سابق صدر آصف زرداری نے وفاقی بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعدادوشمارمیں ہیرپھیرکی گئی،ٹیکس چوری روکنےکےلیےکچھ نہیں کیاگیا، بجٹ میں اہم مسائل کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
سابق صدرکاکہناہےکہ بجٹ زرعی شعبے میں انحطاط کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔سرکاری ملازمین کی مایوسی بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔بجٹ میں غریب ،امیرمیں فرق جیسےمسائل کےبارے میں بھی کچھ نہیں کیاگیا ۔
آصف زرداری نےدعویٰ کیاہےکہ جی ڈی پی تناسب، بیروزگاری ،افراط زر سے متعلق اعدادوشمار حکومت نے غلط بتائے اورحکومت نےبلوچستان اورکےپی میں بڑھتی مایوسی پر کچھ نہیں کہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت 28مئی 2015کی آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں سے مکر گئی ،فیصلہ ہوا تھا کہ راہداری کا مغربی روٹ ترجیحی بنیاد پربنایاجائے گا ۔زیادہ شرح پرفارن کرنسی بانڈزجاری کرنا معیشت کے لیے تباہ کن ہے۔ معیشت اورریونیو جمع کرنے میں بہتری جبکہ ٹیکس چوری روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاگیا۔
سابق صدرزرداری کاکہناہےکہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کے اندر اورباہربجٹ پر اپنی رائےدےگی۔
اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ مسترد کر دیا،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کہتے کہ ہیں ماضی کی کہانی جو پہلے3 سال سن چکےآج چوتھے سال بھی وہی سن لی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ حکومت نے انتظامی بجٹ پیش کیا، فلاحی نہیں،،آج کا بجٹ غریب عوام پر ڈرون حملہ ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے جھوٹے دعوے کے گئے، روایتی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں ۔
..................................
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 17-2016 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں کل اخراجات کا تخمینہ 43.9 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔
حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 5.7 فیصد مقرر کیا ہے جب کہ مالیاتی خسارے کو 3.8 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ وفاقی ملازمین کو یکم جولائی 2016 سے رننگ بیسک پر دس فیصد ایڈ ہاک ریلیف دیا جائے گا جب کہ 2013 اور 2014 کے ایڈ ہاک ریلیف کو بنیادی تنخوا میں شامل کیا جا رہا ہے۔
تنخواہوں میں اضافہ
بجٹ میں وفاقی ملازمین کی پنشنز میں 10 فیصد اضافہ کرنے جب کہ 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں توانائی کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ 130 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 32 ارب روپے جب کہ داسو ڈیم کے لیے 42 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جون 2018 تک نیشنل گرڈ میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی شامل ہو جائے گی۔
کم آمدن والے غریب خاندانوں کو نقد مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 115 ارب روپے مختص کیے جائیں گے اور فی خاندازن کو 18 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:اقتصادی سروے پیش، حکومت معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کامشاورتی اجلاس ہوا، جس میں بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اراکین اسمبلی کی تعداد کم رہی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ٹیکسوں کی وصولی میں 60 فیصد اضافہ ہوا جب کہ جون کے اختتام تک ٹیکسوں کی وصولی کا 3104 ارب روپے کا ہدف حاصل کر لیں گے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ گزشتہ 8 سال میں ترقی کا اوسط 4 فیصد رہا جبکہ اب یہ 4.7 فیصد ہو گیا ہے جو کہ 8 سال میں بلند ترین سطح ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دیہی علاقوں کو ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 4 نئے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں جس کے لیے 11 ارب 94 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کیے بغیر مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا، حکومت نے گذشتہ مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ 348 ارب روپے سے بڑھا کر 661 ارب روپے کیا تھا، جبکہ مالی سال 17-2016 میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 800 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔