محمد حسین آزاد کی پیدائش
اردو کے نامور انشا پرداز ،شاعر،نقاد، مؤرخ اور ماہر تعلیم محمد حسین آزاد 5جون 1830ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی محمد باقر اردو کے پہلے اخبار نویس تسلیم کیے جاتے ہیں ، انہیں 1857ء کی جنگ آزادی میںانگریزوں نے گولی سے اڑا دیا تھا۔ محمد حسین آزاد نے دہلی کالج سے تعلیم حاصل کی اور شاعری میں استاد ابراہیم ذوق کے شاگرد ہوگئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد وہ لاہور پہنچے اور محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور 1984ء میں اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہوئے۔ 1887ء میں انہیں حکومت شمس العلما کا خطاب عطا کیا۔ اسی دوران 1865ء میں انہوں نے انجمن پنجاب قائم کی اور لاہور میں جدید شاعری کی تحریک کی شمع روشن کی۔ اس انجمن کے اہتمام میں انہوں نے نئے طرز کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی جس میں مصرع طرح کی بجائے عنوانات پر نظمیں پڑھی جاتی تھیں۔ 1889ء میں بیٹی کی وفات کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے اور اسی عالم میں 22 جنوری 1910ء کو وفات پاگئے۔
آپ لاہور میں کربلا گامے شاہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔ مولانا محمد آزادی کی تصانیف میں آب حیات، نیرنگ خیال، سخن دان فارس، دربار اکبری، جانورستان، قصص ہند اور نگارستان کے نام سرفہرست ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
علامہ سیماب اکبر آبادی کی پیدائش
اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ 31جنوری1951ء کو علامہ سیماب اکبر آبادی انتقال کرگئے۔وہ کراچی میں قائداعظم کے مزار کے نزدیک آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی پیدائش
پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر 5 جون 1900ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔
پنجابی زبان و ادب کی متعدد خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ’’بابائے پنجابی‘‘کہا جاتا ہے۔ 1951ء میں انہوں نے پنجابی زبان کا اولین رسالہ ’’پنجابی‘‘ جاری کیا پھر ڈاکٹر محمد باقر کے ساتھ پنجابی ادبی اکادمی قائم کی جس کے تحت پنجابی زبان و ادب کی متعدد قدیم و جدید کتابیں شائع ہوئیں۔ وہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور انہوں نے پنجابی زبان کو نئے اسلوب اور نئے آہنگ سے آشنا کیا۔
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی مدون کی ہوئی کتب میں کلیات ہدایت اللہ، کلیات علی حیدر، کلیات بلھے شاہ اور چٹھیاں دی وار، شعری کتب میں صدائے فقیر، نیلے تارے، مہکدے پھول، ستاراں دن، چنگیاڑے اور مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم اور عمر خیام کی رباعیات کے منظوم تراجم شامل ہیں۔
٭11 ستمبر 1974ء کو پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر وفات پاگئے اور گوجرانوالہ میں احاطہ مبارک شاہ بڑا قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔