16.10.2026, 04:06pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اے نے اورلینڈو میں حملے کے دوران عمر متین کے فون پر کی گئی کالز کا کچھ حصہ جاری کردیا ہے
22.06.2016, 01:50am , بدھ (GMT+1)


امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اے نے اورلینڈو میں حملے کے دوران عمر متین کے فون پر کی گئی کالز کا کچھ حصہ جاری کردیا ہے ۔ ریکارڈ کے مطابق حملے کے دوران عمر متین بہت پرسکون تھا ۔

ایف بی آئی کی جانب سے عمر متین اور پولیس کے درمیان تین بار ہونے والی ٹیلی فون گفتگو کے کچھ حصے نشر کیے گئے ہیں ۔ایف بی آئی کے مطابق ایک کال کے دوران عمر متین نے بتایا کہ وہ اورلینڈو میں ہے اور اس نے فائرنگ کی ہے ۔

عمر متین نے بہت پرسکون انداز میں 911 کو کال کی اور کلب کے باہر بارودی مواد سے بھری گاڑی کی اطلاع بھی دی تھی اور یہ بھی کہا کہ اُس نے بھی بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی ہے اور خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے مزید واقعات ہوں گے ۔

ایف بی آئی کے مطابق اورلینڈو فائرنگ کا کوئی پہلو تفتیش میں نظرانداز نہیں کیا گیا۔ پانچ سو افراد سے پوچھ گچھ کی ہے، عمر متین کے کسی شدت پسند گروپ سے تعلق کے شواہد نہیں ملے
................
برطانیہ کی ریسپیکٹ پارٹی کے سربراہ جارج گیلووے نے اورلینڈو حملے کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھائے ہیں؟اپنے ایک وڈیو بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ حملے کے فوری بعد جلدبازی میں بیانات جاری کیے گئے ۔ حملے کی وجہ کوئی بھی ہو اس کی وجہ اسلام نہیں ہے۔

ایک وڈیو بیان میں جارج گیلووے کا کہنا تھا کہ اورلینڈ ودہشت گردی کے حوالے سے جلد بازی میں شروع میں بیان کی گئی وجوہات اب بتدریج دم توڑ رہی ہیں ، حملے کی کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے تاہم اس کی وجہ اسلام نہیں ہے ۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس طرح ایک ایسا شخص جس سے ایف بی آئی نے دو بار دہشت گردوں سے تعلقات کے شبہے میں انٹرویو کیا ہو وہ جائز طور پر اسلحہ خریدنے میں کامیاب رہا؟
...............
...............
 امریکی خفیہ ایجنسی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے تصدیق کردی ہے کہ ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو کے نائٹ کلب میں حملہ کرنے والے عمر متین کا عراق و شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

سی آئی اے کے چیف جان برینن نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بتایا کہ ان کی ایجنسی کو عمر متین اور داعش کے درمیان تعلقات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

واضح رہے کہ عمر متین نے اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے کلب میں فائرنگ کرکے 50 افراد کو قتل اور 53 کو زخمی کرنے سے چند لمحے قبل 911 ایمرجنسی سروس کو فون کرکے داعش کی اطاعت کا اعلان کیا تھا۔

جان برینن نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ سی آئی اے اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی 4 روزہ تفتیش کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عمر متین کا حملہ ‘انفرادی فعل’ تھا۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی) بھی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ عامر متین نہ ہی حملے سے قبل داعش سے رابطے میں تھا اور نہ ہی اس حملے کی ہدایات اسے وہاں سے موصول ہوئی تھیں۔

حملے کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر جاری ہونے والے پیغامات اور 911 کو موصول ہونے والی کالز میں یہی بتایا گیا کہ حملہ آور نے داعش سے اطاعت کے اعلان کے بعد فائرنگ کی۔

تاہم تفتیش کار اب عمر متین کی اپنی جنس کے ساتھ پیچیدہ تعلقات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

سی آئی اے کے سربراہ نے کہا کہ پیرس اور برسلز میں ہونے والے حملوں کی ہدایات عراق اور شام میں موجود داعش کی قیادت کی جانب سے دی گئی تھیں۔

جان برینن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ عراق کے شہر فلوجہ اور منبج میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں کے باوجود داعش کی بیرون ملک دہشت گرد حملوں کی اہلیت کو کم نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ داعش دنیا بھر میں اپنے حملوں کی رفتار مزید تیز کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش سے وابستہ افراد کی تعداد 38 ہزار تک ہوسکتی ہے جن میں زیادہ تر جنگجو ہیں اور یہ لوگ عراق، شام، لیبیا، سینائی، نائیجیریا، یمن، افغانستان اور پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے ایک ترمیمی بل کو 198 کے مقابلے میں 222 ووٹ سے مسترد کیا، اس ترمیم میں سیکیورٹی سروسز کو امریکی شہریوں کے مواصلاتی ڈیٹا تک بغیر عدالتی حکم رسائی اور کمیونیکیشن کمپنیوں کو خفیہ ڈیٹا تک رسائی دینے پر مجبور کرنے سے روکنے کی بات کی گئی تھی۔
 .........................
صدر براک اوباما نے جمعرات کو فلوریڈا کے شہر اولینڈو میں سوگوار خاندانوں کے ارکان سے ملاقات کی، اُنھیں گلے لگا کر تعزیت کی، اور اتوار کے المناک شوٹنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس متاثرین کے سوالات کے دلائل پر مبنی جواب نہیں آیا قتلِ عام کے یہ واقعات رُک کیوں نہیں جاتے۔

نائب صدر جو بائیڈن کے ہمراہ، اوباما نجی طور پر 49 ہلاک شدگان کے لواحقین اور زخمی ہونے والے 53 افراد سے ملے جو اتوار کے روز ’پَلس‘ نامی ’گے نائٹ کلب‘ میں امریکی تاریخ کی بدترین شوٹنگ کے واقعے میں متاثر ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ آپ کا صدمہ ’’بیان سے باہر ہے‘‘۔

اوباما نے کہا کہ مہلک حملے کے بعد اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ بے لوث یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے ہمارے اپنے خاندان ہی کے ارکان تھے، اور ہمارے دل بھی اتنے ہی غمزدہ اور پریشان ہیں جتنے کہ متاثرین کے ہیں۔

بقول اُن کے، ’’اگر ہم ضروری اقدام نہیں کرتے، تو اس قسم کا مزید قتلِ عام ہو سکتا ہے، چونکہ ہم اُن کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں‘‘۔

صدر نے کہا کہ بحیثیت ِقوم ہمیں اپنے اقدار کی پاسداری کرنی ہوگی، جب کہ ہمارے دشمنوں کی یہ کوشش ہے کہ ہم اپنی روایات کے منافی اقدام کریں۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ اورلینڈو کے المناک واقعے کا حملہ آور نفرت پر مبنی خیالات اور بگڑے ہوئے نظریات پر عمل پیرا تھا جو داعش اور دیگر شدت پسند نظریات سے متاثر تھا۔ تاہم، بظاہر اُس نے یہ دہشت گردی اپنے طور پر عمل کرتے ہوئے کی، جسے بڑے پیمانے پر تباہی لانے والا اسلحہ آسانی سے دستیاب ہوا۔

ادھر، صدر نے نائٹ کلب میں کئی ہیروز کی موجودگی کا ذکر کیا، جنھوں نے، بقول اُن کے، اپنی جان پر کھیل کر اپنے ساتھیوں کی جان بچائی۔ اس ضمن میں صدر نے کلب میں موجود بہادر افراد کے علاوہ پولیس اہل کاروں، نرسوں اور ڈاکٹروں کا خصوصی ذکر کیا۔

وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق، صدر اوباما کی حمایت حملے کا شکار ہونے والی ’ایل جی بی ٹی‘ برادری۔۔۔ یعنی ہم جنس پرست، دونوں جنسوں کی طرف رجحان رکھنے والے اور جنس تبدیل کرنے والے افراد کے لیے ایک ’’وزنی توثیق‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔

صدر نے کہا کہ ہم ہم جنس پرست افراد کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اُن کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ معاشرے میں جہاں خراب لوگ ہیں وہاں اچھے لوگوں کی کمی نہیں۔

صدر نے کہا کہ اُن کی حکومت داعش اور القاعدہ کے خلاف اپنی کارروائی سختی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور اُنھیں کمزور اور تباہ کرکے دم لے گی، جس کے لیے میدانِ جنگ اور نظریات کی لڑائی میں شکست دی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سان برنارڈینو اور اورلینڈو کے واقعات میں ملوث حملہ آور بگڑے ہوئے ذہن کے مالک تھے۔ بقول اُن کے یہ تو ممکن نہیں کہ ایسے تمام واقعات کو روکا جاسکے، لیکن اِنھیں کم کرنے کی ضرور سعی کی جا سکتی ہے۔

اُنھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان اس ضمن میں ضروری قانون سازی کرتے ہوئے، قتل عام میں استعمال ہونے والے اسلحے کی آسانی سے دستیابی کو روکنے کے لیے درکار اقدام کرنے میں مدد دیں گے۔

صدر اوباما نے کہا کہ وقت آگیا ہے کی اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔

اس سے قبل، نائب صدر کے ہمراہ، صدر اوباما نے متاثرہ خاندانوں اور حکام سے ملاقات کی اور ہلاک شدگان کی یاد میں پھولوں کی چادر چڑھائی، جو علامتی 49 پھولوں پر مشتمل تھی۔
......................
 قانون نافذ کرنے والے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کو خبررساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو بتایا ہے کہ اورلینڈو کلب کے حملہ آور عمر متین کی اہلیہ کو حملے کے منصوبے کے بارے میں علم تھا اور اس پر جلد ہی حملے سے متعلق فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے کلب پر امریکہ کی تاریخ کا سب سے مہلک حملہ کیا گیا جس میں 49 افراد مارے گئے۔

عہدیدار نے کہا کہ وفاقی گرینڈ جیوری کو طلب کر لیا گیا ہے اور وہ عمر متین کی اہلیہ نور سلمان پر بدھ کو فرد جرم عائد کر سکتی ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن سینیٹر اینگس کنگ، جنہیں منگل کو اس حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی نے کہا ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بارے میں کچھ معلومات تھیں کہ کیا چل رہا ہے۔‘‘

اینگس کنگ نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ’’وہ یقینا، آپ کہہ سکتے ہیں، اس وقت مشتبہ فرد ہے اور بظاہر وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور ہمیں کچھ اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔‘‘

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب تین گھنٹوں پر مشتمل مقابلے کے بعد پولیس نے عمر متین کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس دوران اس نے 911 ایمرجنسی سروس کو ٹیلی فون کر کے مختلف اسلامی شدت پسند گروہوں سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

وفاقی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ وہ خود ہی شدت پسندی سے متاثر ہوا ہے اور ایسے کوئی شواہد موجود نہیں کہ اسے داعش جیسی کسی باہر کی تنظیم سے کوئی ہدایات یا مدد ملی ہو۔ انتیس سالہ عمر متین امریکی شہری تھا جو نیو یارک میں افغان نژاد والدین کے گھر پیدا ہوا۔

اس سے قبل عمر متین کی سابقہ اہلیہ ستوار یوسفی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عمر متین ’’ذہنی عدم توازن کا شکار‘‘ تھا اور اس پر اکثر تشدد کرتا تھا۔ ستورا کے بقول عمر کے ساتھ صرف چار ماہ تک قیام کے بعد اس کے والدین اسے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور بعد میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔

صدر اوباما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’وہ غصیلا، پریشان اور ذہنی عدم توازن کا شکار نوجوان لگتا ہے جو شدت پسندی کی طرف مائل ہو گیا۔‘‘

سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنے والے عمر متین نے بڑے منظم انداز میں لوگوں سے بھرے ہوئے کلب میں تشدد کیا اور ان لوگوں پر فائرنگ کی جو پہلے ہی زمین پر گرے ہوئے تھے۔

اس حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص اینجل کولن نے کہا وہ یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ وہ سب مر جائیں۔ ’’میں نے اوپر دیکھا تو اس نے میرے ساتھ گری ایک لڑکی کو نشانہ بنایا اور میں وہاں لیٹا یہ سوچ رہا تھا کہ ’اب میری باری ہے، میں مر چکا ہوں‘۔‘‘

عمر متین نے اینجل کو دو مرتبہ گولی ماری مگر ایک گولی اس کے ہاتھ پر لگی اور دوسری اس کے کولہے پر۔

’فوکس نیوز‘ نے ایف بی آئی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ استغاثہ عمر متین کی بیوی پر قتل کے 49 واقعات اور قتل کی کوشش کے 53 واقعات میں معاونت اور حکام کو مجوزہ حملے کے بارے میں آگاہ نہ کرنے اور وفاقی ایجنٹس سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرنا چاہتا ہیں۔

’این بی سی نیوز‘ کا کہنا ہے کہ نوز سلمان نے اپنے شوہر سے باتوں میں اسے حملے سے روکنے کی کوشش کی۔

مگر ’این بی سی‘ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک مرتبہ اسے گاڑی میں پلس کلب لے کر گئی کیونکہ وہ اس کا قریب سے جائزہ لینا چاہتا تھا۔

نور سلمان کی والدہ اقبال زہی سلمان کیلیفورنیا کے نواہی شہر روڈیو میں رہتی ہیں۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ نور سلمان عمر سے شادی کے بعد اپنی والدہ سے ملنے صرف ایک مرتبہ آئی۔

رجندر چاہل نے بتایا کہ نور کی والدہ اسے ’’زیادہ پسند نہیں کرتی تھیں۔ وہ (عمر) اسے وہاں آنے نہیں دیتا تھا۔‘‘

رجندر کے بقول انہوں نے اورلینڈو حملے کے بعد نور سلمان کی والدہ سے بات کی تھی اور وہ ’’بہت رو رہی تھیں۔‘‘
.....................
اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر فائرنگ کرنے والا عمر متین کی سابق اہلیہ ستارہ یوسفی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمر متین خود بھی ہم جنس پرست تھا، دوسری جانب ایف بی آئی نے کہا ہے کہ عمر متین کو کسی شدت پسند تنظیم کی جانب سے پیسے یا ہدایا ت ملنے کے شواہد نہیں ملے ۔

برطانوی اخبار کے مطابق اورلینڈو میں نائٹ کلب پر فائرنگ کرنے والے عمر متین کی سابق اہلیہ ستارہ یوسفی نے انکشاف کیا ہے کہ عمر متین خود بھی ہم جنس پرست تھا جبکہ کلب میں جانے والے دیگر افراد کا کہنا ہے کہ عمر متین شراب بھی پیا کرتا تھا ، کلب جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ عمر متین ہم جنس پرستوں کی موبائل ایپ بھی استعمال کرتا تھا۔ 

عمر متین کے ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی اخبار کو بتایا کہ وہ عمر متین کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے کلب جایا کرتا تھا ، دوسری جانب عمر متین کے والد نے ہم جنسی پرستی کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کی تردیدمیں کہا کہ انہیں اس بات پر یقین نہیں ہے ۔

ادھر ایف بی آئی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، ایف بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کوئی شواہد نہیں ملے کہ عمر متین کو بیرون ملک کسی شدت پسند تنظیم کی جانب سے ہدایات یا معاونت حاصل ہوئی بلکہ لگتا ہے کہ عمر متین از خود انتہاپسند رجحانات کی جانب مائل ہوا


.............................
 امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب پر فائرنگ کے نتیجے میں 50 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر پوری دنیا سوگوار ہے۔

یاد رہے کہ اتوار 12 جون کو عمر متین نامی شخص نے اورلینڈو کے ایک نائٹ کلب میں اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوگئے۔

دنیا بھر میں ایک طرف جہاں اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے اور امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعہ کو مسلمانوں اور شدت پسندی سے جوڑ دیا، وہیں بہت سے لوگ خصوصاً مسلمان اپنے اعمال اور کردار کی وجہ سے نئی مثالیں بھی قائم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا:ہم جنس پرستوں کے کلب میں فائرنگ، 50 ہلاک

امریکا سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان محمود الاوادی نے اس واقعے کے بعد نہ صرف زخمیوں کو خون کا عطیہ دیا بلکہ اپنی ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے حب الوطنی کا اظہار بھی کیا۔

محمود الاوادی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا:

'میرا نام محمود ہے اور مجھے اپنے مسلمان اور امریکی ہونے پر فخر ہے۔'

' باوجود اس کے کہ ماہ رمضان کے دوران میں روزے سے ہوں اور کچھ کھا پی نہیں سکتا، میں نے آج اُن سیکڑوں مسلمانوں کی طرح خون کا عطیہ دیا ہے، جو یہاں اورلینڈو میں موجود ہیں۔'

'گذشتہ رات جو کچھ ہوا، مجھے اس بات پر غصہ ہے اور میں افسردہ ہوں کہ خود کو مسلمان کہنے والے ایک نوجوان نے یہ شرمناک کام کیا۔'

'میں اس ملک کی عظمت دیکھ سکتا ہوں کہ یہاں لوگ 92 ڈگری سورج کے نیچے خون کا عطیہ دینے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں، جبکہ انھیں بتایا گیا ہے کہ ان کی باری آنے میں 5 سے7 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔'

'یہ دنیا کی عظیم قوم ہے، جہاں بچوں سمیت مختلف عمر کے لوگ پانی، جوس، کھانا، چھتری اور سن بلاک وغیرہ خون کا عطیہ دینے والوں کو رضاکارانہ طور پر دینے کے لیے یہاں موجود ہیں۔'

'یہاں بوڑھے لوگ بھی موجود ہیں اور حجاب لی ہوئی ایک خاتون بھی، جو خون کا عطیہ دینے والوں کے لے پانی اور کھانا لیے کھڑی ہیں۔'

'ہم مل کر نفرت، دہشت گردی، شدت پسندی اور نسلی تعصب کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں۔'

ساتھ ہی محمود نے دیگر لوگوں پر بھی زور دیا کہ 'ہم سب کا خون ایک جیسا ہی دکھتا ہے، لہذا آئیں اور خون کا عطیہ دیں کیوں کہ ہمارے زخمی امریکی بہن بھائیوں کو اس کی ضرورت ہے۔'

اورلینڈو کے نائٹ کلب میں فائرنگ کو حکام نے فوری طور پر اسے 'دہشت گردی' کا واقعہ قرار دیا، قانون نافذ کرنے والے ایک عہدیدار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک مسلح شخص نے نائٹ کلب سے 911 ایمرجنسی سروس کو کال کی اور شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی سے اپنی بیعت کا اقرار کیا۔

فائرنگ کی اطلاع سامنے کے 3 گھنٹے بعد پولیس نے کلب میں موجود مسلح شخص عمر متین کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

عمر متین کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ مذہب کے قریب تھا تاہم زیادہ تر خاموش رہتا تھا اور لوگوں میں گھلتا ملتا نہیں تھا۔

امام مسجد سید شفیق الرحمٰن کے مطابق وہ بالکل بھی ایسا نہیں دکھتا تھا کہ وہ اتنا بڑا قتل عام کرے گا۔

عمر متین کی سابق اہلیہ ستارہ یوسفی نے اورلینڈو فائرنگ کے واقعے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کرنے کے بجائے عمر متین کی ذہنی حالت سے جوڑا تھا۔

ستارہ یوسفی کا کہنا تھا کہ عمر متین ایک جذباتی، ذہنی طور پر پریشان اور پرتشدد مزاج کا حامل شخص تھا جو پولیس افسر بننا چاہتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ذہنی طور پر غیرمستحکم اور بیمار تھا۔

دوسری جانب امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کو مسلمانوں اور شدت پسندی سے جوڑ دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سارا غصہ ٹوئٹر میں نکا لتے ہوئے مسلمانوں کو شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا۔

ٹرمپ نے حملے کے ایک گھنٹے بعد ہی ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ لوگ میرے موقف (مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی) کے بارے میں مبارک باد دے رہے ہیں لیکن مجھے مبارک نہیں چاہیے، میں ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا، 'اورلینڈو میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ ابھی تو آغاز ہے، ہماری قیادت کمزور ہوچکی ہے، میں نے پہلے ہی مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا کہا تھا۔'

امریکی صدر براک اوباما کا اپنے خطاب میں کہنا تھا واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے، حملہ آور سے متعلق قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی ہم اس واقعہ سے متعلق حمتی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایف بی آئی اس کی تحقیقات کررہی ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن نے بھی کلب میں فائرنگ کو دہشت گردی قرار دیا تاہم انہوں نے دہشت گرد کے مذہب کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔

انہوں نے فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
.....................
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اورلینڈو کے نائٹ کلب میں فائرنگ کرنے والا انٹرنیٹ پر دستیاب انتہا پسندانہ معلومات سے متاثر ہوا تھا۔انھوں نے واقعے کو ''ملک میں پیدا شدہ انتہا پسندی'' کی مثال قراردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی حکام ایک عرصے سے اس کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔

صدر اوباما سوموار کو اوول آفس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ یہ حملہ بھی گذشتہ سال کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے ایسا ہی ہے۔البتہ ابھی ہم مکمل تفصیل نہیں جانتے ہیں۔

ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملے کی تحقیقات کرنے والے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قاتل کو بیرون ملک سے ہدایات جاری نہیں کی جارہی تھیں لیکن وہ جزوی طور پر داعش گروپ سے متاثر ضرور تھا۔

صدر اوباما نے اس بات کو دُہراتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس مرحلے پر ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس سے یہ پتا چلے کہ اس کو باہر سے ہدایات جاری کی جارہی تھیں''۔انھوں نے بتایا کہ قاتل نے آخری منٹ میں بظاہر داعش سے تعلق وبیعت کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ واقعے کی دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر تحقیقات کی جارہی ہے اور تفتیش کار انٹرنیٹ پر اس مواد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو شوٹر نے ممکنہ طور پر پڑھا ہوگا۔تفتیش کار ابھی تک حملہ آور کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں اور وہ تمام امکانات پر غور کررہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ داعش اور القاعدہ ایسی تنظیمیں ہم جنس پرست مرد وخواتین کو اپنے برے غلط نظریے اور ہم جنس پرستی کے بارے میں اپنے مذہبی معتقدات کی بنا پر بھی نشانہ بناتی رہتی ہیں۔اس ضمن میں یہ ایک متعلق حقیقت ہے کہ یہ حملہ ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب پر کیا گیا ہے۔

صدر اوباما نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے ،ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری (وزیر) جیہ جانسن اور دوسرے حکام کی جانب سے بریفنگ کے بعد میڈیا سے یہ گفتگو کی ہے۔امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں اتوار کو علی الصباح ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں مسلح شخص نے گھس کر فائرنگ کردی تھی جس سے پچاس افراد ہلاک اور تریپن زخمی ہوگئے تھے۔

امریکا کی جدید تاریخ میں فائرنگ کا یہ بدترین واقعہ ہے۔یہ حملہ ایک افغان نژاد امریکی شہری عمر ایس متین نے کیا تھا۔اس کو خصوصی فورسز کے دستوں نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت جاری نہیں کیا ہے۔
..................
اورلینڈو کے نائٹ کلب میں حملہ کرنے والے شخص عمر متین کی سابق اہلیہ نے اسے ذہنی عدم توازن کا شکار اور بیمار بتایا ہے اور اس سے اپنی مختصر شادی کو ’’جہنم‘‘ قرار دیا ہے۔

ستورا یوسفی نے اتوار کی شام نامہ نگاروں کو امریکی تاریخ کے بدترین قتل عام کے ذمہ دار شخص سے چار ماہ کی شادی کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ شادی کے شروع کے دنوں میں ’’نارمل‘‘ تھا مگر جلد ہی بات بے بات غصے میں آ جاتا۔

ستورا یوسفی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وہ جسمانی تشدد پر اتر آیا اور شدید غصے کی حالت میں اسے چھوٹی چھوٹی بات پر مارنے لگا، مثلاً جب وہ گھر سے آتا تو کپڑے دھلے نہ ملنے پر مارنے لگتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سابق شوہر نے انہیں یرغمال بنا رکھا تھا اور ان کے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیتا تھا۔ ستورا نے بتایا کہ اپنے اہل خانہ کی مدد سے وہ ایک دن اپنی چیزیں چھوڑ کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

ستورا نے کہا کہ اس کی بدمزاجی کے باوجود جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اس کا سابق شوہر اس قتل عام کا ذمہ دار ہے تو وہ ’’ہل کر رہ گئی‘‘ اور یہ ایسی چیز تھی جس کی اسے کبھی توقع نہ تھی۔

عمر متین کے والد میر صدیق نے این بی سی ٹیلی وژن نیٹ ورک کو بتایا کہ ممکن ہے کہ ان کا بیٹا اپنے مذہب کی بجائے ہم جنس پرستوں سے نفرت کی وجہ سے اس کام کرنے پر مائل ہوا ہو۔

انہوں نے ریاست فلوریڈا کے ایک اور شہر میامی میں ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

’’اس نے دو مردوں کو ایک دوسرے کو اپنی بیوی اور بچے کے سامنے بوس و کنار کرتے دیکھا تو وہ شدید غصے میں آ گیا ۔۔۔ اس نے کہا ’انہیں دیکھو، میرے بیٹے کے سامنے وہ ایسا کر رہے ہیں۔‘ پھر ہم مردوں کے باتھ روم میں گئے تو وہاں بھی مرد یہی کر رہے تھے۔‘‘

حملہ آور کے والد نے اس حملے کے متاثرین سے معافی مانگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس کے رشتے دار اس کے اس کے کسی بھی عمل سے آگاہ نہیں تھے۔ ہم باقی ملک کی طرح صدمے میں ہیں۔‘‘

نا ہے کہ حملہ آور عمر متین نے گزشتہ ہفتے ہی دو گنیں خریدی تھیں ۔

امریکی میڈیا نے ایف بی آئی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اورلینڈو حملہ آور 29 سالہ افغان نژاد امریکی شہری عمر متین نے گزشتہ ہفتے ہی دو گنیں خریدی تھیں ۔ جن میں ایک ہینڈ گن جبکہ ایک اے آر 15 نامی رائفل شامل تھیں ۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ عمر متین نے فائرنگ سے پہلے ہیلپ لائن نائن ون ون پر کال کی تھی اور داعش کے سربراہ سے بیعت کا بتایا تھا ۔

ملزم سے 2013 اور 2014 میں انتہاپسندوں سے تعلق کے شبہ میں تفتیش کی تھی مگر کوئی ثبوت نہ ملنے پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

تفتیش میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فائرنگ سے پہلے داعش کے سربراہ سے بیعت کا بتایا تھا ۔29سالہ عمر متین خاموش طبع اور تنہا ئی پسند تھا ۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں نوجوان کی فائرنگ سے 50 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہونے کے بعد اورلینڈو میں ہنگامی حالت نافذکردی گئی ہے ۔ شہریوں سے خون دینے کی اپیل اور امریکا بھر میں پرچم سرنگوں کر دیا گیا ۔

ادھرامریکا میں مسلم تنظیموں کی جانب سے اورلینڈو فائرنگ واقعےکی شدید مذمت کی گئی اور کہا ہے کہ یہ نفرت پر مبنی اقدام ہے جس کی اسلام کسی طور اجازت نہیں دیتا۔

داعش نے اورلینڈو فائرنگ کی ذمےداری قبول کرلی ہے اور ویب سائٹ پر بیان جاری کردیا گیا ہے۔ تاہم فلوریڈا سینیٹر بل نیلسن کہتے ہیں دعوے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
......................
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں اتوار کو ایک مشہور نائٹ کلب میں فائرنگ سے 50 افراد ہلاک اور 53 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

اورلینڈو میں پولیس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ "پلس اورلینڈو" کلب میں پیش آیا جو کہ ہم جنس پرستوں کا ایک مقبول نائٹ کلب ہے۔

پولیس کے سربراہ جان منا کے مطابق حملہ آور کے پاس ایک مشکوک آلہ تھا اور کلب میں داخل ہونے پر اس کا وہاں موجود ایک سکیورٹی افسر کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بعد ازاں حملہ آور نے یہاں کچھ لوگوں کو یرغمال بھی بنایا لیا۔

ان کے بقول پولیس کا خصوصی دستہ جائے وقوع پر پہنچا اور اس دوران حملہ آور اور اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا۔

اورلینڈو کے میئر بڈی ڈائر نے صحافیوں سے گفتگو میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوع پر "ہر طرف خون ہی خون بکھرا ہے۔"

حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت عمر متین کے نام سے ہوئی ہے جو فلوریڈا کے علاقے سینٹ لوسی کا رہائشی تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ عمر کا خاندان افغانستان سے آکر یہاں آباد ہوا تھا اور وہ امریکہ میں ہی پیدا ہوا تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" کے ترجمان ڈینی بینکس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کے اس واقعے کی دہشت گرد کارروائی کے طور پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول حکام یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ مقامی یا بین الاقوامی دہشت گردی کا معاملہ ہے اور کیا حملہ آور اس میں اکیلا ہی ملوث تھا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی نے ایک عینی شاہدین میں شامل ایک شخص جان الامو کے حوالے سے بتایا کہ وہ کلب کے عقبی جانب موجود تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو اسلحے کے ساتھ سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ "میں نے 20، 40، 50 گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں اور موسیقی بند ہوگئی۔"

ایک اور شخص روب رک نے بتایا کہ یہ واقعہ رات دو بجے کے قریب کلب کے بند ہونے سے کچھ دیر قبل پیش آیا۔ "سب لوگ اپنے اپنے مشروبات ختم کرنے والے تھے۔"

کلب نے اپنے فیس بک پر فوری طور پر پیغام لکھا کہ لوگ یہاں سے نکلیں اور بھاگ جائیں۔

پولیس نے مقامی رہائشیوں کو اس مقام سے دور رہنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل ہی اورلینڈو میں ایک نوجوان گلوکارہ کو پرفامنس کے بعد ایک شخص نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

صدر بارک اوباما نے اورلینڈو نائٹ کلب پر فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی اور نفرت پر مبنی قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاوٴس سے جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی ہر واردات کی مذمت کرتے ہیں۔ آج کا دن امریکہ کے لئے بہت برا ثابت ہواہے۔

صدر اوباما نے مزید کہا کہ ایف بی آئی واقعے کا جائزہ لے رہی ہے۔ امریکی عوام اس واقعے پر گہرے دکھ میں ہیں۔

صدر نے واقعے میں انتقال کرجانے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس غم میں ان کے برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج درجنوں بے گناہ افراد کی خوفناک اور خونریز ہلاکتوں پر غمگسار ہیں۔ ہم لواحقین کے لئے دعا گو جو مرجھائے ہوئے دلوں کے ساتھ ہم سے جواب طلب ہیں۔ ہم اورلینڈو کے عوام کے ساتھ ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ واقعے کی مکمل تفتیش کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔اتفتیش ابھی جاری ہے۔ ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات دہشت گردانہ حملے کے طور پر کر رہی ہے ۔ میں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تفتیش میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

:دیگر مضامین
(22.06.2016) امریکا افغانستان کو 3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے گا
(21.06.2016) افغانستان میں دو حملے، کم از کم چوبیس ہلاک
(21.06.2016) روس پر پابندیاں برقرار رہنا ضروری ہیں، اسٹولٹن برگ
(20.06.2016) کابل میں خودکش دھماکا،14 افراد ہلاک،23 زخمی
(20.06.2016) چین، ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کیخلاف نہیں: سشما سوراج
(19.06.2016) پناہ گزینوں کو حراست میں لینا بحران کا حل نہیں: بان کی مون
(19.06.2016) امریکا کا پھر پاکستان سے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
(19.06.2016) مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طورخم پرگیٹ کی تعمیرروکی نہیں جاسکتی۔پاکستان کسی دوطرفہ معاہدےکی خلاف ورزی نہیں کررہا
(19.06.2016) دہشت گردی کی منصوبہ بندی، بیلجیم میں 12 افراد گرفتار
(19.06.2016) مصر: ڈاکٹر مرسی کو جاسوسی کے مقدمے میں عمرقید ۔ الجزیرہ کے دو صحافیوں کو مصری دستاویزات قطر کے حوالے کرنے پر سزائے موت
(18.06.2016) جوکاکس کاقتل ،برطانوی حکومت خطرات سےآگاہ تھی، میڈیا
(18.06.2016) واشنگٹن: ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی
(17.06.2016) آسٹریلیا: وزیراعظم کا ہم جنس پرست مخالف امام کو مدعو کرنے پر اظہار افسوس
(17.06.2016) گجرات فسادات: 24 میں سے 11 مجرمان کو عمر قید
(17.06.2016) برطانوی خاتون رکن پارلیمان جُو کوکس فائرنگ سے ہلاک
(16.06.2016) بحیرہ روم میں تباہ ہونیوالے مصر ی مسافر طیارے کا ملبہ مل گیا
(16.06.2016) بیلجیئم ،فرانس میں ممکنہ دہشتگرد حملوں کی اطلاع ،پولیس الرٹ
(15.06.2016) مسجد حرام میں زائرین کی سیکورٹی کے لئے 30 ہزار اہلکار تعینات
(15.06.2016) فرانس: ملازمتوں کے مجوزہ قانون کے خلاف مظاہرے میں جھڑپیں
(15.06.2016) امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر بندش کا مطالبہ کرنے پر، براک اوباما نےری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی شدید مذمت کی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں