وفاقی حکومت نے مسلح افواج کے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ کر کے 860 ارب روپے مختص کر دیے، پچھلے سال اضافہ 11اعشاریہ7 فیصد کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کاکہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف اہم آپریشنزجاری ہیں ،خطے کی صورتحال کو بھی مد نظررکھنا ہے ،اس لیے دفاعی بجٹ بڑھانا ضروریہے ۔
مسلح افواج کے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاہم اس کے مقابلے میں کل بجٹ میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ جاری اخراجات کا 25 فیصد جبکہ مجموعی بجٹ کا 19 فیصد ہے۔
مالی سال 16-2015 ءمیں مسلح افواج کا بجٹ 11اعشاریہ7 فیصدبڑھایا گیا تھا ، اب نئے مالی سال میں مسلح افواج کے انتظامی امور کے لیے 2 ارب، 12 کروڑ روپے جبکہ ڈیفنس سروسز کے لیے 858 ارب، چار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مالی سال 17-2016 ءکے دفاعی بجٹ میں پاک فوج کا حصہ تقریباً 412 ارب روپے، پاک فضائیہ کا 181 ارب روپے، پاک بحریہ کا 95 ارب روپے اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا 172 ارب روپے ہے۔
مالی سال 16-2015 ءمیں پاک فوج کا حصہ 371 ارب روپے، پاک فضائیہ کا 164 ارب 24 کروڑ روپے جبکہ پاک بحریہ کا 85 ارب روپے تھا۔
نئے دفاعی بجٹ میں سے بڑا حصہ یعنی327 ارب 30 کروڑ روپے مسلح افواج کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسز کے لیے مختص کیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ راشن، علاج معالجے اور تربیتی امورکے لیے 216 ارب 14 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔
اسلحہ اور گولہ بارود کے لیے 211 ارب، 70 کروڑ روپے جبکہ انفراسٹرکچر کی مرمت اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے 104 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔