میں فسق و فجور پھیلاتے رہے پھر ان پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا ۔ اور ہم نے انہیں ہلاک کرڈالا۔(بنی اسرآئیل:۶۱)

 اللہ تعالی نے جو پیغام اپنے نبیوں اور پیغمبروں کے ذریعے اپنے بندوں تک پہنچایا، اس کو کھلی نشانیاں کا نام دیتے ہیں ، ہمارے پاس اللہ کی یہ کھلی نشانیاں قرآن کی صورت میںموجود ہیںمگر ہماری بد بختی ہے کہ ہم اس با برکت کتاب کو مرنے کے بعد پڑھوانے اور ایصال ثواب کےلئے مخصوص کر بیٹھے ہیں ، یعنی جو چیز زندگی کو نفع پہنچانے و الی چیز ہے اسے زندگی ختم ہونے کے بعد استعمال کرنا کیسے نفع بخش ہوسکتا ہے۔پھر جو پیغام سمجھنے اور عمل کرنے کا ہے اس کو طوطے کی طرح رٹنے اور رٹانے پر ہی تکیہ کرکے بیٹھ جانے سے اسکا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

ایمان کا اظہار عمل سے ہوتا ہے،اللہ کے ہاںعمل ہی کا رتبہ ہے عمل ہی کا بدلہ ہے، فمن یعمل مثقال ذرة خیر یرہ و من یعمل مثقال ذرة شر یرہ ،خلق الموت و الحیاة لیبلوکم ایکم احسن عملا،  میںاور اسی طرح بہت سی دیگر آیات میں یہی تو بتایا جارہاہے، یہی تو سمجھایا جارہا ہے ۔ اور جب اس کے بندے اپنے عمل کوتاہی برتتے ہیں ،صراط مستقیم سے بھٹک جاتے ہیں، گمراہ ہو جاتے ہیںاوراس اپنے سیاہ کرتوتوں پر گھمنڈ غرور اور تکبر کی کو بھی اختیار کرلیتے ہیں تو ان کی پکڑ کا وقت آجاتا ہے ۔سورة یونس میں ارشاد باری تعالی ہے،
   ”اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے ہم گناہگاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں ۔“(یونس :۳۱)

   آج اللہ کی یہ کھلی نشانیاں پہلے کی طرح گھر کے ایک کونے میں خوبصورت غلاف میں لپٹی ہوئی نہیں رہیں بلکہ جدید ٹکنالوجی نے ہر جگہ ،ہر وقت، ہر ہاتھ میں بڑی سہولت کے ساتھ مہیا کردیا ہے ، اور یہ اللہ تعالی کے اس وعدے کے عین مطابق ہے جو اس نے اپنے بندوں سے کیا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے بندوں تک اپنے پیغام کو پوری طرح پہنچا دیتا ہے اور انکی پکڑ اسوقت کرتا ہے جب انکو پیغام پہنچ جائے اور اس پر عمل کی خوب مہلت بھی مل جائے ،تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں کچھ علم نہ تھا۔ یہ بات اللہ تعالی نے بہت سی آیات میں بیان فرما دی ہے،یہاں دو آیتوں کا حوالہ دیا جارہا ہے۔سورة یونس میں ہے۔۔
   ”اور ہر ایک امت کے لئے ایک رسول ہوتا ہے، سو جب انکے پاس ان کا رسول آچکتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا ۔(یونس:۷۴)
  ”سب پیغمبروں کو (اللہ نے) خوشخبری سنانے والے اورڈرانے والے بنا کر بھیجا تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو اللہ پر کسی قسم حجت کا موقع نہ رہے۔ اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔“(النساء:۵۶۱)

  ذرا بتایئے آج کون ایسا ہے جو اللہ کے اس پیغام سے بے خبر ہو۔ قرآن کریم کے تقریباًہر زبا ن میں تراجم ،کتابی صورت میں ، آڈیو ز اور ویڈیو ز،سی ڈیز میں نیز کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ اور موبائیل میں غرض یہ کہ ہر شکل میں موجود ہیں ، انتہائی معمولی ہدیہ اور بسا اوقات کسی ہدیے کے بغیر دستیاب ہیں ۔ کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کوئی قلت نہیںجب چاہیں ، جہاں چاہیں ، جیسے چاہیں استفادہ کریں ۔ سو اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے دور کے مسلمانوں کا حساب کتاب زیادہ سخت ہوگا ،دنیا اور آخرت دونوں اعتبار سے پکڑ زیادہ شدید ہوگی ۔ذرا اس معاملے پر ہی غور کیجیے کہ اللہ نے ہمیں اپنی زمین یعنی پاکستان میں آباد کیااور اپنی نعمتوں کو ہم پر تمام کیا ، کیا نہیں ہے اپنے وطن میں کس چیز کی کمی ہے !کمی ہے توہم میں ہے کہ ہم نے اس ارض پاک کی ناقدری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ایسے ہی ناشکروں کا ذکر دیکھیے اللہ تعالی کسطرح مثال کے ذریعے کرتا ہے ۔۔
  ” اور اللہ ایک آبادی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ وہ(ہر طرح) امن و چین سے آبا د تھی ۔ہر طرف سے رزق با فراغت چلا آتا تھا ۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر مزہ چکھا دیا۔“ (النحل:۲۱۱)

   جسطرف نگاہ اٹھائیے بدعنوانی ، نا انصافی، جھوٹ، مکر وفریب ، دھاندلی ، رشوت ستانی ، دھوکے بازی کے بازار گرم ہیں ، دین ایما ن کو بیچنے میں عار محسوس نہیں کیجاتی۔چالاکی کو ذہانت، مکر و فریب کوعقلمندی ، فحاشی اور بے حیائی کو ترقی، ناپاکی گندگی اورغلاظت کوفقیری ،جہالت وحماقت کو سادگی، سود خوری و منافع خوری کو تجارت ، قتل و غارتگری کو جہاد جبکہ درغ گوئی ،اورحق تلفی و ناانصافی کے ذریعے شان شوکت و مال و دولت کمانے کو سیاست کا نام دیکر دن و رات اللہ تعالی کی نافرمانیوں میں لگے ہوئے ہیں اور پھر بضد ہیں اے اللہ ! ہم تو تیرے رسول کے امتی ہیں ،ارے ہم پر ظلم کے یہ پہاڑ ! یہ کیا ماجرا ہے؟ اللہ تعالی فرماتا ہے۔۔
   ”اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں تاکہ (لوگوں کو) بے علمی ساتھ اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں اور اس سے ہنسی اڑائیں یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔“(لقمان : ۶)
  مزید فرمایا۔ 
  ”جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ، انکو دنیا و آخرت دونوں میں دردناک عذاب ہوگا اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔“(النور:۹۱)

  اللہ تعالی قرآن کریم میں بار بار گناہوں کو ترک کرکے کا حکم دیتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ اور اس حکم کو نظر انداز کرنے والوں کو دنیا وآخرت دونوں میں درد ناک عذاب کی وعید سنا تا ہے ۔بڑی عجیب بات یہ ہے کہ آج کل لوگ اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں بھئی برائی پردے میں ہے ، ڈھکی رہنے دو کھولوگے تو تعفن ہوگا اس لئے بہتر ہے نہ کھولو، کوئی فتوی دیتا ہے ،تجسس کرنا گناہ ہوتا ہے کیوں کسی کے بارے میں کھوج لگاتے ہو کرنے دو جو کر رہا سزا خود ہی بھگتے گا۔ ایسے سر پھرے بھی ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو ایسی چیزوں کو جدید تہذیب و ثقافت کے زمرے میں ڈال کر اپنی گمراہی کو ترقی کا نام دیکر خوش ہو جاتے ہیں یوںاس وطیرے کو اپنا کر مجرموں کو دلیر اور طاقتور بنانے میں اپنا گھناونا کردار اد اکرنے سے باز نہیں آتے، گناہوں سے صرف نظر کرنے کی اجازت اسلام میں کہیں نظر نہیں آتی یہ بہت بڑا مغالطہ ہے جو عام لوگوں کو اسلام کے بارے میں ہے ،کیونکہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی نے بڑے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں ،سورة فرقان میں ہے۔۔
  ترجمہ: ”کیا تم نے ان بد بختوں کو دیکھا ، جنہوں نے اپنے نفس کی خواہشات کواپنا معبود بنا لیا ہے۔“ 
 
 سورة القصص میں ارشاد باری ہے ۔۔
  ترجمہ: ”جو شخص اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنے جی کی چاہت پر چلے ۔اس سے زیادہ گمراہ اور غلط کون ہوسکتا ہے، اللہ ظالم لوگوں کو اپنی راہ پر نہیںلگاتا ۔“
  قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں قسموں کے گناہوں کو ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے،کیونکہ گناہ کرنا ہی باعث عذاب ہے دنیا و آخرت دونوں جگہ اسکی سزا پانے کا ذکر ہے۔جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے۔۔
  ”اور ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کا گناہ ترک کردو کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ اپنے کئے کی سزا عنقریب بھگت لیں گے۔“ (الانعام:۱۲۰)

  جب اللہ کے بندے گناہوں کو کرنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتے بلکہ گناہوں کے ارتکاب میں نہ صرف دلیربلکہ دیدہ دلیر ہوجاتے ہیں اللہ کا کو ڑا برس کے رہتا ہے قرآن کریم میں جو واقعات سنائے گئے ہیں ان کا مقصد محض ہماری معلومات مین اضافہ نہیں بلکہ یہ ہماری لئے درس عبرت کے طور پر نازل کئے گئے ہیں ۔ جن قوموںکو اللہ نے عذاب دیا ان کے بارے میں یہ بتا دیا گیا کہ ان کو وہ عذاب کیوں ، کیسے اور کتنا دیا گیا ، ملاحظہ ہو ںیہ آیات جن میں اللہ نے اپنے عذاب کا ذکر فرمایا ہے۔
 ترجمہ ”کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں کہ جن پر ہمارا عذاب آیا جبکہ وہ سوتے تھے یا دن کو جب وہ قیلولہ کرتے تھے۔“ (الاعراف:۴)
 ترجمہ: ”کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے انکا انجام کیا ہواحالانکہ وہ ان سے قوت میں  بہت زیادہ تھے اور اللہ ایسا نہیں کہ زمیں میں کوئی چیز اسکو عاجز کر سکے وہ علم رکھنے والا ہے ۔“(فاطر :۴۴)

   جب بھی سیلاب ، زلزلہ ، ہواوں کے طوفان ، قحط سالی اورموذی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں، ان کو برا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں چنانچہ ٹی۔وی ،ریڈیواور سوشل میڈیا پر لوگ کہتے پائے جاتے ہیں کہ 
 ان آفات کا بے جگری سے مقابلہ کیا جائے 
پوری قوم ان کے سامنے ڈٹ جائے 
سیلاب نے اتنے افراد کو نگل لیا ، یااتنے لوگ طوفان کی بے رحم موجوں نے نگل لیے۔
 طوفانی بارش نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردیں۔
قیامت خیز زلزلے نے اتنے گاو ¿ں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے ۔

 یعنی کوئی شرمندگی نہیں کوئی عبرت نہیں کوئی احساس نہیں بجائے اس کے الٹا انہی پر لعن طعن ، جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پتہ بھی نہیں ہلتا مگر اللہ کی مرضی سے۔حالیہ زلزلے میں یوں تو تقریباً سبھی چینلزپر روٹین کے پروگرام جاری و ساری رہے ، کیونکہ جانی نقصان کم ہوا اس لئے اللہ تعالی کی وارننگ کوبہت ہلکا لیا گیا ،انہی دنوں کئی چینلز سے ایسے پروگرام بھی پیش کیے گئے جن پر جب نظر پڑی رونگھٹے کھڑے ہوگئے  ۔۔ مثلا
ایک چینل سے ایک شاعرجناب وصی شاہ پروگرام کر رہے تھے، جس میں الماس بوبی نامی ایک مخنث بھی شریک تھا جو مکمل عورت کا گیٹ اپ کرتا ہے اور کئی گلوکارائیں اپنے فن کا لوہا منوانے کےلئے شریک تھیں ، اگر یہ بے ہودگی یہیں تک رہتی تو شاید دل غم و غصے سے اتنا بھر نہ جاتا کہ یہ سب ایک ہی سطح کے لوگ ہیں اور ایک ہی سی حرکتیں کر رہے ہیں ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ ایک عالم دین اورجناب مفتی عبدالقوی بھی اس پروگرام میں بیٹھے تھے اورجو نازیبا اور ناشائستہ حرکات یہ سب لوگ مل کر موصوف شاعر کی سرپرستی میں کر رہے تھے ان کو دیکھ کر یہ آیت یاد آگئی ، مفتی صاحب بھی نوٹ کرلیں۔۔
  ترجمہ: ”اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں ، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ(شاعر) ہر بیابان میں سرٹکراتے پھرتے ہیں ، اور وہ جو کچھ کہتے ہیں کرتے نہیں ۔“(الشعرائ: ۴۲۲تا ۶۲۲)

  ان مفتی صاحب نے کچھ عرصہ پیشتر” وینا ملک“ کو ایک چینل کے توسط سے بے حیائی ترک کرنے کی تلقین بھی کی تھی ۔اللہ تعالی فرماتا ہے۔۔
  ”کیا تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوحالانکہ تم کتب بھی پڑھتے ہو۔“ 
 بقول شاعر،
   تُع ´صِی الاِ لہَ وَ اَن ´تَ تَظ ´ہِرُ حُبَّہُ   ھَذَا لَعُم ´رِی فِی اَلقِیاسِ بَدِیعُ
    لَو کَانَ حُبُّکَ صَادِقَاً لَا طَع ´تَہُ   اَنَّ اَل ´مُحِبُّ لِمَن ´ یُحِّبُ مُطِیعُ
  ترجمہ:یعنی اے محبت کے جھوٹے دعویدار ،تو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اسکی محبت کا دعوی کرتا ، جبکہ اس قیاس کے اعتبار سے یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے ،کیونکہ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو اسکی فرمانبرداری کرتا ، کیونکہ ہر محبت کرنے والا اپنے محبوب کامطیع و فرمانبردارہوتا ہے۔ 

   سچ تویہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے اس امر کا تقاضا ہے کہ اپنے تمام کاموں میں اس کام کو ترجیحات شامل کریں ۔۔
   ”حضرت حذیفہ ؓسے روایت ہے کہ رسول ا للہ ﷺنے فرمایا : قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم پر لازم ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے رہو (اگر نہیں کروگے تو) پھر ایسا ہوگا کہ اللہ اپنی طر ف سے کوئی عذاب تم پر بھیج دیگا ، سو پھر تم اس سے دعائیں کروگے تو وہ قبو ل نہیں ہونگی۔“(جامع ترمذی )

  ”حضرت جریر ؓبن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی قوم میں کوئی آدمی ہوجو گناہ و معصیت کے کاموں کو انجام دیتا ہو اوراس قوم کے لوگ ایسے ہوں کہ اس بات کی قدرت رکھتے ہوں کہ اسکی اصلاح کردیں اور اسکے باوجود وہ اصلاح نہ کریں ،تو ان لوگوں کو اللہ تعالی مرنے سے پہلے کسی عذاب میں مبتلا فرمائے گا ۔ “(سنن ابی داود، ابن ماجہ)

  حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا، ”اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو ! جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رب ، اس شہر میں تیرا فلاں بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے برابر بھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالی کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے سمیت سب پر الٹ دو ، کیو نکہ ایک گھڑی کے لئے بھی میری خاطر(ان معصیت کے کاموں پر) اس بندے کا چہرہ متغیر نہ ہوا۔(شعب الایمان)
 
   سورة الواقعة آیت نمبر ۴ میں اللہ تعالی فرماتا ہے، ”اِذَارُجَّتِ الاَرض ُرَجَّاً “ اس کا ترجمہ کیا جا تا ہے کہ،” جب زمین ہلادی جائے گی “ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالی قیامت کا نقشہ کھینچا ہے، لیکن جس غور وفکر کا اللہ تعالی ہمیں حکم دیتا ہے اس کے مطابق ہم اس کا ترجمہ یوں بھی کریںکہ ”جب زمین ہلا دی گئی “تو سورہ الواقعہ کی آیات نمبر ایک تا چھہ دنیا میں آنے والے زلزلوں کی جانب بھی اشارہ کرتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں ،آیئے ایک مرتبہ ان آیات کو دھرالیں ۔۔
   جب واقع ہونے والی واقع ہو جائے [۱]اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں [۲]کسی کو پست کرے کسی کو بلند[۳]جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے[۴] اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں [۵]پھر غبارہوکر اڑنے لگیں [۶] 

  حالیہ زلزلے کی اور ۸۰۰۲ ءمیں آنے والے زلزلے کی ویڈیوز دیکھیے ، بلکہ دنیا میں آنے والے زلزلوں کی ویڈیوزدیکھیے انہیں دیکھ کر ان آیا ت کے یہ معانی بھی ضرور سمجھ میں آیئں گے۔اللہ تعالی عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فر مائیں۔آمین 


:دیگر مضامین
(31.05.2016) دل کے پھپھولے جل اُٹھے۔۔۔ از ؛ شاہد جمیل احمد 
(31.05.2016) گوادر، چاہ بہار کی ضرورت کیوں؟ اسرار بخاری
(27.05.2016) ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا سودا: امریکہ کی ہارس ٹریڈنگ
(25.05.2016) ملا اختر منصور کی موت اور پاک امریکہ تعلقات پر اثرات
(18.05.2016) ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا سودا: امریکہ کی ہارس ٹریڈنگ
(10.05.2016) حلب کب تک تباہی برداشت کر سکتا ہے؟ عبدالرحمان الراشد
(09.05.2016) بس ڈرائیور کا پاکستانی بیٹا " لندن کا میئر "ترکی الدخیل
(05.05.2016) ''معیارتعلیم ''' بنائیں گے'''مفت تعلیم '' کے نام پر۔از:‌محمدثقلین رضا
(03.05.2016) آر وی دی نیشن آف ایدھی؟؟؟؟۔از:‌شبیر احمد ، لاہور ، پاکستان 
(01.05.2016) مزدوروں کے عالمی دن پر  بھی مزدوروں کو مزدوری کرنی پڑتی ہے 
(29.04.2016) رینجرزمجرموں اور پولیس پیسے کے پیچھے ۔از:‌پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
(28.04.2016) پانامہ لیکس کے پیچھے کون ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے
(22.04.2016) صدر اوباما کے دورے سے ایران کو فائدہ پہنچے گا!
(20.04.2016) اوباما ایک مختلف سعودی عرب کا دورہ کیوں کررہے ہیں؟
(18.04.2016)  چھوٹو گینگ اور جنوبی پنجاب کے ڈیرے ۔۔۔ از؛ محمدثقلین رضا‎ 
(15.04.2016) کیا پاناما پیپرز کامیاب اور روایتی میڈیا ناکام ہوا؟
(13.04.2016) میچ کا آنکھوں دیکھا حال،  ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ۔از؛ شاہ خالد ۔ سوات ، پاکستان
(12.04.2016) پانامہ لیکس اور اصل حکمرانی ۔۔۔۔ از؛ شبیر احمد ۔ لاہور ، پاکستان 
(01.04.2016) دلاسہ ہم کو دینے کا تماشہ خوب کرتے ہو.از؛ شبیر احمد ، لاہور ، پاکستان  
(24.03.2016) ایک ہی سکے کے دو رُخ ۔از؛ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی   
  مزید ++
  صفدر ھمٰدانی    
  مزید ++
  ماہ پارہ صفدر   
  مزید ++
  ڈاکٹر نگہت نسیم   
  مزید ++
  زرقا مفتی   
  مزید ++
  سیدہ زائرہ عابدی۰بجو   
  مزید ++
  محمد احمد ترازی   
  مزید ++
  محمد عظیم اعظم   
  مزید ++
  عالم آرا   
  مزید ++
  سیدہ رافیعہ گیلانی   
  مزید ++
  شاہین اشرف علی   
  مزید ++
  اظہرالحق نسیم   
  مزید ++
  فرخندہ رضوی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں