امریکا نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم کے سائے منڈلارہے ہیں جبکہ چین نے ہندوستان کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں شمولیت کے حوالے سے مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدے دار نے اس امکان کو مسترد کردیا کہ ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت سے جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام پر فرق پڑے گا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خطے میں جوہری تنازعات پیدا ہونے کا خطرہ ضرور ہے۔
امریکی عہدے دار نے مزید کہا کہ ہمیں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات پر تشویش ہے، اس کے علاوہ ایٹمی ذخائر میں اضافے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان روایتی جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ چین نے 48 رکنی این ایس جی گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کی شدید مخالفت کی ہے جبکہ ہندوستان کی شمولیت کے مخالف نیوزی لینڈ، ترکی، جنوبی افریقا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے گروپ میں سب سے اہم کردار چین کا ہی ہوگا۔
این ایس جی کا بنیادی مقصد حساس جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی پر کنٹرول رکھنا ہے یہی وجہ ہے کہ جو ممالک ہندوستان کی شمولیت کی مخالفت کررہے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ نئی دہلی پہلے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرے۔
لیکن امریکا اس حوالے سے ہندوستان کے لیے استثنیٰ کا خواہاں ہے، تاہم چین کا موقف ہے کہ اگر ایک ملک کو چھوٹ دی گئی تو ایسے ممالک جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے اور این ایس جی میں شمولیت چاہتے ہیں انہیں بھی استثنیٰ دینا ہوگا۔
پاکستان اور ہندوستان دونوں ہی نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے اور دونوں نے این ایس جی میں شمولیت کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لی نے اپنے بیان میں کہا کہ این پی ٹی پر دستخط نہ کرنے والے ممالک کی این ایس جی میں شمولیت کے حوالے سے شدید اختلافات برقرار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ممالک کو رکنیت دینے کے معاملے پر چین کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ جامع مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے اور متفقہ فیصلے تک پہنچا جائے۔
ہانگ لی نے کہا کہ این پی ٹی جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے لیے سیاسی اور قانونی اساس فراہم کرتا ہے اور چین اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ہونے والے مزید مذاکرات کی حمایت کرے گا۔