وفاقی جرمن پارلیمان میں اُس علامتی قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا، جس میں پہلی عالمی جنگ کے دوران 1915ء میں سلطنتِ عثمانیہ کی افواج کے ہاتھوں 1.5 ملین آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو ’نسل کُشی‘ قرار دیا گیا ہے۔ آج ایک گھنٹے کی بحث کے بعد ہونے والی رائے شماری میں قرارداد کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے اسپیکر نوربرٹ لامرٹ نے کہا کہ صرف ایک رکن نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ ایک نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔
اس قرارداد کی منظوری کے بعد برلن اور انقرہ حکومتوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اپنے ابتدائی رد عمل میں انقرہ حکومت کے ایک ترجمان نے اس قراردا د کی منظوری کو ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک ترکی میں برسرِاقتدار آنے والی تمام حکومتیں اس قتلِ عام کے لیے ’نسل کُشی‘ کی اصطلاح کے استعمال کو سختی کے ساتھ رَد کرتی رہی ہیں۔