سولہ مئی ہفتے کی شام نیدر لینڈ کے شہر ''دی ہیگ'' میں پاک ڈچ نیشن فورم کے زیر اہتمام دوسرا سالانہ مشاعرہ ہوا جس میں دو سو کے قریب سامعین اور ادب شناس خواتین وحضرات نے شرکت کر کے یورپ میں اردو زبان اور ادب سے محبت کا ایک نمایاں ثبوت پیش کیا ہے۔
لگ بھگ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس محفل کے مہمان خصوصی نیدر لینڈ میں پاکستان کے سفیر عزت مآب اعزاز احمد چوہدری تھے جبکہ مشاعرے کی صدارت لندن سے آئے ہوئے مزاحمتی شاعری کی پہچان معروف شاعر،صحافی،براڈکاسٹر،نقاد اور مرثیہ نگار صفدر ھمٰدانی نے کی اور مہمان اعزاز لند ن دے ہی تشریف لانے والے نوجوان مقبول شاعر اور اور وینس ٹی وی کے معروف میزبان فیضان عارف تھے۔اس مشاعرے میں ہالینڈ کے علاوہ جرمنی اور برسلز کے شعرا نے بھی اپنا کلام سنایا جنہں سامعین نے نہایت جوش و خروش سے سنا اور اچھے اشعار پر خوب کھل کر داد دی۔
صفدر ھمٰدانی اور فیضان عارف کے علاوہ اس مشاعرے میں عمران چوہدری،ارشاد ہاشمی،مجاہد حسین، حنیف حیرت،سید ارشاد قمر،عدیل شاکر،احسان سہگل،امید محی الدین اور غزالہ ملک نے اپنا کلام پیش کیا۔مشاعرے کی نظامت تنظیم کے سیکرٹری جنرل،ادبی اور دینی خدمات بجا لانے والے منفرد طرز کے مقرر اعجاز سیفی نے اپنے منفرد انداز میں نہایت کامیابی سے سر انجام دیں۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکے بعد شعرا نے خوبصورتی سے سجے ہوئے اسٹیج پر اپنی نسشستیں سنبھالیں اور سید اعجاز سیفی نے سفیر موصوف اعزاز احمد چوہدری کو صدر مشاعرہ صفدر ھمٰدانی کے ہمراہ روایتی شمع روشن کر کے باقاعدہ مشاعرے کے آغاز کی درخواست کی۔
اس مشاعرے میں عمومی روایت سے ہٹ کر مہمان خصوصی نیدر لینڈ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے سب سے پہلے خطاب کیا جس میں پاکستان کے موجودہ حالات میں سوات کے بے گھر لوگوں کی حالت زار کو پاکستان کے بچانے اور اسکے استحکام کے لیئے قربانی قرار دیتے ہوئے حاضرین سے انکی امداد میں حصہ لینے کی درخواست کی اور پاک ڈچ نیشنل فورم کے امدادی ڈبے میں خود امدای رقم ڈال کر اسکا آغاز کیا جس کے بعد تنظیم کے صدر جناب جناب احمد نواز فردوسی کی اہلیہ نے امدای رقم ڈبے میں ڈال کر خواتین کی طرف سے اس کار خیر کو شروع کیا۔
سفیر موصوف اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ ملک سے شدت پسندی اور عسکریت پسندی کا اس لیئے بھی خاتمہ ضروری ہے اس سے عالمی سطح پر اسلام اور پاکستان کا غلط تشخص قائم ہو رہا ہے۔
انہوں نے ڈچ نیشنل فورم کی پاکستان کے لیئے خدمات کا ذکر کیا اور تنظیم کو مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے نیدر لینڈ میں سوات کے بے گھر لوگوں کی امداد کی شروعات کی ہیں۔ انہوں نے ثقافت اور زبان و ادب کے حوالے بھی تنظیم کی مساعی کو سراہا اور اور اپنے پوری تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
جناب اعزاز احمد چوہدری کے خطاب کے بعد باقاعدہ مشاعرے کا آغاز ہوا جس میں شعرا نے اردو،پنجابی اور پوٹھوہاری میں اپنا کلام پیش کیا۔
حاضرین نے خاص طور پر عمران چوہدری،فیضان عارف اور صفدر ھمٰدانی کے کلام پر بار بار تالیاں بجا کر داد دی۔ لگ بھگ تمام شعرا کا کلام ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں تھا لیکن حنیف حیرت نے اپنی لکھی ہوئی طویل نعت پیش کی۔
شعرا کے کلام سے اقتباسات جلد ہی مفصل رپورٹ میں پیش کیا جائے گا۔اپنا مزاحمتی کلام سنانے سے قبل مشاعرے کے صدر معروف شاعر،ادیب،صحافی اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی نے وطن سے باہر اردو زبان و ادب کی خدمت کے حوالے ڈچ نیشنل فورم کی خدمات کو سراہا اور اس پر مسرت کا ظہار کیا کہ یورپ کے متعدد ممالک کے برعکس اس محفل مشاعرہ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنی ادب دوستی کا ثبوت دیا ہے۔
صفدر ھمٰدانی نے کہا کہ ایسے مشاعروں کی وجہ ہے اس سے دوسرے لوگوں کو شعدر وادب میں شرکت کی تحریک ہوتی ہے اور اسکی نشانی مقامی شعرا میں عدیل شاکر اور غزالہ ملک کی صورت میں ہے۔انہوں نے اس امید اک اظہار کیا کہ اگلے مشاعرے میں مقامی نوجوان شعرا کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔مشاعرے کے اختتام پر ڈچ نیشنل فورم کے صدراحمد نواز فردوسی نے سفیر موصوف کے علاوہ شعرا اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد مہمانوں کی تواضع ٹھنڈے گرم مشروبات،چکن،سموسے اور دہی بڑے سے کی گئی۔
سامعین اور حاضرین نے مجموعی طور پر ہیگ میں مشاعرے کے انعقاد کی اس روایت کو سراہا اور تنظیم کے تمام اراکین کی اس ضمن میں تعریف کی۔
مشاعرے کی چند تصاویر جبکہ مزید تصاویر مشاعرے کی تفصیلی رپورٹ کے ساتھ شائع کی جائیں گے۔