بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے لاء کالج کے پرنسپل بیرسٹر امان اللہ خان جاں بحق ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو نہیں چھوڑا جائےگا۔
تفصیلات کے مطابق بیرسٹر امان اللہ گھر سے کالج کیلئے جارہے تھے کہ ملزمان نے اسپنی روڈ کے علاقے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔انہیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھاکہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
پولیس کے مطابق بیرسٹر امان اللہ کو سینے میں 10 سے 12 گولیاں لگیں۔
واقعے کے بعد وکلاء کی بڑی تعداد سول اسپتال کے باہرجمع ہوگئی اور عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کردیا۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری نے بھی بیرسٹر امان اللہ پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔
ڈی آئی جی منظورسرورنے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر امان اللہ خان کےقتل کاواقعہ افسوسناک ہے، واقعے میں ملوث عناصر کو نہیں چھوڑا جائےگا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی چھان بین کی جارہی ہےاور شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب آئی جی پولیس احسن محبوب کلی ترخہ میں بیرسٹرامان اللہ کےگھرگئے اور مقتول کےلواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔