..................
..................
شام میں عارضی جنگ بندی کے باوجود بعض مقامات پر لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے الزام عاید کیا ہے کہ اسد حکومت حلب اور دوسرے شہروں میں انسانی امداد فراہم کرنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر جنگ سے متاثرہ علاقوں تک امداد کی رسائی یقینی بنانے سے روکا گیا تو وہ روس کے ساتھ طے پائے جنگ بندی سمجھوتے اور فوجی تعاون کی معاہدے کو ختم کردے گا۔
وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی سے شام میں داخل ہونے والے امدادی قافلوں کو اسدی فوج کی طرف سے جگہ جگہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عارضی جنگ بندی کو تین دن گذرنے کے باوجود متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ترجمان پیٹر کوک نے شام کی موجودہ صورت حال پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرجنگ بندی کی شرائط پرعمل درآمد نہ کیا گیا تو واشنگٹن روس کے ساتھ طے پائے معاہدے کی پاسداری کا پابند ہرگز نہیں ہوگا۔
درایں اثناء اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب فیٹالی چورکین نے کہا ہے کہ ماسکو شام میں جنگ بندی معاہدے کے لیے آئندہ ہفتے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد لانے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور روس دونوں سلامتی کونسل کے ذریعے شام میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں پر پہلے ہی متفق ہوچکے ہیں۔
...................
امریکا اور روس کی ثالثی میں شام میں جنگ بندی کے لیے طے شدہ سمجھوتے میں شمالی شہر حلب میں تشدد کے خاتمے کے لیے سب سے زیادہ تفصیل دی گئی ہے جبکہ اس میں امریکا اور روس کے درمیان طویل المیعاد جنگ بندی کی نگرانی کے لیے نئی فوجی شراکت داری سے متعلق بہت کم تفصیل کا ذکر ہے۔
اس سمجھوتے میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے لیے بہت زیادہ فنی و عملی اقدامات پر زوردیا گیا ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ حلب کی جانب جانے والی ایک مرکزی شاہراہ سے کتنا پیچھے ہٹیں گے اور ان کے ہتھیاروں کو دوبارہ کہاں نصب کرنے کی اجازت ہوگی۔
اس جنگ بندی سمجھوتے پر گذشتہ جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان کئی گھنٹے کے مذاکرات کے بعد اتفاق ہوا تھا۔اس کی تفصیل اتنی گنجلک ہے کہ سوموار کی شام اس پر عمل درآمد کے آغاز کے بعد جان کیری بھی صحافیوں سے گفتگو میں اس کے بارے میں واضح انداز میں کچھ کہنے سے قاصر رہے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق اس سمجھوتے کی چیدہ چیدہ تفصیل حسب ذیل ہے:
1۔ سوموار کو اسد حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز کو کسی بھی قسم کے ہتھیاروں بشمول فضائی بمباری ، راکٹوں ،مارٹروں اور ٹینک شکن گائیڈڈ میزائلوں سے حملے روک دینے چاہییں۔
2۔ طرفین کو تمام ضرورت مند افراد تک تیز رفتار ،محفوظ ،بلاروک ٹوک اور مستقل طور پر انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت دینی چاہیے۔
3۔ اگر کسی فریق کو دفاع کی ضرورت پیش آئے تو فوجی قوت کا متناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔
4۔ حلب کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ کاستیلو روڈ پر دو چیک پوائنٹس بنائے جائیں گے۔ابتدائی طور پر شامی انجمن ہلال احمر ان چیک پوائنٹس کا انتظام سنبھالے گی اور وہاں بیس سے زیادہ مسلح افراد تعینات نہیں ہوں گے۔ سکیورٹی کا حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز کی باہمی رضامندی سے انتظام کیا جائے گا۔اقوام متحدہ ان اہلکاروں کی نگرانی کرے گی۔
5۔ سرکاری فورسز کو اپنے اہلکاروں ،بھاری ہتھیاروں اور دوسرے اسلحہ کو کاستیلو روڈ کے مختلف مقامات سے پیچھے ہٹانا ہوگا۔بعض جگہوں سے ٹینکوں ،توپ خانے اور مارٹروں کو کم سے کم ساڑھے تین کلومیٹر یا دو میل سے زیادہ فاصلے تک پیچھے ہٹانا ہوگا۔نیز ہلکے ہتھیاروں والے فوجیوں کو پانچ سو گز تک پیچھے ہٹنا ہوگا۔
6۔ حزب اختلاف کی فورسز کو بھی سرکاری فوج کی طرح کاستیلو روڈ سے مشرقی جانب پیچھے ہٹںا ہوگا لیکن ان کے انخلاء کا انحصار کرد فورسز کی واپسی پر ہوگا۔اگر کرد جنگجو 500 گز پیچھے ہٹتے ہیں تو حزب اختلاف کی فورسز کو بھی اسی طرح اتنے فاصلے تک پیچھے ہٹںا ہو گا۔
7۔ حزب اختلاف کی فورسز کو القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کو غیرفوجی علاقوں کی جانب پیش قدمی سے حتیٰ الوسع روکنے کی کوشش کرنا ہوگی۔تمام شامیوں بشمول حزب اختلاف کو کاستیلو روڈ کے ذریعے انخلاء کی اجازت ہونی چاہیے۔جنگجوؤں کو انخلاء کے وقت سے پہلے اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔
8۔ روس اور امریکا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔یہ دونوں ممالک جنگ بندی کے مسلسل سات روز کے بعد مشترکہ عمل درآمد مرکز کے قیام کا اعلان کریں گے۔البتہ اس مرکز کے لیے سوموار سے کام کا آغاز ہوجانا چاہیے۔
9۔ نیز امریکا اور روس داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے قابل عمل اہداف کا تعیّن کریں گے تاکہ مرکز کے قیام کے فوری بعد ان کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز ہوسکے۔ان دونوں ملکوں کی جانب سے داعش اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف پہلے حملے کے فوری بعد شامی فضائیہ کے لڑاکا طیارے حزب اختلاف پر حملے روک دیں گے۔
10۔ آخری شق کے مطابق امریکا اور روس دونوں میں سے کوئی بھی اس سمجھوتے کو اپنے طور پر خیرباد کہہ سکتا ہے۔
.................
امریکا اور روس کی کوششوں سے شام میں پیر سے شروع کی جانے والی فائربندی پر فریقین بدستور عمل پیرا ہیں۔
سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے منگل کے دن کو شام کے پانچ سالہ مسلح تنازعے کا پرسکون دن قرار دیا ہے کیونکہ اِس روز کسی انسان کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق شام کےکسی علاقے سے لڑائی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اِس فائر بندی کو شامی صدر بشار الاسد اور متحدہ اپوزیشن کے اتحاد کی حمایت بھی حاصل ہے۔ شام کے لیے امریکا اور روس کی جانب سے رواں برس کے دوران یہ دوسری فائر بندی ڈیل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شامی میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کے روز اسرائیل کا ایک لڑاکا اور بغیر پائیلٹ جاسوسی طیارے اس وقت مار گرائے جب وہ جنوبی شام میں ایک فوجی ہدف کو نشانہ بنا رہے تھے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' کے اسرائیلی لڑاکا طیارے نے جنوبی شام کے مضافاتی علاقے القنطیرہ میں ایک فوجی ہدف کو منگل کو علی الصباح نشانہ بنایا۔ ایجنسی کے مطابق شامی فوج نے اسرائیلی طیارے کو مار گرایا۔ اس کے بعد بغیر پائیلٹ کا ایک جاسوسی اسرائیلی طیارہ بھی مار گرایا گیا۔
دونوں جہازوں کی تباہی پر اسرائیلی فوج کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل میں شامی دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شامی اہداف کو نشانے بنانے والے لڑاکا طیاروں پر بشار الاسد کی وفادار فوج نے میزائل داغے، تاہم اسرائیلی جہازوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اور وہ کارروائی کے بعد بحفاظت اپنے ٹھکانوں پر واپس آ گئے۔
...................
شام میں پیر کو غروبِ آفتاب کے بعد جنگ بندی کا آغاز ہوا، جس کے چند ہی گھنٹے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا کہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں تباہ حال اس ملک کو تحفظ کی فراہمی کا ''یہ آخری موقع ہو سکتا ہے''۔
اطلاعات کے مطابق عام طور پر لڑائی رکی ہوئی ہے۔ تاہم بعض مقام سے جھڑپوں کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ کیری نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور روس کی ثالثی میں ہونے والی اس جنگ بندی کے موئثر ہونے کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اس سمجھوتے کا اعلان ہفتے کی صبح کیری اور اُن کے روسی ہم منصب، سرگئی لاوروف نے جینوا میں کیا تھا۔ اس کی حمایت متعدد دیگر ملک بھی کر رہے ہیں، جن میں ایران بھی شامل ہے، جو شامی حکومت کی پشت پناہی کرتا ہے اور ترکی جو صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا حامی ہے۔
محکمہ خارجہ کے پوڈیم سے تمام فریق سے مخاصمانہ کارروائیاں روکنے کی اپیل کرتے ہوئے، کیری نے پیش گوئی کی ہے کہ جنگ بندی جاری رہنے کے سلسلے میں شروع میں چیلنج درپیش ہوں گے۔ جب کہ سب سے زیادہ متاثر چند علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی میں کافی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور روس کی ثالثی میں طے ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر پیر سے عمل درآمد کا آغاز ہوا، جس سے چند ہی گھنٹے قبل تک سرکاری لڑاکا طیاروں نے حلب اور دیگر شامی صوبوں پر فضائی حملے جاری رکھے، جس کے باعث باغی رہنمائوں میں شکوک و شبہات اور غصہ شدت اختیار کر گیا ہے، جو پہلے ہی اس سمجھوتے پر انتہائی تذبذب کا شکار تھے۔
اُنھوں نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے محض صدر بشار الاسد کی حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔
شام کی مسلح حزب مخالف نے مطالبوں کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ پیر کے روز مخاصمانہ کارروائیوں کے خاتمے کے حوالے سے امریکہ سے وضاحتیں طلب کیں، جب کہ جنگ بندی عید الضحیٰ کی مناسبت سے مسلمانوں کے اہم یوم تعطیل کی شروعات ہے۔
صدر اسد نے باغیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کسی کوشش کا کوئی ذکر نہیں کیا، جب کہ اُنھوں نے پیر کے دِن باقی تمام شامیوں سے مل کر کام کرنے کی بات کی۔ سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے اسد کی جانب سے داریہ کے دورے کو دکھایا، جو دمشق کا مضافاتی علاقہ ہے جس کا کنٹرول گذشتہ ماہ حکومت نے سنبھال لیا تھا۔
شامی رہنما نے داریہ کی مسجد میں اہل کاروں کے ساتھ نماز ادا کی؛ جب کہ نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ ''حکومتِ شام دہشت گردوں سے تمام علاقہ واگزار کرانے کے عزم پر قائم ہے''۔
اُنھوں نے کہا کہ ''بغیر ہچکچاہٹ کے، اور کسی داخلی اور بیرونی صورت حال کے باوجود''، فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
اتوار کے روز متعدد باغی رہنمائوں نے جنگ بندی کے سمجھوتے پر تنقید کی۔ تاہم، یہ بات کہتے کہتے رکے کہ وہ اِسے تسلیم نہیں کرتے۔
انتہائی قدامت پسند، احرار الشام، جو سابق القاعدہ سے منسلک جبہت فتح الشام محاذ کی قریبی اتحادی ہے، جسے پہلے جبہت النصرہ کے نام سے جانا جاتا تھا، اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی کو نہیں مانے گی۔ اس گروپ نے اس سے قبل سمجھوتے کی مذمت کی تھی۔ تاہم، اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
..................
امریکہ اور روس نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شام میں جنگ بندی کے ایک ’پیچیدہ‘ معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت 12 ستمبر کو غروب آفتاب کے ساتھ ہی اس پر عمل درآمد ایسے وقت شروع ہو گا جب مسلمان عید الاضحیٰ منا رہے ہوں گے۔
سوئیٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور اُن کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے درمیان جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کے بعد شام میں جنگ بندی سے متعلق منصوبے کا اعلان کیا گیا۔
روسی ہم منصب کے ساتھ کھڑے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے زیادہ اور کچھ مناسب نہیں ہو سکتا کہ تمام فریق اکٹھے ہوں اور عید کے موقع کو شامی لوگوں اور خطے کے لیے معنی خیز بنائیں‘‘
جان کیری نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی فورسز کی فضائی کارروائیاں شہریوں کے جانی نقصان اور لوگوں کی بے دخلی کی بڑی وجہ بنیں۔ دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ اُن کے ملک نے جنگ بندی سے متعلق معاہدے کے بارے میں شام کی حکومت کو آگاہ کیا ہے اور وہ بھی اس پر عمل درآمد پر آمادہ ہیں۔
امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ اس منصوبے کے تحت شام کی حکومت اور باغیوں دونوں ہی کو اپنی اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی۔
جان کیری کا کہنا تھا کہ شام میں باغی جنگ بندی کے اس منصوبے پر عمل درآمد کو تیار ہیں لیکن اُن کے بقول ایسا اُسی وقت ممکن ہو گا جب شام کی حکومت بھی اس بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
منصوبے کے تحت امریکہ اور روس ’داعش‘ اور النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک مشترکہ مرکز بنائیں گے۔
دونوں ہی ملکوں، امریکہ اور روس نے اس علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی امدادی کارروائیوں کو وسیع کرنے اور مربوط بنانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
.................
شام میں جنگ بندی معاہدے کا اعلان امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کیا۔بریکنگ :- جنگ بندی معاہدے کا اطلاق 12 ستمبر سے ہوگا،جان کیری
معاہدے کے تحت شام اپوزیشن کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنائے گا، امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا بیان ۔ شام میں قیام امن سے متعلق کچھ نکات پر اتفاق رائے باقی ہے،سرگئی لارؤف۔ جنیوا:دونوں ملکوں کے شام میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات جاری تھے۔ بریکنگ :- النصرہ فرنٹ کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائیگی،جان کیری
معاہدے کے تحت شام اپوزیشن کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بناے گا،جان کیری۔ اپوزیشن اور جنگجوؤں میں تفریق کی جائے گی،روسی وزیر خارجہ سرگئی لارؤف
..................
امریکی وزیر خارجہ جان کیری آج جمعے کے روز جنیوا میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس دوران شام میں جنگ بندی کی ایک بار پھر کوشش کی جائے گی۔
محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کی بات چیت ’’تشدد میں کمی لانے، شامی عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کو وسعت دینے اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے درکار سیاسی حل کی جانب بڑھنے پر دھیان مرکوز رکھا جائے گا‘‘۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران، کیری اور لاوروف کے درمیان جنیوا میں اور چین میں ’جی 20‘ سربراہ اجلاس کے موقعے پر متعدد بار ملاقات ہوئی۔ تاہم، شام میں مخاصمانہ کارروائیاں بند کرانے پر سمجھوتا طے کرنے میں ناکامی ہوئی۔
امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت ’’تکینیکی معاملات‘‘ پر الجھی ہوئی ہیں۔
امریکی سفارت کارووں نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے روسی ہم منصبوں کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا ہے، جن پر اُنھوں نے الزام لگایا کہ حالیہ دِنوں کے دوران اُنھوں نے سمجھوتے کے چند کلیدی نکتوں پر اپنا مؤقف تبدیل کرلیا ہے۔
کیری نے کہا ہے کہ وہ کوئی کمزور سمجھوتا نہیں چاہتے، لیکن روسیوں کے ساتھ حقیقت پر مبنی سمجھوتے کے خواہاں ہیں۔
روس حکومت شام کا مضبوط اتحادی ہے، وہ شام کی جانب سے متعدد باغی گروپوں کے ساتھ لڑائی میں اس کا ساتھ دے رہا ہے جن میں معتدل اور مذہبی انتہا پسند شامل ہیں، جو اسد حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.................
شام میں جنگ بندی کے لیے یورپ میں جاری سفارتی کوششیں زور پکڑ گئی ہیں اور امریکہ اور روس کے اعلیٰ حکام کے درمیان اس سلسلے میں مزید رابطے ہوئے ہیں۔
امریکی سفارت کاروں نے وائس آف امریکہ کوبتایا ہے کہ روس اور امریکہ کے سفارتی حکام کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سےبات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد شام میں جنگ بندی سے متعلق مجوزہ معاہدے پر موجود تیکنیکی نوعیت کے اختلافات طے کرنا ہے۔
امریکی سفارتی اہلکاروں نے بات چیت میں شریک روسی حکام پر چند اہم معاملات سے متعلق اپنا موقف آخری لمحات میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کے باعث ان کے بقول جنگ بندی کا معاہدہ کھٹائی میں پڑگیا ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے – جو ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں - بات چیت میں آنے والے اس تعطل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی صورتِ حال میں بہتری روس کے فیصلے پر منحصر ہے۔
بدھ کو برطانیہ کی آکسفورڈ یونی ورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ایش کارٹر نے کہا کہ شام سے آنے والی خبریں حوصلہ افزا نہیں لیکن شام سے متعلق فیصلہ روس نے کرنا ہے جس کے نتائج کا ذمہ دار بھی وہی ہوگا۔
اوباما انتظامیہ کےا یک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ جان کیری آئندہ چند روز کے دوران اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کریں گے جس میں معاہدے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اطلاعات ہیں کہ جنگ بندی کا مجوزہ سمجھوتہ پیر کو صدر براک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی زیرِ غور آیا تھا۔ دونوں صدور کے درمیان یہ ملاقات چین کے شہر ہانگ ژو میں ہونے والے 'جی-20' سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی تھی جو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی تھی۔
لیکن شامی حزبِ اختلاف کے نمائندہ گروپ کے اعلیٰ مذاکرات کار ریاض حجاب نے واضح کیا ہے کہ اگر روس اور امریکہ نے کوئی ایسا معاہدہ کیا جو شامی عوام کی توقعات کے برخلاف ہوا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور روس کے درمیان جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے پر سب سے بڑا اختلاف شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل پر ہے۔ امریکہ اور شامی حزبِ اختلاف صدر اسد کی اقتدار سے فوری بے دخلی کے خواہش مند ہیں جب کہ روس اور شامی حکومت کا سب سے بڑا علاقائی اتحادی ایران صدر اسد کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری طرف لندن میں برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے شامی حزبِ اختلاف کے نمائندوں کو ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ شام میں انتقالِ اقتدار کی تجویز قابلِ عمل ہے۔
..................
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شام کے سیاسی مستقبل میں بشار iالاسد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے صدر اسد سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازع کے پرامن حل کے لیے اقتدار چھوڑ دیں۔
العربیہ ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ لندن میں امریکا اور روس کے درمیان شام کے تنازع پرہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور دونوں بڑی طاقتیں کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو یہ فیصلہ کرناہوگا کہ بشارالاسد کی شام کے سیاسی مستقبل میں کوئی جگہ نہیں۔ انہیں مسئلے کے سیاسی حل یا جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ امریکا اور روس کے درمیان شام کے بحران کے حوالے سے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر کوئی سمجھوتہ طے پا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں پانچ سال سے جاری کشت وخون کی روک تھام میں عالمی برادری ایک بارپھر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ امریکا اور روس کی طرف سے شام میں خانہ جنگی کی روک تھام اور جنگ بندی کے قیام کی کوششوں کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کی شام امریکی صدر باراک اوباما کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ شام کے تنازع پرماسکو اور واشنگٹن کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کے باعث تنازع کے حل کے لیے ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکی ہے۔
چین میں گروپ 20 کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ شام کے حوالے سے روس اور امریکا کے درمیان گہرے اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جنگ بندی ہمیں داعش اور النصرہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کرسکتی ہیں۔
صدر اوباما کا کہنا تھا کہ میں صدر پوتن پرواضح کردیا ہے کہ شام میں نہتے شہریوں کا قتل عام اب بند ہونا چاہیے۔ روسی صدر کے ساتھ بات چیت میں شام میں جنگ بندی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا ہے۔
پوتن کا متضاد موقف
دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس کے برعکس بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور روس شام کے حوالے سے جلد ہی متفقہ معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
چین میں عالمی معاشی طاقتوں کے اجلاس کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان شام کے تنازع کے حل کے حوالے سے کافی حد تک قربت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو شام کے حوالے سے کسی قابل قبول حل تک لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر جان کیری اور سیرگی لافروف کسی موقف پر متفق ہوتے ہیں تو ہم شامی بحران کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ بعض ممالک ترکی اور روس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔
...................
امریکی وزیر خارجہ جان کیری خالی ہاتھ گھر لوٹ رہے ہیں؛ ایسے میں جب وہ شام میں جنگ بندی کے معاملے پر اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے سفارت کاری کی سخت کوششوں کے باوجود ناکام رہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ’’تکنیکی معاملات‘‘ اب بھی حل طلب ہیں۔ محکمہٴ خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکی اور روسی مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت اِس ہفتے بھی جاری رہے گی۔
چین کے شہر ہینگڈو میں جی 20 سربراہ اجلاس کے احاطے سے باہر امریکہ اور روس کے صدرو نے شام پر گفتگو کی، جس کے بارے میں براک اوباما نے گفتگو کو ’’کاروباری نوعیت‘‘ کی اور ’’تعمیری لیکن نامکمل‘‘ قرار دیا ہے۔
جی 20 سربراہ اجلاس کی تکمیل پر، امریکی صدر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’اعتماد کی کمی کو دیکھتے ہوئے یہ مشکل مذاکرات تھے اور ابھی تک ہم اس پر حاوی نہیں پا سکے، جہاں ہم یہ خیال کرسکیں کہ اب یہ چل پڑے ہیں۔‘‘
اوباما نے مزید کہا کہ اُنھوں نے کیری کو ہدایات دی ہیں جب کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے وزیر خارجہ، سرگئی لاوروف کے بتا دیا ہے کہ وہ ’’اگلے چند روز تک، اِس پر کام کرتے رہیں‘‘، ان توقعات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ شام کے تنازع میں ملوث تمام فریق کے ساتھ براہ راست بالواسطہ سمجھوتا ہونے پر ’’اس مسئلے کے سیاسی حل کے لیے سنجیدہ گفتگو ہوسکے گی‘‘۔
پیوٹن نے ایک علیحدہ اخباری کانفرنس میں نمائندوں کو بتایا کہ شام سے متعلق امریکہ اور ترکی کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اس ضمن میں مذاکرات کاروں نے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔
گذشتہ 10 دِنوں کے دوران، مستعدی سے کام کرنے والے وزیر خارجہ نے جنیوا اور ہینگڈو میں روسی وزیر خارجہ لاوروف سے بالمشافہ اور ٹیلی فون پر رابطہ جاری رکھا؛ جب چوٹی کے امریکی ایلچی بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے پر تھے۔
کیری اور سینئر مشیروں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے وہ صرف اعلان کی خاطر کسی سرسری سمجھوتے کی کوشش میں نہیں ہیں. لیکن، اِس بات کے خواہاں ہیں کہ امریکہ اور روس کسی حقیقی معاہدے پر رضامند ہوں تاکہ شام میں مخاصمانہ کارروائیاں دیرپہ طور پر بند ہو سکیں۔
تاہم، کچھ اعلیٰ امریکی حکام کی نظروں میں یہ تصور بڑھ رہا ہے کہ روسی مذاکرات میں امریکیوں کو جھانسہ دینا چاہتے ہیں۔
نجی طور پر، امریکی سفارت کار کہتے ہیں کہ روسی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات اس بات کو ثابت کرے گا آیا روس معاہدہ طے کرنے میں سنجیدہ ہے یا پھر وہ محض وقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اوباما اور کیری کو ناکام مذاکرات کار دکھانا چاہتا ہے۔
امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے ہفتے کے روز اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کچھ شعبوں پر روسی بھاگ کھڑے ہوئے، جب کہ ہم سمجھتے تھے کہ اِن پر ہم میں اتفاق ہے‘‘۔
طویل مدت سے روس شام کا حامی رہا ہے، اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا خواہاں ہے کہ دمشق میں صدر بشار الاسد اقتدار سے چمٹے رہیں، تاکہ خطے میں روس کا اثر و رسوخ برقرار رہے۔
سفارت کاروں کو کوئی ابہام نہیں کہ پانچ برس سے جاری لڑائی کے خاتمے سے شام کے عوام کو لاحق شدید مشکلات ختم ہوں گی۔ وہ لڑائی کو پیچیدہ معاملہ قرار دیتے ہیں، جہاں جنگ میں ملوث متعدد میلشیاؤں کے درمیان بدلتے ہوئے اتحادوں کے نتیجے میں صورت حال مزید مشکل ہو چکی ہے۔
..................
شام کے صدر بشار الاسد کی فورسز کے زیر کنٹرول 4 مختلف شہروں میں داعش کے بم حملوں میں 48 افراد ہلاک ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق دھماکے شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہوئے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور اسی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔
داعش نے شام کے دارالحکومت دمشق، ساحلی علاقے طرطوس، حمص اور الحسکہ کے علاقوں بم دھماکے کیے۔
شامی میڈیا کے مطابق دھماکوں میں مجموعی طورپر 48 افراد ہلاک ہوئے، ہلاک ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد طرطوس میں ہونے والے 2 دھماکوں میں ہوئی۔
شام کے سرکاری ٹی وی نے طرطوس کے ہسپتال کی انتظامیہ کے حوالے سے کہا کہ دھماکے میں 35 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوئے۔
دوسری جانب ملک کے شمالی علاقے الحسکہ شہر میں موٹر سائیکل پر نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ علاقہ صدر بشار السد اور کردش فروسز کے کنٹرول میں ہے۔
شام کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بم دھماکے میں کرد اسائش سیکیورٹی فورسز (کے اے ایس ایف) کے 6 اہلکار اور 2 شہری ہلاک ہوئے۔
اعماق نے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ حملے میں ایک خود کش بمبار نے اسائش کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔
بعد ازاں حمص شہر میں ایک کار خود کش بم دھماکے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔
ادھر دمشق میں الصابورا کے علاقے میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ شام میں 2011 سے جاری کشیدگی میں اب تک 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے شامی حکومت اور یہاں مسلح کارروائیوں میں مصروف گروپوں کو فوری طور پر کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالوں سے جاری تنازع کے باعث شامی عوام کو خوراک اور ادویات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
...................
ترکی نے کہا ہے اس کے حمایت یافتہ باغیوں نے شام کی سرحد کے ساتھ تقریباً ایک سو کلومیٹر کی پٹی سے داعش کے شدت پسندوں کو نکال باہر کیا ہے۔
داعش کے خلاف ترکی کی براہ راست کارروائیوں کا آغاز گزشتہ ماہ کے اواخر میں اس وقت ہوا جب صدر رجب طیب اردوان نے سرحد پر دہشت گردوں کے خطرے کو کچلنے کے لیے جنگی طیارے، ٹینک اور توپے خانے کو وہاں بھیجا تھا۔
اتوار کو ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ نے بتایا کہ شمال مشرقی سرحد پر اعزاز سے لے کر جرابلس تک کے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا۔
ان دعووں کی تصدیق لندن میں قائم غیر سرکاری تنظیم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی کی اور ایک بیان میں کہا کہ "ساجور دریا اور ال رائی دیہات کے درمیان واقع علاقوں کا کنٹرول کھو دینے کے بعد داعش کا بیرونی دنیا سے رابطہ ختم ہوگیا ہے۔"
مبصرین کا کہنا ہے کہ باغیوں کی پیش رفت سے شدت پسندوں کی وہ اہم گزرگاہیں مسدود ہو کر رہ گئی ہیں جنہیں وہ غیر ملکی جنگجو بھرتی کرنے اور اسلحہ و بارود کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اتوار کو ہی چین کے شہر ہوانگڈو میں جی 20 کانفرنس کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ شام کے ساتھ ترکی سرحد کو محفوظ بنانا بہت نازک معاملہ ہے۔
ترکی نے شام کی سرحد میں داخل ہو کر بھی کارروائیاں کی تھیں جس میں کرد باغیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس پر امریکہ نے ترکی سے کہا تھا کہ وہ اپنی توجہ داعش کے خلاف لڑائی پر مرکوز رکھے۔
.................
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر غور کر رہی ہے آیا شام پر تعزیرات لاگو کی جائیں، جس سے قبل چھان بین کرنے والے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت نے شہریوں پر کیمیائی ہتھیار گرائے ہیں۔
پہلی بار اقوام متحدہ کے کسی پینل نے اسد حکومت پر اس زیادتی کا براہ راست موجب قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں داعش پر بھی کم از کم ایک ایسے حملے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اس سے پہلے آزادانہ تفتیش میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار یقینی طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم، یہ نہیں کہا گیا کہ اِن کا ذمہ دار کون ہے۔ امریکی سفیر سمنتھا پاور نے اِس رپورٹ کو جس میں ذمہ داری کا تعین کیا گیا ہے ’’سنگ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ کرنے والوں کو ’’سخت قیمت‘‘ ادا کرنی پڑے گی۔
بقول اُن کے، ’’کونسل پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ فوری طور پر قدم اٹھائے ،تاکہ بامعنی احتساب کے مطالبے پر سنجیدگی سے عمل ہو سکے۔‘‘
تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ سنہ 2014 اور 2015ء میں صوبہٴ ادلب کے دو دیہات پر ہیلی کاپٹروں سے کیمیائی بم گرائے گئے۔ سرگرم شامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ چھ افراد ہلاک ہوئے جب کہ درجنوں مرد، خواتین اور بچوں نے اسپتالوں کا رُخ کیا، اُن کی سانس اکھڑی ہوئی تھی اور وہ سانس لینے کی کوشش کر رہے تھے، اور اُن کی آنکھیں جل رہی تھیں۔
فرانس کے سفیر نے کیمیائی حملوں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، جب کہ برطانوی سفیر نے کہا کہ ’’دلیرانہ بین الاقوامی جواب‘‘ لازم ہے۔
..................
داعش کے شدت پسند گروپ سے تعلق رکھنے والے خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شام کے شہر حلب میں اُس کا ترجمان ہلاک ہوگیا ہے۔
ایک بیان میں، گروپ نے کہا ہے کہ ابو محمد العدنانی ایک طویل عرصے سے گروہ سے وابستہ رہنے والا عہدے دار تھا۔ نیوز ایجنسی، عمق نے خبر دی ہے کہ عدنانی اُس وقت ہلاک ہوا جب وہ ’’حلب کے خلاف جاری فوجی مہم کو پسپا کرنے کی کارروائی کا جائزہ لے رہا تھا‘‘۔
..................
امریکا نے شام میں ترکی اور ترک حامی جنگجوؤں کی کرد فورسز کے خلاف لڑائی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شام کے جرابلس شہر میں ترکی فوج کے آپریشن میں عالمی اتحادیوں کی ہم آہنگی نہ ہونے سے شدت پسند گروپ داعش کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
پیںٹاگون کے ترجمان پیٹر کک کا کہنا ہے کہ واشگنٹن جنوبی جرابلس میں جاری لڑائی کو باریک بینی سے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسے علاقوں جہاں دولتِ اسلامیہ موجود نہیں بلکہ اپوزیشن کے حامی جنگجو گروپ اور ڈیموکریٹک فورسز کے جنگجو موجود ہیں جھڑپیں ہونا گہری تشویش کا باعث ہے۔‘
’ہم تمام مسلح فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ روک دیں اور علاقے کو پر امن بنانے کے لیے اقدام کرتے ہوئے بات چیت کی راہ نکالیں۔‘ پیٹر کوک کا کہنا ہے کہ ہم نے کرد فورسز حمایۃ الشعب سے متعدد بار یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ دریائے فرات کی مشرق کی طرف پلٹ آئے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر براک اوباما اپنے ترکی ہم منصب رجب طیب اردوآن سے اتوار کو چین میں جی ایٹ سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کریں گے جس میں شام کی صورتِ حال کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کرد فورسز اور دولتِ اسلامیہ دونوں کو ہی سرحد سے دور ہٹانا ہے۔
.................
ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے شمالی شام میں کرد فورسز کے زیر کنڑول چار گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق اس دوران اس علاقے میں ترکی کی فضائی کارروائیوں سے 35 عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم تنظیم 'سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کا کہنا کہ اتوار کو ہونے والے حملوں میں جبل کوسا کے گاؤں میں 20 افراد مارے گئے جبکہ 50 افراد اس علاقے میں زخمی ہوئے جو سریئن ڈیموکریٹک فورسز کی حامی ملیشاء کے قبضے میں ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک قریبی قصبے ال ارمانا میں ہوئی ایک دوسری فضائی کارروائی میں 15 عام شہری ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
ترک فوج نے اتوار کو کہا کہ شمالی شام میں اس کی طرف سے کی جانی والی فضائی کارروائیوں میں کرد عسکریت پسند ہلاک ہوئے تاہم وہ اس بات سے انکار کرتی ہے کہ اس کارروائی میں عام شہری بھی ہلاک ہو ئے۔
ترک فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام شہریوں کا تحفظ کرے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولیہ کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے کرد عسکریت پسند ترکی میں سرگرم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور سرئین ڈیمو کریٹک ( پی وائی ڈی ) " دہشت گرد ارکان" تھے۔
ترک فوج اپنے اتحادی شامی باغیوں کے ساتھ مل کر گزشتہ پانچ روز سے ترکی کی سرحد کے قریب واقع شام کے سرحدی قصبے جرابلس سے امریکہ کی حمایت یافتہ کرد فورسز اور شدت پسند گروپ داعش کے عسکریت پسندوں کو بے دخل کرنے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اتوار کو ایک جلسہ سے خطاب میں کہا کہ ترکی کی حمایت یافتہ فورسز کی طرف سےجرابلس پر داعش کے کنٹرول کو ختم کرنے کے بعد یہاں کے مکین اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔
انھوں نے جرابلس سے داعش کے عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے پر اپنی مسلح افواج کو سراہتے ہوئے کہا کہ "وہ سرحد پار سے ہم پر حملے کر رہے تھے ، اب وہ بھاگ رہے ہیں"۔
اردوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا پیچھا کیا جائے گا۔
شام میں ترکی کی فوجی مداخلت سے شام کی خانہ جنگی میں انقرہ کے کردار میں ڈرامائی طور اضافہ ہو گیا ہے۔
شمالی شام میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد مغربی ممالک کی اس بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ ترکی امریکہ کی حمایت یافتہ کرد فورسز 'کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس' ( وائی پی جی) کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
جب کہ امریکہ ’وائی پی جی‘ کو داعش کے خلاف لڑائی میں اپنا سب سے زیادہ موثر اتحادی قرار دیتا ہے جب کہ ترکی کا مطالبہ ہے کہ ’وائی پی جی‘ اس سرحدی علاقے سے نکل جائے جو داعش کے عسکریت پسندوں سے چھینا گیا ہے۔
...................
شام کے شمالی علاقے میں ترکی کے حمایت یافتہ جنگجوؤں اور کرد فورسز کے درمیان ہفتے کو ہونے والی جھڑپ کی وجہ سے شدت پسند گروپ داعش کے خلاف برسر پیکار دو امریکی اتحادیوں کے درمیان ایک مکمل جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ترکی کی اناتولیہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق کرد ملیشیاء کے ایک راکٹ حملے میں ایک ترک فوجی ہلاک جب کہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔ انقرہ کی حکومت کرد جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
جب کہ امریکہ کی حمایت یافتہ سرئین ڈیموکریٹک فورسز کا موقف ہے کہ ترکی کے لڑاکا طیاروں نے سرحدی قصبے جرابلس کے جنوب میں کرد ملیشیاء جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جہاں ترک فورسز نے بدھ کو بھی حملہ کیا تھا۔
تاہم ہفتے کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اب یہ علاقہ سرئین ڈیموکریٹک فورسز کے کنڑول میں ہے۔ فوری طور پر جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
ان جھڑپوں کی وجہ سے مغربی ممالک کی اس حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ ترک فوج کی شام میں مداخلت کا ہدف داعش کے عسکریت پسند اور کرد فورسز دونوں ہیں۔ شام میں سرگرم کرد فورسز پیپلز پروٹیکشن یونٹ یعنی ’وائی پی جی‘ ملیشیاء کے نام سے معروف ہیں۔
امریکہ ’وائی پی جی‘ کو داعش کے خلاف لڑائی میں اپنا ایک سب سے زیادہ موثر اتحادی قرار دیتا ہے جب کہ ترکی کا مطالبہ ہے کہ ’وائی پی جی‘ اس سرحدی علاقے سے نکل جائے جو داعش کے عسکریت پسندوں سے چھینا گیا ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ ایک عارضی جنگ بندی کی صورت میں اقوام متحدہ نے محصور شہر کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ بنایا ہوا ہے۔
ایک بیان میں اسٹافن دی مستیورا نےکہا کہ روس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی ہنگامی منصوبے کا احترام کرے گا جب کہ گزشتہ ہفتے پیش کیے جانے والےاس منصوبے کے لیے ماسکو کی طویل عرصے سے اتحادی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اس منصوبہ کا مقصد حلب شہر میں محصور ہزاروں افراد کو ہنگامی امداد فراہم کرنا ہے اور اس شہر کو بجلی کی فراہمی کو بحال کرنا ہے جہاں ایک وقت میں لگ بھگ 23 لاکھ افراد مقیم تھے۔
دوسری طرف برطانیہ میں قائم تنظیم سرئین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے ہیلی کاپٹروں نے چند لمحوں کے وقفے سے مشرقی حلب کے مادی کے علاقے پر دو بیرل بم گرائے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ بم حلب شہر کے نواحی علاقے میں ایک خیمے کے قریب گرے جہاں لوگ جمعرات کو ایک بیرل بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کا سوگ منا رہے تھے۔ اس حملے میں 11 بچوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوئے۔
شام کی حکومت بیرل بم استعمال کرنے سے انکار کرتی آ رہی ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ حلب کے اوپر صرف دمشق اور ماسکو کی فورسز ہی ہیلی کاپٹروں کو استعمال کر رہی ہیں۔
ہفتے کو ہی شامی باغی اور ان کے خاندانوں نے دمشق کے نواح میں واقع دریا کے قصبے سے انخلا کا عمل جاری رکھا۔
یہ پیش رفت جمعرات کو شامی حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتہ طے پا جانے کے بعدعمل میں آئی ہے۔ یہ شہر چار سال تک محاصرے میں رہا اور اس دوران ہونے والی فضائی کارروائیوں کی وجہ سے یہ تباہ ہو گیا۔
شام میں پانچ سال سے زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب کہ تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں دوسرے ملکوں کا رخ کرنا پڑا۔
...................
شامی فوج اور کرد جنگجوؤں نے شمال مشرقی شہر الحسکہ میں ایک ہفتےکی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔
ایک کرد عہدے دار نے صحافیوں کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سمجھوتے میں شہر میں جنگ بندی اور تمام مسلح فورسز کا انخلاء کا شامل ہے''۔اس عہدے دار کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی روس کے فوجی حکام کی نگرانی میں طے پائی ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کی دوپہر اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
قبل ازیں ترکی کی فوج نے شام کے شمالی شہر منبج میں توپ خانے سے کرد ملیشیا کے اہداف کو بیس مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ایک ترک عہدے دار نے بتایا ہے کہ فوج نے شام کے سرحدی قصبے جرابلس میں داعش کے اہداف پر بھی بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔
اس ترک عہدے دار کے بہ قول اس کارروائی کا بنیادی مقصد اعتدال پسند باغیوں کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔واضح رہے کہ ترکی اپنی حدود یا شام یا عراق میں برسرپیکار علاحدگی پسند کرد باغیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیتا ہے۔
شامی کرد ملیشیا نے گذشتہ جمعرات کو اسدی فوج کے متعدد ٹھکانوں اور پوزیشنوں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔شام میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد کرد ملیشیا اور اسدی فوج کے درمیان اب تک یہ شدید جھڑپیں تھیں۔اس دوران شامی فضائیہ کے لڑاکا جیٹ نے بھی کرد گروپوں کے خلاف پہلی مرتبہ فضائی حملے کیے تھے۔
یاد رہے کہ شام کے شمالی اور شمال مشرقی کرد اکثریتی علاقوں میں سنہ 2012ء میں سرکاری فوج کے انخلاء کے بعد سے کردوں کی قیادت میں ایک خود مختار انتظامیہ نے تمام نظم ونسق سنبھال رکھا ہے۔ان علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔شام کے شمال مشرق میں جزیرہ ہے،شمال میں کوبانی اور شمال مغرب میں عفرین کا علاقہ ہے۔
چند ماہ قبل کردوں اور ان کے اتحادی باغی گروپوں نے اپنا اتحاد تشکیل دیا تھا اور شامی جمہوری فورسز کے نام سے ایک مشترکہ فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا۔اس میں کرد ،عرب اور شامی عیسائی شامل ہیں۔اس اتحاد کو امریکا کی مدد حاصل ہے اور اسی کے جنگجوؤں نے اگست کے اوائل میں منبج میں داعش کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد قبضہ کیا ہے۔امریکا اس گروپ کو داعش کے خلاف لڑائی میں اہم اتحادی خیال کرتا ہے۔
...................
خبررساں ادارے رائیٹرز نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے کہا کہ حلب میں امدادی سامان پہنچانے کے بعد واپس آنے والے ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر کو مارا گرایا گیا۔
روس کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر شامی باغیوں کے زیر قبضہ علاقے ادلب میں مار گرایا گیا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق ہیلی کاپٹر پر دو افسر اور عملے کے تین افراد سوار تھے۔ یاد رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی فورسز کو روس کی فضائیہ کی مدد حاصل ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے کہا کہ حلب میں امدادی سامان پہنچانے کے بعد واپس آنے والے ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر کو مارا گرایا گیا۔
یہ ہیلی کاپٹر شام کے جنوبی صوبے لاطاقیہ میں روس کے مرکزی اڈے پر واپس آ رہا تھا۔
واضح رہے کہ حلب میں موجود باغیوں کو شامی فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور باغی فورسز وہاں سے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
یہ واضح نہیں باغیوں کے کس گروہ نے اس ہیلی کاپٹر کو گرایا۔
...................
شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ سرکاری افواج کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر زیر کنٹرول علاقے کو کھولنے کے بعد، حلب کے محصور شہر میں پھنسے ہوئے درجنوں خاندان بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کئی ہفتوں تک شہر کو بند رکھا گیا تھا، جب کہ دوسری جانب سرکاری افواج کی بم باری جاری رہی۔ اقوام متحدہ کے اہل کار اور امدادی گروپ حکومتِ شام سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ امدادی رسد کی فراہمی کے لیے راستے کھول دیے جائیں، جب کہ اُنھوں نے خبردار کیا ہے کہ محصور علاقے میں اندازاً 300000 افراد کو خوراک کی سنگین کمی درپیش ہے۔
دریں اثنا، بتایا جاتا ہے کہ داعش کے دھڑوں سے نبردآزما امریکی قیادت والے اتحاد نے حلب کے کلیدی شہر کے باہر فضائی حملے کیے ہیں، جہاں شہر کے وسطی علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے شدت پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔
امریکی فوج نے اطلاع دی ہے کہ منبج کے قریب 11 فضائی حملے ہوئے ہیں جن میں داعش کے حربی دستوں اور لڑائی کے محاذوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتحاد نے یہ بھی خبر دی ہے کہ عراق میں نو فضائی حملے کیے گئے، جن میں داعش کو نشانہ بنایا گیا۔
’وائس آف امریکہ‘ کی کُرد سروس نے رپورٹ دی ہے کہ فضائی حملوں کے دوران منبج کے وسطی علاقے میں لڑائی جاری ہے۔ شہر میں ملیشیا داعش کے شدت پسندوں سے لڑ رہی ہے، گلی گلی میں جھڑپیں جاری ہیں، ایسے میں جب اتحادی افواج شہر کے وسطی علاقے میں داعش کے محفوظ ٹھکانے کے قرب و جوار پر اپنا گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔
ایک جنگجو نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ جمعے کے روز ہونے والی جھڑپوں کے دوران اُنھوں نے کئی شدت پسندوں کی لاشیں دیکھی ہیں۔ شام میں شروع ہونے والی یہ جھڑپ رات گئے تک جاری رہی۔
ایک اور خبر کے مطابق، امریکی فوج منبج کے قریب اتحادی فضائی کارروائی کے نتیجے میں شہری آبادی پر تیسرے الزام کا جائزہ لے رہی ہے۔
پینٹاگان کے پریس سکریٹری، پیٹر کک نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اِن دعوؤں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، جو ابھی ’’ابتدائی مرحلے‘‘ میں ہے۔ انسانی حقوق سے وابستہ گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی فضائی کارروائی میں غلطی سے تقریباً 25 شہری ہلاک ہوئے، جس سے قبل اسی نوعیت کے دو واقعات ہو چکے ہیں جن کی تحقیق پہلے ہی جاری ہے۔
پینٹاگان کے اہل کار نے بتایا کہ فوج کی اپنی اندرونی اطلاع کی بنیاد پر اس واقع کی چھان بین کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’اپنے مشن پر عمل درآمد کے لیے ہم ہر روز اپنا کام جاری رکھیں گے، جب کہ ہماری یہ پوری کوشش ہوگی کہ بے گناہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے اور ان کوششوں کے دوران شفافیت اور خود احتسابی کے تقاضے پورے ہوں‘‘۔
.....................
شام میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر 72 گھنٹے کے لیے ہونے والی جنگ بندی دوسرے روز ہی ٹوٹ گئی ہے اور سرکاری فوج نے شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے ایک اہم سپلائی روٹ پر حملہ کیا ہے اور اس کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
شامی فوج نے عیدالفطر کے موقع پر ملک بھر میں بدھ کی دوپہر سے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اورباغی گروپوں پر مشتمل ایک اتحاد نے اس جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ باغیوں کی حلب میں سرکاری فوج کے ساتھ نئی جھڑپیں ہوئی ہیں اور انھوں نے کاسٹیلو روڈ پر سرکاری فوج کا ایک حملہ پسپا کردیا ہے۔اسی شاہراہ کے ذریعے حلب شہر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں تک سامان رسد پہنچایا جاتا ہے۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق باغیوں کی جانب سے حکومت کے زیر قبضہ ایک علاقے پر گولہ باری سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے اور تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں۔
حلب سے تعلق رکھنے والے ایک باغی گروپ فاستقیم کے رہ نما زکریا ملہفجی نے کہا ہے کہ ''اس وقت لڑائی کی وجہ سے کوئی بھی شخص حلب کے اندر اور وہاں سے باہر نہیں آسکتا ہے''۔
رصدگاہ کے مطابق صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے حلب کے شمال مغرب میں واقع الملاح فارمز کی جانب پیش قدمی کی ہے اور وہ کاسٹیلو روڈ سے صرف ایک کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔
شامی فضائیہ اور روس کے لڑاکا طیاروں نے حالیہ ہفتوں کے دوران کاسٹیلو روڈ پر تباہ کن بمباری کی تھی اور شامی فوج نے توپ خانے سے بھی گولہ باری کی تھی جس کی وجہ سے یہ شاہراہ بند ہوگئی تھی لیکن شامی فوج کی آج کی پیش قدمی کے بعد اس شاہراہ پر ہر طرح کی نقل وحرکت محدود ہو کررہ گئی ہے اور یہ ایک طرح سے کٹ گئی ہے۔
باغیوں کے ایک اور عہدے دار کا کہنا ہے کہ تمام دھڑوں نے شاہراہ کے دفاع اور شامی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے کمک بھیجی ہے اور وہ شامی فوج کے زیرقبضہ آنے والی چوکیوں کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔شامی فوج نے رات اس اہم شاہراہ پر تباہ کن بمباری کی تھی۔ رصدگاہ کے مطابق اس وقت حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ڈھائی سے تین لاکھ تک افراد رہ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شامی فوج نے بدھ کے روز ملک بھر میں 72 گھنٹے کی یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور یہ فیصلہ رمضان کے مقدس مہینے کے خاتمے پر عید کی مناسبت کیا گیا ہے۔
فوج کی جانب سے دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ جنگ بندی چھ جولائی کو ایک بجے رات سے لے کر آٹھ جولائی کو مقامی وقت کے مطابق نصف شب تک نافذ رہے گی۔
بیان میں یہ تفصیل نہیں بتائی گئی آیا جنگ بندی کا اطلاق جہادیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی پر بھی ہو گا، مثلاً داعش اور القاعدہ سے منسلک النصرہ محاذ۔
پولینڈ کے شہر وارسا میں نیٹو کے سالانہ سربراہ اجلاس سے قبل، جارجیا کے شہر، تلبسی میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس سے عید کی خوشیاں منانے کے سلسلے میں امن کے لمحات میسر آئیں گے۔
اُنھوں نے اِس امید کا اظہار کیا کہ ’’شاید یہ بہتر امکانات کی نوید بنے‘‘۔
کیری نے تمام فریق سے اپیل کی کہ اِس کی پاسداری کی جائے، تاکہ ملک میں جاری خونریزی میں کمی ممکن ہو۔
اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں مخاصمت کا خاتمہ ’بین الاقوامی شامی اعانتی گروپ‘ کے اندر ’’زیرِ بحث معاملہ تھا‘‘، جن کے امریکہ اور روس شریک سربراہ ہیں۔
فوری طور پر اِس بات کا عندیہ نہیں ملا آیا صدر بشار الاسد کی حکومت کی مخالف باغی فواج اِس نئی جنگ بندی پر عمل درآمد کرے گی۔
اِس سے قبل، شام میں جنگ بندی کی تمام کوششوں پر عمل درآمد ناکام رہا ہے، جس طرح پانچ برس کی خانہ جنگی کو ختم کرنے کی سفارتی کوششیں ناکام رہی ہیں؛ جن کے نتیجے میں 280000 افراد ہلاک جب کہ لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
..................
شامی فضائیہ نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع قصبے جيرود میں تباہ کن بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تیس شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔اس قصبے پر ایک شامی پائیلٹ کی ہلاکت کے بعد بمباری کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شامی طیاروں نے ایک میڈیکل سنٹر ،ایک اسکول اور ایک رہائشی علاقے کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔اس علاقے کے مکینوں نے شامی فوج کے ساتھ جنگ بندی کا سمجھوتا کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں باغیوں کے زیر قبضہ دوسرے علاقوں کے مکین بھی بڑی تعداد میں قیام پذیر ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ شامی فوج نے فضائی حملوں کے علاوہ فوجی چوکیوں سے بھی اس علاقے پر گولہ باری کی ہے۔شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے ایک کمانڈر سعید سیف القلمونی نے کہا ہے کہ یہ فضائی حملے شامی فضائیہ کے ایک پائیلٹ کی ہلاکت کے انتقام میں کیے گئے ہیں۔یہ پائیلٹ اپنا طیارہ تباہ ہونے کے بعد پیراشوٹ کے ذریعے اس قصبے میں اترنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اس کو بعد میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجو نے قتل کردیا تھا۔
شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ لڑاکا طیارہ فنی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا تھا اور پائیلٹ اس میں سے بہ حفاظت اتر جانے میں کامیاب ہوگیا تھا جبکہ باغی گروپ جیش الاسلام کا کہنا ہے کہ اس نے طیارے کو مارگرایا تھا لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ اس نے کیسے طیارے کو مارگرایا ہے۔
جیش الاسلام کا کہنا ہے کہ اس نے پائیلٹ کو گرفتار کر لیا تھا اور بعد میں اس کو النصرہ محاذ سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو نے مشترکہ کمانڈ سنٹر میں ہلاک کردیا ہے۔شامی فوج نے اس ہواباز کی سوشل میڈیا کے ذریعے ہلاکت کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد سخت ردعمل کی دھمکی دی تھی۔
.....................
اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کام کرنے والے ادارے شام کے تمام 18 محصور علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔۔ جسے ایک سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ پہلی بار دمشق کے باہر عربین اور زملکا کے محصور قصبہ جات میں بین الاقوامی امداد پہنچ چکی ہے، جن تک نومبر 2012ء سے لے کر رسائی حاصل نہیں تھی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے شام گئے عربین اور زملکا کے قصبوں میں 37 ٹرکوں کا قافلہ پہنچا۔ اِن ٹرکوں میں خوراک، پینے کا پانی، صفائی، حفظان صحت اور دیگر ہنگامی رسد موجود تھی جو 20000 شامی مرد، خواتین اور بچوں کے استعمال کے لیے کافی بتائی جاتی ہے۔
اور یہ کہ، بغیر کسے مسئلے کے اس رسد کو تقسیم کیا گیا۔ یہ بات شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی، جان ایجلنڈ نے بتائی ہے۔
تاہم، اُنھوں نے بتایا کہ ایک واقعہ پیش آیا جب ایک ڈرائیور کو سینے میں گولی لگی، جب وہ محصور علاقے سے واپس آرہا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ زخمی ڈرائیور کو دمشق کے ایک اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
بقول اُن کے، ’’تاہم، یہ معاملہ ہی ایسا ہے جس میں امداد کرتے وقت ہر قسم کا خطرہ لاحق رہتا ہے، کیونکہ شام میں ہر مقام پر مخاصمانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں، جب بمشکل کسی لمحے مہلت ملتی ہے۔ اس لیے، مشکلیں جھیلتے ہوئے کام کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں 18 محصور علاقوں تک پہنچنا مشکل کام تھا، جہاں کم از کم جزوی امداد پہنچ چکی ہے‘‘۔
ایجلنڈ نے بتایا کہ اِن علاقوں تک رسائی ممکن ہوئی۔ تاہم، اُنھیں اب بھی خوف ہے کہ لاکھوں لوگ ایسے ہوں گے جو فاقہ کشی کا شکار ہوں گے، جنھیں جنوری میں اقوام متحدہ کی امداد ملی تھی۔ ایسے لوگ پھر فاقہ کشی کی حالت میں ہوں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ تب سے دمشق کے قریب مدایہ اور زبادانی کے لوگوں، اور فواہ اور کفرایہ سے شمال میں ادلب کے قریب علاقوں کو مزید بین الاقوامی امداد نہیں مل پائی۔
اُنھوں نے کہا کہ دوسرا پریشان کُن معاملہ یہ ہے کہ محصور علاقوں میں ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جنھیں اقوام متحدہ کی جانب سے طبی خدمات اور رسد کی فراہمی نہیں ہو پائی۔
بقول اُن کے، ’’اس تنازعے میں ملوث فریق، جن میں شام کی حکومت بھی شامل ہے، شہری آبادی کے لیے معالج، نرسیں، طبی انتظامات کی فراہمی کے اجازت نامے تک جاری نہیں ہونے دیتے، وہ بین الاقوامی قانون کے ضابطوں کی پاسداری پر تیار نہیں ہوتے‘‘۔
ایجلنڈ نے کہا کی لڑائی میں ملوث فریق طبی امداد کی فراہمی کی راہ میں آڑے آتے ہیں، جن کے باعث محصور علاقوں تک ڈاکٹر نہیں پہنچ پاتے، تاکہ زخمی فوجیوں کا علاج ہوسکے۔
......................
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں حضرب زینب کے مزار کے پاس ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔
شام کے ریاستی ٹیلیویژن کی فوٹیج میں دھماکے کے بعد کی تباہی کے مناظر دکھائے گئے ہیں جبکہ جگہ جگہ تباہ شدہ گاڑیاں اور منہدم دکانیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جو حضرت سیدہ زینت کے مزار کے قریب ایک بازار میں واقع تھیں۔
اس کار بم دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہیں اور اس علاقے میں رواں برس یہ داعش کی جانب سے ہونے والا تیسرا بم حملہ تھا۔
شامی حکومت کے زیرانتظام نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکا ایک خود کش حملہ آور نے بارودی بیلٹ کے ذریعے سیدہ زینب ٹاؤن کے داخلی راستے پر کیا جب کہ دوسرا دھماکا التین اسٹریٹ پر دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی سے کیا گیا۔
یاد رہے کہ 25 اپریل کو اسی علاقے میں داعش تنظیم کی جانب سے خودکش کار بم دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے تھے۔
علاقے کے اطراف سخت سیکورٹی اقدامات ہوتے ہیں اور یہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے ۔ تاہم اس کے باوجود علاقے میں کئی دھماکے ہوچکے ہیں جن میں سب سے بڑا فروری میں ہوا تھا۔ دھماکے میں جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی، کم از کم 90 شہریوں سمیت 134 افراد مارے گئے تھے۔ یہ 2011 سے اب تک کسی بھی دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تاہم سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد کم از کم بیس ہیں جن میں 13 شہری بھی شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کا تعلق حکومت کے حامی گروپس سے ہے۔رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ بیشتر زخمی افراد کی حالت نازک ہے۔
دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑایا جبکہ اس کے حامیوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کو اڑایا۔
سیدہ زینیب کے مزار کے قریب عراقی اور افغان ملیشیاءکی جانب سے ہزاروں افراد کو بھرتی کرکے رکھا گیا ہے جہاں وہ صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی گروپس کے لڑائی کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔
یہ علاقہ لبنان کے طاقتور حزب اللہ گروپ کا مضبوط گڑھ بھی مانا جاتا ہے جو بشار الاسد کے بڑے حامیوں میں سے ایک ہے۔
دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ شامی گروپس نے دولت اسلامیہ کے خلاف ہفتہ کو مزید کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ داعش کے شمالی شام کے علاقوں کی جانب پیشقدمی کررہے ہیں۔
سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس کے مطابق سیئرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے جنگجو دولت اسلامیہ کے مضبوط گڑھ الباب نامی شہر سے سترہ کلومیٹر دور موجود ہیں جبکہ جمعہ اس گروپ نے الباب کے قصبے مینبیج کے آخری روٹ کو بھی کاٹ دیا تھا اور اسے چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔