وزیر خزانہ اسحق ڈار نےمالی سال 2015-16ءکا اقتصادی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال میں معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ معاشی ترقی کا ہدف 5.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا جو 4.7 فیصد رہا۔ کپاس کی پیداوار میں 28 فیصد کمی ہوئی۔ جس سے معاشی نمو پر 0.5 فیصد اثر پڑا۔ اگر کپاس کی فصل کا نقصان نہ ہوتا تو معاشی نمو 5.1 فیصد رہتی۔ خدمات کے شعبے کی ترقی ہدف کے مطابق 5.7 فیصد رہی۔ مجموعی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 17.7 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 15.2 فیصد رہی۔ قومی بچت میں اضافے کی شرح 16.8 فیصد کے مقابلے میں 14.6 فیصد رہی۔ مہنگائی کی شرح 6 فیصد کے مقابلے میں ساڑھے تین فیصد رہی۔ فی کس سالانہ آمدنی ایک لاکھ 62 ہزار 569 روپے رہی۔ ہدف ایک لاکھ 67 ہزار 525 روپے تھا۔ شرح نمو 4.71 فیصد رہی۔ رواں سال بجلی کی پیداوار میں 12.18 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑی صنعتوں کی نمو 4.6 فیصد رہی جو پچھلے سال 3.29 تھی۔ کراچی میں امن و امان بہتر ہونے پر ہول سیل کے شعبے میں 4.57 فیصد اضافہ ہوا۔ مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کمی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ہول سیل میں نمو پچھلے سال 2.63 فیصد تھی۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی 13.10 فیصد رہی۔ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں 4.06 فیصد اضافہ ہوا۔
ریلوے اور پی آئی اے کی کارکردگی میں اضافہ ہوا۔ ریلوے کی کارکردگی میں 9 ماہ میں 13.87 فیصد ہوا۔ زرعی شعبے میں مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ اگلے مالی سال کیلئے معاشی شرح نمو 6.02 سے کم کر کے 5.7 فیصد کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں 4.06 فیصد اضافہ ہوا۔ زرعی شعبے پر 0.19 فیصد منفی اثر پڑا۔ دالوں اور پھلوں کی پیداوار بھی ہدف سے کم رہی۔ آئندہ بجٹ میں زرعی شعبے کی ترقی کیلئے پیکج دیں گے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے زرعی برآمدی شعبہ متاثر ہوا۔ دس ماہ میں 441 ارب روپے کے زرعی قرضے دیئے گئے۔ رواں سال مہنگائی کی شرح 3 فیصد کم رہنے کی توقع ہے، دس ماہ میں 18 ارب 18 کروڑ ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ دس ماہ میں 32 ارب 70 کروڑ ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ دالوں اور پھلوں کی پیداوار بھی ہدف سے کم رہی۔ دس ماہ میں ترسیلات زر 16 ارب 3 کروڑ ڈالر رہیں۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ سرمایہ کاری بجلی اور گیس کے شعبے میں ہوئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر 21.6 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 3 فیصد سے کم رہی۔ درآمدات میں 4.61 فیصد کمی حوصلہ افزائی ہے۔ سٹیٹ بنک کے پاس 16.8 ارب ڈالر اور بنکوں کے پاس 4.8 ارب ڈالر ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کے ساتھ روپے کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔
فی کس آمدنی 3 فیصد اضافے سے 1360.7 ڈالر رہی۔ موجودہ اہداف کے بعد ریونیو اور معاشی نمو پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ برآمدات کے شعبے میں ٹیکسوں کی چھوٹ دیں گے۔ اعلان بجٹ میں کیا جائے گا۔ رواں مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا ایک ارب 52 کروڑ ڈالر رہا۔ توانائی کے شعبے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 518 ملین ڈالر رہی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاری تیل اور گیس سیکٹر میں ہوئی۔ ملک میں غربت کی شرح میں کمی ہو رہی ہے۔ انکم سپورٹ پروگرام نے غربت کی شرح میں کمی کرنے میں مدد دی۔ انکم سپورٹ پروگرام سے 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کی مدد کی گئی۔ ٹیکس محاصل میں 8.4 فیصد اضافہ ہوا۔ دس ماہ میں محصولات کا حجم 3344 ارب روپے رہا۔ نو ماہ میں مجموعی اخراجات جی ڈی پی کا 19.4 فیصد رہا۔ سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی اچھی جا رہی ہے۔ انڈیکس میں 3 سال میں 46 فیصد اضافہ ہوا۔
2013ءمیں شرح سود 9 فیصد تھا، مانیٹری پالیسی سے شرح سود 5.75 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ سرمایہ کاری رواں سال 4 ہزار 502 ارب روپے رہی۔ سرمایہ کاری میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بے روزگاری کی شرح 5.9 فیصد رہی۔ رواں مالی سال ٹیکس وصولی کے ہدف میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ رواں سال 10 ماہ میں ایف بی آر نے 2365 ارب روپے جمع کئے ہیں۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا۔ ضرب عضب، کراچی میں بہتر امن کی وجہ سے کاروباری حالات بہتر ہوئے۔ سٹاک مارکیٹ 30 ہزار کی سطح سے تجاوز کرگئی ہے۔ رواں مالی سال 3 ہزار ایک سو ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ رواں مالی سال ٹیکس وصولی کے ہدف میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ دس ماہ میں درآمدات 32.75 ارب ڈالر رہی۔