فاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنے ریمارکس پر پہلے تحریری پھر زبانی معافی مانگی لیکن شیریں مزاری نہ مانیں اور خواجہ آصف سے ان کا نام لیکر معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔ خواجہ آصف کا موقف تھا کہ ان کی گزشتہ روز کی تقریر نکال کر دیکھ لیں،کسی کا نام نہیں لیا، غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ اپوزیشن مطمئن نہ ہو سکی ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔
قومی اسمبلی میں آج جمعرات کی کارروائی خواجہ آصف کی نظر ہوگئی ، ان کے کل کے الفاظ پر ایوان کا ماحول آج بھی کشیدہ رہا۔
خواجہ آصف نے پہلے تحریری معافی بھجوائی جسے اپوزیشن نے مستر کردیا اور مطالبہ کیا گیاکہ خواجہ آصف نے ایوان میں نازیبا الفاظ ادا کیے ، اب وہ ایوان میں آکر ہی معافی مانگیں۔
اس دوران مختلف جماعتوں کے اراکین کی جانب سے خواجہ آصف پر تنقیدی بیانات آتے رہے ، یہاں تک کہ خواجہ آصف خود ایوان میں پہنچ گئے، تحریری کےبعد انہوں نے ایوان میں کھڑے ہوکر زبانی معافی بھی مانگ لی۔
اگرچہ انہوں نے غیر مشروط معافی مانگی لیکن شیریں مزاری کا بالخصوص نام نہیں لیا ، اس دوران اسحاق ڈار نے خواجہ آصف کو لقمہ بھی دیا کہ شیریں مزاری کا نام بھی لے دیں لیکن خواجہ آصف نے بات سنی ان سنی کردی۔
اس معافی کو بھی شیریں مزاری نے مسترد کردیا اور کہاکہ خواجہ آصف نام لے کر معافی مانگیں تاہم خواجہ آصف نے کہاکہ جب انہوں نے بیان میں کسی کا نام نہیں لیا تو معافی میں بھی کسی کا نام نہیں لیں گے۔
یہ سارا ہنگامہ خواجہ آصف کے گذشتہ روز کے بیان پر ہوا جس میں انہوں نے شیریں مزاری کی طرف نازیبا الفاظ اچھالے تھے۔
پیپلز پارٹی رہنما شازیہ مری نے تحریری معافی نامے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی وزیردفاع خواجہ آصف کا دربار نہیں، جو بیان بھجوادیا گیا۔
بعدازاں خواجہ آصف نے ایوان میں شیریں مزاری کا نام لیے بغیر باقاعدہ معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انھوں نے گذشتہ روز جو کچھ کہا وہ اس پر معافی مانگتے ہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کے جذبات کو قبول کیاجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے اپنے طور پر غیر مشروط معافی مانگ رہے ہیں، ساتھ ہی خواجہ آصف نے کہا کہ وہ شکر گزار ہوں گے اگر یہ معاملہ یہیں ختم کردیا جائے۔
تاہم شیریں مزاری نے خواجہ آصف کی باقاعدہ معافی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں ان کا نام لے کر طنز کیا گیا اور جملے کسے گئے، لہذا مناسب یہی تھا کہ ان کا نام لے کر معافی مانگی جاتی۔
جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ گذشتہ روز اسمبلی کارروائی کے دوران اگر میں نے کسی کا نام لیا ہو تو میں سو دفعہ معافی مانگنے کو تیار ہوں۔
جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواجہ آصف کے بیان سے ایک رکن اسمبلی کی دل آزاری ہوئی، اگر وہ ان کا نام لے لیتے تو اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نفیسہ شاہ نے بھی شیریں مزاری کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ وزیر دفاع نے کسی کا نام نہیں لیا تھا لیکن ان کا ہدف شیریں مزاری ہی تھیں۔
خواجہ آصف کی جانب سے شیریں مزاری کا نام لیے بغیر معافی مانگنے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔