اسلام آباد کی عدالت نے حج اسکینڈل کیس میں سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کو 16 سال قید کی سزا سنا دی۔سابق ڈی جی حج راؤ شکیل کو 40 سال قید اور آفتاب احمد کو 16 سال قید کی سزا سنا ئی گئی ۔
پاکستانی حاجیوں کے لیے کیے گئے انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے کا فیصلہ اسپیشل جج سینٹرل نذیر احمد نے سنایا تو تینوں ملزمان عدالت کے احاطے میں موجود تھے اور فیصلے کے بعد انھیں ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں۔
سابق وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی، سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور وزارت مذہبی امور کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری راجہ آفتاب السلام پر 2010 میں حج انتظامات میں قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام عائد ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حاجیوں کے لیے رہائش کے حصول میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سن 2010 میں پیپلز پارٹی دورِ حکومت میں سامنے آیا تھا اور ان افراد پر عازمین حج کے لیے مہنگے داموں کرائے پر عمارتیں حاصل کرنے کا الزام تھا۔
ابتدائی طور پر اس وقت کے حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمٰن گروپ) سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر ،اعظم سواتی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حج انتظامات میں بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا۔
حج انتظامات میں ہونے والے مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی نہ صرف ارکان پارلیمنٹ بلکہ سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی کی تھی۔
سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اُن کے پاس اس بدعنوانی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حج کے دوران 35000 پاکستانی حاجیوں کے لیے حرم سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر جو رہائش گاہیں 3350 سعودی ریال میں مل رہی تھیں ،وزارت حج کے اعلیٰ حکام نے حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر دور وہی رہائش گاہیں عازمین حج کے لیے 3600 ریال پر حاصل کی تھیں۔
اس خط پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر ہی شروع ہوئی تھی۔
اس مقدمے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی کے رکن عبدالقادر گیلانی سے بھی تحقیقات کی گئی تھیں۔