قومی اسمبلی کے سپیکر۔ عبدالجبار خان
پاکستان کی قومی اسمبلی کے چھٹے اسپیکرجسٹس عبدالجبار خان 1902ء میں پیدا ہوئے۔ وہ 12جون 1965ء کو قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 25مارچ 1969ء تک اس عہدے پر فائز رہے ۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہ بنگلہ دیش میں قیام پذیر رہے۔ ان کی وفات 23اپریل 1984ء کو ہوئی
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
جاوید میاں داد کی پیدائش
12 جون 1957ء پاکستان کے نامور کھلاڑی جاوید میاں داد کی تاریخ پیدائش ہے۔
جاویدمیانداد کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 9 اکتوبر 1976ءکو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اورنیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ سے ہوا۔ انہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی وہ نہ صرف یہ کہ خالد عباد اللہ کے بعد دوسرے پاکستانی تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ بلکہ پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے والے دنیا کے سب سے کم عمر کھلاڑی بھی تھے۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 25 رنز اسکور کیے جبکہ تیسرے ٹیسٹ میچ میں جو کراچی میں کھیلا گیا انہوں نے پہلی اننگز میں ڈبل سنچری اور دوسری اننگ میں 85 رنز بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ ڈبل سنچری بنانے والے دنیا کے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے۔ جاویدمیانداد نے اپنی اس اولین ٹیسٹ سیریز میں 126 کی اوسط سے 504 رنز بنائے جو ایک قومی ریکارڈ تھا۔
اس کے بعد جاویدمیانداد نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے 124 ٹیسٹ میچ کھیلے، 189 اننگز میں بیٹنگ کی، 21 مرتبہ ناٹ آﺅٹ رہے، 23 سنچریاں بنائیں اور 52.57 کی اوسط سے مجموعی طور پر 8832 رنز اسکور کیے۔ وہ دنیا کے واحد کھلاڑی تھے جن کا اوسط کبھی 50 رنز سے کم نہیں رہا۔ انہوں نے 17 وکٹیں بھی حاصل کیں اور 34 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت بھی کی جن میں سے 14 میچ جیتے، 6ہارے جبکہ 14میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔
جاوید میاں داد نے اپنے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز سوا سال قبل 11 جون 1975ءکوبرمنگھم میں ایجبسٹن کے میدان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے عالمی کپ کے ایک‘ ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں کیا تھا۔ اس میچ میں وہ چھٹی پوزیشن پر کھیلنے کے لیے گئے اور 24 رنز بنا کر رن آﺅٹ ہوگئے۔ جاوید میاں داد دنیا کے ان معدودے چند کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے کوئی ٹیسٹ میچ کھیلے بغیر کرکٹ کے عالمی کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
جاوید میاں داد نے اس کے بعد 1996ءتک منعقد ہونے والے تمام عالمی کپ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور یوں 6 عالمی کپ مقابلوں میں مجموعی طور پر 33 میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا اور مجموعی طور پر 1083 رنز اسکور کیے جن میں ایک سنچری اور 8نصف سنچریاں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عالمی کپ مقابلوں میں مجموعی طور پر 22 اوور بھی کروائے ان 22 اووروں میں سے جن میں سے دو اوور میڈن تھے‘ انہوں نے 73 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
جاوید میاں داد نے مجموعی طور پر 233 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے اور 8 سنچریوں اور 50 نصف سنچریوں کی مدد سے381 7رنز اسکورکئے۔ ان کا فی اننگز اوسط 41.70 زنررہا۔
انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں 402 میچز میں 80 سنچریوں اور 139 نصف سنچریاں کی مدد سے 28647 رنز اسکور کئے اور ان کا اوسط 53 رنز فی اننگز رہا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
شکیل احمد کی وفات
12 جون 1977ء کو ریڈیو پاکستان کے ممتاز نیوز ریڈر اور براڈ کاسٹر شکیل احمد وفات پاگئے۔
شکیل احمد کا اصل نام وکیل احمد تھا۔ وہ 1908ء میں یوپی کے مردم خیر خطے ملیح آباد میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ملیح آباد میں پائی اور پھر ریلوے کے محکمہ میں ملازم ہوگئے۔ اس ملازمت کے دوران انہیں برصغیر کے طول و عرض کی سیاحت اور طرح طرح کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔
ریلوے میں تین سال تک ملازمت کے بعد وہ کلکتہ میں رہنے لگے۔ جہاں ان کی ملاقات آغا حشر کاشمیری سے ہوئی۔ یہ ملاقات شکیل صاحب کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ آغا حشر کی باغ و بہار اور علم و ادب سے مرصع شخصیت نے نوجوان شکیل احمد کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔انہیں نے ان کا نام وکیل احمد بدل کر شکیل احمد رکھا۔ جس کے بعد انہوں نے آغا صاحب کی زیر ہدایت اسٹیج ہونے والے کئی ڈراموں مثلاً طرابلس کا چاند، یہودی کی بیٹی اور سیتابن باس وغیرہ میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
اسی دوران برصغیر میں ریڈیو کا آغاز ہوا تو زیڈ اے بخاری مرحوم کی جوہر شناس نظر شکیل احمد پر پڑی اور یوں 1937ء میں وہ آل انڈیا ریڈیو سے بطور انائونسر منسلک ہوگئے۔ شکیل صاحب کی ریڈیو نشریات کی فنی تربیت میں زیڈ اے بخاری کی توجہ کو بڑا دخل ہے۔ شکیل احمد 1937ء سے 1941ء تک بمبئی ریڈیو اسٹیشن پر تعینات رہے۔ 1941ء میں ان کا تبادلہ دلی اسٹیشن کردیا گیا یہ وہ وقت تھا جب دوسری عالمی جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اس موقع پر شکیل احمد کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے خبریں نشر کرنے پر مقرر کیا گیا۔ ریڈیو نشریات سے وابستگی کا یہی وہ زمانہ ہے جس نے شکیل احمد کے نام کو برصغیر کے گوشے گوشے تک متعارف کرادیا۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد شکیل احمد ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور ریڈیو پاکستان کا سب سے پہلا نیوز بلیٹن پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ بلیٹن انہوں نے لاہور اسٹیشن سے پڑھا تھا۔ 1950ء میں خبروں کا شعبہ کراچی منتقل ہوا تو شکیل احمد مرحوم بھی یہیں آگئے۔
ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران شکیل احمد نے جس مخصوص اور ولولہ انگیز انداز میں خبریں پڑھیں ان سے قوم کے جذبات کو ابھارنے میں بہت مدد ملی۔ جنگ ستمبر کے دوران شکیل احمد کا جذبہ، عقیدت اور وقار نشریات کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہیں گے۔ 6 ستمبر سے لے کر جنگ بندی تک محاذ جنگ پر برسرپیکار مجاہدین سے لے کر ملک کے چھوٹے سے چھوٹے قریئے اور آبادیوں میں خبروں کے وقت لوگ اس خواہش کے ساتھ ریڈیو کھولتے تھے کہ شکیل احمد صاحب خبریں سنائیں گے۔ شکیل احمد کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1966ء میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
1973ء میں عالمی سروس کا آغاز ہوا تو شکیل احمد اس سے وابستہ ہوگئے اور اپنی وفات تک اس سے وابستہ رہے
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
عبیداللہ علیم کی پیدائش
اردو کے ممتاز شاعر عبیداللہ علیم 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ 1952ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے جہاں 1969ء میں انہوں نے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن میں بطور پروڈیوسر ملازمت اختیار کی مگر حکام بالا سے اختلافات کی وجہ سے 1978ء میں انہوں نے اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔
عبیداللہ علیم کے شعری مجموعوں میں چاند چہرہ ستارہ آنکھیں، ویران سرائے کا دیا، نگار صبح کی امید میں شامل ہیں۔ ان تینوں مجموعہ ہائے کلام پر مشتمل ان کی کلیات ’’یہ زندگی ہے ہماری‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دو نثری تصانیف میں کھلی ہوئی ایک سچائی اور میں جو بولا کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ہے۔
18 مئی 1998ء کو عبیداللہ علیم کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں اسٹیل مل کے نزدیک رزاق آباد میں باغ احمد نامی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
اندر بھی زمیں کے روشنی ہو
مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے