15.10.2026, 10:57pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

چھ جون 1993ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار کمال احمد لاہور میں وفات پاگئے
06.06.2016, 03:03am , سوموار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
٭6 جون 1962ء پاکستان کے مشہور سیاست دان اور صحافی میاں افتخار الدین کی تاریخ وفات ہے۔
میاں افتخار الدین 8اپریل 1907ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوںنے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا تھا لیکن 1945ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد میاں صاحب پنجاب کی صوبائی وزارت میں مہاجرین بحالیات کے وزیر رہے لیکن چند ہی ماہ کے بعدوہ وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ سے اختلاف کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ وہ پنجاب کی صوبائی مسلم لیگ کے صدر بھی رہے لیکن اپنی نظریات کی بنا پر 17 جون 1950ء کو مسلم لیگ سے خارج کردیئے گئے جس کے بعد نومبر 1950ء میں ا نہوںنے اپنے کچھ ہم خیال دوستوں کے ہمراہ آزاد پاکستان پارٹی کی بنیاد رکھی۔
1955ء میں وہ دوسری مرتبہ دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1956ء میں انہوں نے اپنی پارٹی کو نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کردیا۔
میاں افتخار الدین سیاست کے علاوہ صحافت کے میدان بھی بڑے فعال تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ پروگریسو پیپرز کا قیام تھا جس کے زیر اہتمام انہوں نے پاکستان ٹائمز‘ امروز اور لیل و نہار جیسے اخبار و جرائد جاری کیے۔
میاں افتخار الدین نہایت زیرک‘ فعال‘ سیماب صفت اور اپنے موقف پر اڑنے اور لڑنے والے کردار کے مالک تھے۔ اکتوبر 1958ء کے مارشل لاء کے بعد انہیں بے انتہا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اپریل 1959ء میں مارشل لاء حکومت نے ان کے ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ میاں افتخار الدین نے حکومت کے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن ایک مارشل لاء آرڈیننس کے ذریعے اس معاملے میں عدالت کا دائرۂ اختیارختم کردیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد میاں افتخار الدین شدید عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے اور اسی عارضے میں 6 جون 1962ء کو انتقال کرگئے۔
وہ باغبان پورہ لاہور میں اپنے خاندانی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

کمال احمد کی وفات

 چھ جون 1993ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار کمال احمد لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
کمال احمد 1937ء میں گوڑ گانواں (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتداہی سے انہیں موسیقی سے شغف تھا۔ ان کو سب سے پہلے فلم شہنشاہ جہانگیر میں موسیقی دینے کا موقع ملا تاہم ان کی فنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار فلم دیا اور طوفان میں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد فلموں میں موسیقی دی جن میں رنگیلا، دل اور دنیا، تیرے میرے سپنے، دولت اور دنیا، راول، بشیرا، وعدہ، سلسلہ پیار دا، دلہن ایک رات کی، کندن، محبت اور مہنگائی، عشق عشق، مٹھی بھر چاول، عشق نچاوے گلی گلی، سنگرام، ان داتا اور متعدد فلمیں شامل ہیں۔ کمال احمد نے اپنی بہترین موسیقی پر 6 مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں جن فلموں کی موسیقی ترتیب دینے پر نگار ایوارڈز حاصل ہوا ان کے نام تھے عشق نچاوے گلی گلی، میں جینے نہیں دوں گی، کندن، آسمان، آندھی اور آج کا دور
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

استاد ذاکر علی خان کی وفات

٭6 جون 2003ء کو پاکستان کے معروف کلاسیکی گلوکار استاد ذاکر علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔
استاد ذاکر علی خان 1945ء میں ضلع جالندھر کے مشہور قصبے شام چوراسی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے مشہور شام چوراسی گھرانے سے تھا۔ وہ استاد نزاکت علی خان، سلامت علی خان کے سب سے چھوٹے بھائی تھے اور اپنے بڑے بھائی اختر علی خان کے ساتھ مل کر گاتے تھے۔
1958ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان ملتان سے اپنی گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ان کی عمر 12، 13 برس تھی۔ بعدازاں انہیں آل پاکستان میوزک کانفرنس میں مدعو کیا جاتا رہا۔ انہوں نے بیرون ملک بھی کئی مرتبہ اپنی گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ خصوصاً 1965ء میں کلکتہ میں ہونے والی آل انڈیا میوزک کانفرنس میں ان کی پرفارمنس ان کی بڑی یادگار پرفارمنس سمجھی جاتی ہے، اس پرفارمنس پر انہیں ٹائیگر آف بنگال کا خطاب ملا تھا۔ استاد ذاکر علی خان  نے موسیقی کی مشہور کتاب نورنگ موسیقی تحریر کی تھی۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یونس پہلوان کی وفات


٭ پاکستان کے مشہور پہلوان ، یونس پہلوان  6 جون1964ء کو گوجرانوالہ میں انتقال کر گئے۔
یونس خان 30دسمبر1925ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ وہ رستم ہند رحیم پہلوان سلطانی والا کے شاگرد تھے۔ انہوں نے پہلا دنگل 1941ء میں لڑا اور فیض گوجرانوالیہ اور یکہ پہلوان کو یکے بعد دیگرے شکست دی، اگلے برس انہوں نے رستم پنجاب چراغ نائی پہلوان کوہرا کر رستم پنجاب کا خطاب حاصل کیا۔ پھر انہوں نے کیسر پہلوان، ہزارہ سنگھ، گنڈا سنگھ، پورن پہلوان اور کئی دوسرے پہلوانوں کو یکے بعد دیگرے شکست دی۔  1948ء میں انہوں نے منٹو پارک لاہور میں بھولو پہلوان سے مقابلہ کیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ 1949ء میں کراچی میں یہ دونوں پہلوان ایک مرتبہ پھر نبرد آزما ہوئے مگر اس مرتبہ بھی بھولو پہلوان کا پلہ بھاری رہا اور وہ یونس پہلوان کو شکست دے کر رستم پاکستان بن گئے۔
یونس پہلوان کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے ستارۂ پاکستان کا خطاب عطا کیا تھا۔
وہ گوجرانوالہ کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(05.06.2016) محمد حسین آزاد 5جون 1830ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔
(04.06.2016) چار 4 جون 1988ء کو مجنوں گورکھپوری کراچی میں وفات پاگئے۔
(03.06.2016) ٭3 جون 1947ء,  ہندوستان کو دو آزاد مملکتوں میں تقسیم کرنے کا تاریخی اعلان
(02.06.2016)  دو جون 1986ء کو پاکستان کے مشہور مزاحیہ اداکار ننھا نے خودکشی کر لی
(01.06.2016) فضل الٰہی چوہدری کا یکم جون 1982ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔
(31.05.2016) ہندوستان میں اردو کی موجودہ حالت ۔ ایک مشاہدہ ۔از۔عارف نقوی
(30.05.2016) لندن کے مقبول چیلسی فلاور شو کو پورے 103 سال ہو گئے ہیں
(27.05.2016) طالبان کے نئے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کون ہیں؟
(26.05.2016) رجب ، شعبان اور رمضان کے مہینے فضیلت اور برکت والے مبارک مہینے ہیں
(22.05.2016) شبِ برات قُر ب الہٰی کے حصول اور توبہ و استغفار اور احتساب کی رات
(22.05.2016) شب برات کی اہمیت و فضلیت سے کسے انکار ہے۔ از ۔ایس ایچ بنگش
(19.05.2016) وہ ذات اپنےبندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی
(16.05.2016) رب تعالی کی بےشمار انوار و تجلیات سے لبریز ماہِ شعبان کی پندرہویں شب
(15.05.2016) عالم باعمل اور محقق و مفسر جناب نیاز حسین ھمدانی کی فکر انگیز تحریر
(12.05.2016) مئی ١١ کو استاد شاعر مجید امجد کی 42ویں برسی ہے
(11.05.2016) منٹو 11 مئی 1912 کو سمرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے
(10.05.2016) ٭10 مئی اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی قمر جمیل کی تاریخ پیدائش
(09.05.2016) ٭9 مئی 1958ء  مغربی پاکستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کوقتل کردیا۔
(08.05.2016) ٭8 مئی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید برکی کی تاریخ پیدائش
(07.05.2016) ملک فیروز خان نون 7  مئی 1893ءکو نون سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں