صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ جمہوری سسٹم میں اتنی مضبوطی پیدا ہوگئی کہ مختلف بحرانوں سے نمٹ سکے ، پائیدار ترقی جمہوریت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، ضرب عضب کےتمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے،خوشی ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کی سطح بہتر ہوئی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے معیشت کو استحکام ملے گا، اقتصادی راہداری کیلئے تن دہی سے کام کرنا ہوگا،اقتصادی راہداری سے مستفیذ ہونے کیلئےکئی ملکوں نے تیاری شروع کردی ہے۔
صدر مملکت نے پارلیمنٹ کے تین سال مکمل ہونے پر مبارکبا ددیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران جمہوریت کا سفر کامیابی سے جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط پاکستان کی تعمیر مضبوط معیشت سے ہی ممکن ہے ،معیشت کےاستحکام کیلئےپالیسیوں کا تسلسل جاری رہنا چاہیے، توانائی بحران کی ایک وجہ گیس ذخائر میں کمی بھی ہے ،بجلی کی پیداوار اورنظام تقسیم میں بہتری آرہی ہے ۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان اور قبائلی عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ،شہدا کےلیے یادگار تعمیر کی جائے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم پرعزم ہے۔
خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ہم پڑوسیوں کیساتھ مثبت اور بامعنی مذاکرات کے خواہشمند ہیں ، خطے کےمسائل کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا بھی ہے ، دنیا پر واضح کرتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد امن اور برابری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغان حکومت اور طالبان کےدرمیان مذاکرات میں معاونت کررہا ہے ، خطے میں امن و استحکام کیلئے افغانستان میں امن لازمی ہے ،پاکستان کی طرف سے بار بار مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں اس طرح پالیسیاں ترتیب دیں کہ ملک میں استحکام ہو، ضروری تھا کہ بجٹ خسارے میں کمی لائی جائے،ملک میں بجٹ خسارے میں کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ٹیکس سسٹم اور وصولی بہتر ہوئی ، معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانےکیلئےمزید اقدامات کرنا ہونگے، معاشی پالیسیویں میں اپوزیشن کی تنقید کا جائزہ لینا چاہیے، گزشتہ برسوں میں عوامی بہبود کے کئی منصوبے سامنے آئے۔
وزیر اعظم نواز شریف بیرون ملک علاج کے سبب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہیں آسکے، یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم مشترکہ اجلاس میں موجود نہیں ہیں ۔