رمضان المبارک میں لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے دعوے ایک بار پھر ہوا میں اڑگئے۔ کئی شہروں میں پہلی سحری ہی لوگوں نے اندھیرے میں کی ۔
سارا سال لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہنے والوں کو بابرکت مہینے سے کچھ امید بندھی تھی ، کہ حکومتی دعووں کے مطابق شاید اس بار بتی نہ جائے لیکن حکومتی دعوے اور وعدے سب ہوا ہوگئے۔ کراچی، پشاوراور پنجاب والوں کی سحری کا مزا لوڈ شیڈنگ نے کرکرا کردیا۔
کراچی میں گلشن اقبال کے کئی بلاکس تو پشاور میں گلبرگ کے علاقے سحری میں اندھیرے میں ڈوبے رہے، ملتان، فیصل آباد، اوکاڑہ اور سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کے عذاب نے پیچھا نہ چھوڑا۔
فیسکو حکام نے سحری میں لوڈشیڈنگ کا ملبہ فنی خرابی پر ڈالا تو کے الیکٹرک نے بھی کچھ ایسا ہی دعوی کیا، کہ کراچی میں کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی۔
ترجمان وزارت پانی و بجلی کا کہنا ہے کہ ملک میں کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، سحری کے اوقات میں 85فیصد دیہی علاقوں اور 97 فیصد شہری علاقوں کو بجلی فراہم کی جارہی ہے۔