15.10.2026, 04:47am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طورخم پرگیٹ کی تعمیرروکی نہیں جاسکتی۔پاکستان کسی دوطرفہ معاہدےکی خلاف ورزی نہیں کررہا
19.06.2016, 08:30am , اتوار (GMT+1)


مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طورخم پرگیٹ کی تعمیرروکی نہیں جاسکتی۔پاکستان کسی دوطرفہ معاہدےکی خلاف ورزی نہیں کررہا۔گیٹ اپنےعلاقےمیں بنارہےہیں،کسی سےاجازت لینےکی ضرورت نہیں۔بارڈرمینجمنٹ نظام قائم ہونےتک دہشتگردی پرقابونہیں پایاجاسکتا ۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویومیں مشیرخارجہ سرتاج عزیزنےکہاکہ طورخم بارڈر پرگیٹ کی تعمیر کرکے پاکستان کسی دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کررہا، گیٹ پاکستانی علاقے میں بنارہے ہیں جس کیلئے کسی سے اجازت اور تعمیر روکنے کی ضرورت نہیں۔ 

ان کاکہناتھاکہ طورخم کاراستہ کھلنےسےافغانستان کےعوام خوش ہیں، سرحدپرسفری دستاویزات کی پابندی جیسےاقدامات دونوں ممالک کے حق میں ہیں۔ 

مشیرخاجہ نےبتایاکہ بارڈرمینجمنٹ کانظام قائم ہونےتک دہشتگردی پرقابونہیں پایاجاسکتا،ساتھ ہی واضح کیاکہ پاکستان پر کسی بھی ملک نے حملہ کیا تو بھرپورجواب دیاجائےگا۔
..................
افغان سرحد پر طورخم بارڈر کو 5 دن بعد کھول دیا گیا، جبکہ کرفیو بھی اٹھالیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں جانب کی سرحدی انتظامیہ نے ہفتہ 18 جون کو علی الصبح ملاقات کی اور طورخم گیٹ کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔ بارڈر کھلنے سے قبل دونوں جانب سے آفیسرز کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی۔

میٹنگ کے بعد پاک-افغان فورسز کے درمیان تحائف اور پھولوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد باضابطہ طور پر بارڈر کو کھول دیا گیا۔

پاک فورسز نے طورخم بازار سے کرفیو بھی ختم کرنے کا اعلان کر تے ہوئے بازار کو کھول دیا۔

بارڈر کھلنے کی اطلاع ملتے ہی دونوں جانب سے مسافروں کی بڑی تعداد پہنچ گئی اور گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر زیر تعمیر گیٹ کو افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے میجر علی جواد کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بارڈر کراس آنے والوں کی سفری دستاویزات کو مکمل طور پر چیک کیا جائے گا اور صرف ان ہی افراد کو طورخم کے راستے پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، جن کی سفری دستاویزات مکمل ہوں گی۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 12 جون کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بارڈر طورخم پر گیٹ کی تعمیر کی وجہ سے شدید جھڑپ ہوئی تھی۔

طورخم بارڈر پر افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 3 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے تھے،جس کے بعد طورخم سے لنڈی کوتل بازار تک کرفیو نافذ کردیا گیا اور پاکستان نے افغان سے شدید احتجاج کیا تھا۔

بعدازاں میجر علی جواد زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے تھے ۔

جھڑپوں کے 3 دن بعد پاکستان اور افغانستان کی سرحدی انتظامیہ نے طورخم سرحد پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے سرحد کے دونوں جانب سفید جھنڈے لہرا دیئے تھے۔

ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر پاکستانی سائیڈ پر گیٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے اور سرحد کی دونوں جانب مسافروں کی آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ افغان حکام کو طورخم بارڈر پر پاکستان کی جانب سے گیٹ کی تعمیر اور خاردار تاروں پر اعتراض ہے اور اس حوالے سے کشیدگی 2 ماہ سے جاری ہے۔

گذشتہ ماہ طورخم بارڈر کراسنگ پر باڑ لگانے کے تنازع کے باعث کراسنگ کئی روز تک بند رہی تھی، جبکہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے سرحدی علاقوں میں اضافی فوج اور بکتر بند گاڑیاں بھی تعینات کردی تھیں۔

طورخم گیٹ پر آمدوروفت بند ہونے کے باعث عام لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے آئے ہیں۔

حالیہ کشیدگی طورخم بارڈر پر گیٹ کی تعمیر کی وجہ سے پیدا ہوئی، پاکستان کا موقف ہے کہ سرحد پر لوگوں کی نقل حمل پر نظر رکھنے، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے انتظامات اور سہولیات، انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ طورخم بارڈر پر گیٹ کی تعمیر کرکے پاکستان کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کررہا اور وہ موثر حفاظتی انتظامات کے لیے اس منصوبے پر کام جاری رکھے گا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سرحدی انتظامات کو مضبوط بنائے بغیر، سرحد کے دونوں جانب امن و استحکام ممکن نہیں۔
.....................
پاکستانی اور افغانی حکام، طورخم بارڈر کے ساتھ پاکستانی علاقے میں گیٹ کی تعمیر کے حوالے سے تاحال مخمصے کا شکار ہیں۔

دونوں ممالک نے ایک روز قبل سفارتی اور عسکری رابطوں کے بعد، پاکستان کی جانب سے گیٹ کی تعمیر کی وجہ سے جھڑپ کے بعد کشیدگی کو کم کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن جن شرائط پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا اس حوالے سے متنازع دعوے سامنے آرہے ہیں۔

افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال کی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات کے بعد، پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ افغانستان کشیدگی ختم کرکے بارڈر گیٹ تعمیر کرنے کی اجازت دے گا، جبکہ بدلے میں پاکستان طورخم بارڈر پر سرحد پار آمد و رفت کی اجازت دے گا۔

لیکن افغان سفیر نے، جنہوں نے پہلے خود سیز فائر کی تصدیق کی تھی، اپنے بیان میں کہا کہ تعمیراتی کام کی بحالی لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات میں ہونے والے اتفاق رائے کے برعکس ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنرل حیات سے ملاقات میں چار نکات پر اتفاق ہوا تھا، جن میں پہلا یہ کہ فوری سیز فائر، کشیدگی میں کمی اور دونوں طرف سے طورخم پر تعینات فوجی دستے واپس بلائے جائیں گے۔

ملاقات کے دوسرے نکتے جس پر اتفاق کیا گیا وہ یہ تھا کہ قیادت کی سطح پر بات چیت، تیسرا یہ کہ معاملے کے تیزی اور خوش اسلوبی سے حل کے لیے پاک ۔ افغان ملٹری کوآرڈینیشن اجلاس بلایا جائے گا، جبکہ چوتھا نکتہ یہ تھا کہ مزید ایسے واقعات سے بچنے اور مذاکرات سے بات چیت کا حل نکالنے کے لیے تعمیری کام روک دیا جائے گا۔

افغان سفیر نے دھمکی دی کہ اگر تعمیراتی کام نہ روکا گیا تو وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں گے۔

عمر زاخیل وال کے بیان کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی عہدیدار نے ان پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ابہام پیدا کرنے کا الزام لگایا۔

قبل ازیں میڈیا بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’افغانیوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔‘

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ طورخم بارڈر تنازع کے حوالے سے مذاکرات کا مقصد معاملے کر پرامن طریقے سے حل کرنا اور رابطے کے فقدان کو ختم کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گیٹ تعمیر کا مقصد موثر بارڈر منیجمنٹ اور سرحد پار نقل و حمل کی نگرانی کرنا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بارڈر تصادم کے حوالے سے پاکستان اپنے تحفظات اور خدشات سے افغان حکومت کو آگاہ کرچکا ہے، اور ساتھ ہی افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا کہ موثر بارڈر منیجمنٹ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے
..........................
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ طورخم بارڈرپرکشیدگی کوجنگ کانام نہ دیاجائے، سرحدی کشیدگی سےمتعلق بات چیت جلد کسی نتیجےپرپہنچ جائےگی،ایران کاکل بھوشن یادوسےمتعلق جواب انکےتعاون کاحصہ ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایاکہ پاک افغان سرحدپر آمد و رفت کو ضابطے میں لانے کیلئے پُرعزم ہے۔ 2250کلومیٹر طویل سرحد پر ایک نہیں چار گیٹ بنائیں جائیں گے ۔ خطے میں جو ممالک امن کے حامی نہیں وہ افغانستان کو بہکا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے درمیان کوئی باقاعدہ جنگ نہیں، سرحد وں پر ایسی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، اس کشیدگی کو جنگ کا نام نہ دیا جائے،بین الاقوامی بارڈرز پر چھوٹے موٹے مسائل ہوتے رہتے ہیں جو مذاکرات سے حل کیے جاتے ہیں۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات صرف ہمسایہ ملک کے نہیں بلکہ دونوں ممالک تاریخی، مذہبی، ثقافتی تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔افغان سفیر کی دفتر خارجہ اور جی ایچ کیو میں ہونے والے ملاقاتوں کا واحد مقصد کشیدگی میں کمی اور بات چیت کا آغاز کرنا تھا۔

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد افغانستان میں امن قائم کرنا ہے ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ہے ،اس بارڈر کی مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے۔بارڈر مینجمنٹ ہماری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان پاک سرحدی کشیدگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے،جلد ہی بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے گی، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اورہماری افغانستان سے وابستگی ہے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی توسیع کے حوالے سے عالمی برادری کو قابل احترام اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ ان کی گھروں کو واپسی یقینی بنایا جا سکے۔

....................
طورخم بارڈر پر پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور کشیدگی پر امریکا نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان طورخم بارڈر پر حالیہ جھڑپیں تشویش کا باعث ہیں اور ان جھڑپوں میں دونوں جانب سے جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں ۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقے میں بھاری ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاعات پر بھی امریکا کو تشویش ہے ۔ ہم پاکستان اور افغانستان دونوں حکومتوں پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ سرحدی تنازعات کو حل کریں اور کشیدگی میں کمی لائیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا متعدد بار کہہ چکا ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات خطے کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں 
...............
پاکستان اور افغانستان کی فوجوں کے درمیان دو طرفہ شیلنگ کا دوبارہ تبادلہ ہوا ہے۔ افغان حکام نے تازہ شیلنگ میں ایک افغان گارڈ اور پانچ کے زخمی ہونے کا بتایا ہے۔

 افغانستان نے  بدھ کے روز ایک مرتبہ اِس امر کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے سرحد پر بھاری ہتھیاروں سمیت مزید فوجی نفری تعینات کر دی ہے۔ اتوار کے روز سے دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی مسلح کشیدگی میں تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

 پاکستانی سرحد سے جڑے افغان صوبے ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیلنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے کیونکہ اِس سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بھی نام مخفی رکھتے ہوئے تازہ شیلنگ کی تصدیق کی ہے۔
.......................
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان صورتحال کو خراب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا اور دونوں ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ کشیدگی کو پرامن طریقے سے دور کریں۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ رواں ہفتے اہم سرحدی گزرگاہ طورخم پر دونوں جانب کی سکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں دونوں جانب جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

منگل کو واشنگٹن میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ جان کربی نے کہا کہ امریکہ صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔

"ہم دونوں جانب کے حکام سے رابطے میں ہیں، ہم تناؤ کے پرامن حل پر زور دیتے رہیں گے۔ ہم جھڑپیں نہیں دیکھنا چاہتے، ہم تشدد نہیں دیکھنا چاہتے، ہم صورتحال کو مزید خراب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔"

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ اولسن نے دونوں ملکوں کے اپنے حالیہ دورے میں عہدیداروں سے ہونے والی ملاقاتوں میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔

پاکستان کا اپنی مشرقی سرحد پر روایتی حریف بھارت کے ساتھ بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا جس سے دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے مابین بھی تناؤ میں اضافہ ہوا تھا اور اب مغربی سرحد پر افغانستان فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام ممالک سے اپنے تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا آیا ہے۔

حالیہ مہیںوں میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو 40 کروڑ ڈالر سے زائد کے زر اعانت کو روکنے اور پھر فوجی امداد کو مشروط کرنے جیسے اقدام ہیں۔

پاکستان کو ملنے والی کروڑوں ڈالر کی امداد کو دہشت گردوں کے خلاف اس کی "تسلی بخش" کارروائیوں سے مشروط کیا گیا ہے۔ اسلام آباد اس پر یہ کہہ کر تنقید کرتا ہے کہ اس نے اپنے ہاں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس کے حاصل ہونے والے نتائج کو عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے۔


منگل کو محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے ضمن میں پوچھا گیا کہ آیا "لیہے قانون" کے تحت امریکہ پاکستان کے لیے امداد روک سکتا ہے؟

ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے بارے خاص طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن امریکہ کو دنیا بھر میں ماورائے عدالت قتل، دوران حراست اموات، جبری گمشدگیوں اور اغوا سے متعلق خبروں پر تشویش ہے۔

"ہم خطے میں باقاعدگی سے ہونے والی دو طرفہ ملاقاتوں میں انسانی حقوق سے متعلق امور بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ ہم ایسے الزامات کی شفاف طریقے سے تحقیقات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔۔۔جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔"

لیہے قانون کے تحت امریکی محکمہ خارجہ اور دفاع کسی بھی دوسرے ملک کی فوجی یونٹس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر فوجی امداد دینے پر قدغن لگاتا ہے۔

ترجمان جان کربی نے کہا کہ "لیہے قانون پر امریکہ، پاکستان سے متعلق بھی عمل کرتا ہے اور پاکستانی فوج کے لیے کوئی بھی امداد نہ جا سکتی ہے اور نہ جاتی ہے اگر اس کے یونٹس کے (انسانی حقوق کی) خلاف ورزیوں میں ملوث ہونا مصدقہ ہو۔"

پاکستان، انسداد دہشت گردی میں امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور واشنگٹن یہ کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔


رات گئے افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دوبارہ طورخم بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ کردی گئی، فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوگئے، پاکستانی فورسز کا بھرپور جواب جاری ہے، جبکہ بارڈر پر کشیدگی برقرار ہے۔

پاکستان اور افغانستان سے محتصل طورخم بارڈر پر دن بھر خاموشی اور بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ تھما رہا۔ حالات میں بہتری کے بعد لنڈی کوتل بازار سے کرفیو ہٹا دیاگیا، تاہم رات گئے ایک بار پھر افغان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں

ذرائع کے مطابق طورخم بازار میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔ گذشتہ روز علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو کے باعث طورخم بارڈر پر ہرقسم کی آمد ورفت اور تجارت بحال بھی نہیں ہوسکی ہے، جبکہ شہری آبادی کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کردیاگیا۔واضع رہے کہ طورخم بارڈر کے راستے کو دہشتگردوں کی جانب سے استعمال کئے جانے کی شکایت سامنے آنے کے بعد پاکستانی حدود میں گیٹ کی تعمیر کی جارہی تھی جس پر افغان فورسز کی جانب سے فائرنگ کا واقع پیش آیا۔
................
................
طورخم بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ سے پاکستانی فوجی افسر کی منگل کو ہلاکت کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے اور سرحد پر دونوں اطراف سے فوجی نفری کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستانی سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ پاک فوج نے بھاری اسلحہ اور اضافی فوجیوں کو پیر کی شب افغان سرحد پر منتقل کیا ہے۔


پیر کو ایک افغان سرحدی پولیس کمانڈر نے بھی تصدیق کی تھی کہ افغانستان بھی سرحد پر اپنی جانب مزید فوجیوں کو تعینات کررہا ہے۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل راحٰل شریف نے منگل کو میجر جواد علی چنگیزی کی نمازجنازہ میں شرکت کی جو افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں زخمی ہوگئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ اس جھڑپ میں نو پاکستانی اور چھ افغان فوجی بھی زخمی ہوئے تھے۔

افغان حکام نے پیر کو بتایا تھا کہ اس جھڑپ میں ایک افغان فوجی بھی ہلاک ہوا تھا۔

افغانستان کے شہر جلال آباد میں منگل کو ہلاک ہونے والے افغان فوجی کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی جبکہ جنوبی افغانستان کے شہر لشکر گاہ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں پاکستانی پرچموں کو نذر آتش کیا گیا اور مشتعل افراد نے پاکستان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

طورخم بارڈر پر موجود مرکزی دروازے مسلسل تیسرے روز بھی بند رہے اور سرحد کے دونوں اطراف ہزاروں افراد پھنسے رہے۔

پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا پہلا تبادلہ اتوار کو ہوا تھا جس کی وجہ پاکستانی علاقے میں ایک نئی سرحدی پوسٹ کی تعمیر تھی۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کو سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے گیٹ کو تعمیر کررہا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے مطابق افغانستان نے منگل کو پاکستانی سفیر کو طلب کرکے اس تشدد پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے بھی پیر کو افغان سفارتکار کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔

:دیگر مضامین
(19.06.2016) دہشت گردی کی منصوبہ بندی، بیلجیم میں 12 افراد گرفتار
(19.06.2016) مصر: ڈاکٹر مرسی کو جاسوسی کے مقدمے میں عمرقید ۔ الجزیرہ کے دو صحافیوں کو مصری دستاویزات قطر کے حوالے کرنے پر سزائے موت
(18.06.2016) جوکاکس کاقتل ،برطانوی حکومت خطرات سےآگاہ تھی، میڈیا
(18.06.2016) واشنگٹن: ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی
(17.06.2016) آسٹریلیا: وزیراعظم کا ہم جنس پرست مخالف امام کو مدعو کرنے پر اظہار افسوس
(17.06.2016) گجرات فسادات: 24 میں سے 11 مجرمان کو عمر قید
(17.06.2016) برطانوی خاتون رکن پارلیمان جُو کوکس فائرنگ سے ہلاک
(16.06.2016) بحیرہ روم میں تباہ ہونیوالے مصر ی مسافر طیارے کا ملبہ مل گیا
(16.06.2016) بیلجیئم ،فرانس میں ممکنہ دہشتگرد حملوں کی اطلاع ،پولیس الرٹ
(15.06.2016) مسجد حرام میں زائرین کی سیکورٹی کے لئے 30 ہزار اہلکار تعینات
(15.06.2016) فرانس: ملازمتوں کے مجوزہ قانون کے خلاف مظاہرے میں جھڑپیں
(15.06.2016) امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر بندش کا مطالبہ کرنے پر، براک اوباما نےری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی شدید مذمت کی
(15.06.2016) بحرین کی مرکزی اپوزیشن جماعت الوفاق معطل کر دی گئی
(14.06.2016) پیرس: حملہ آور شخص کے ہاتھوں پولیس افسر قتل ، حملہ آور ہلاک
(14.06.2016) سعودی نائب ولی عہد امریکی حکومت کی دعوت پر واشنگٹن روانہ 
(13.06.2016) اوباما استعفٰی دیں، ہلیری صدارتی امیدوار سے دستبردار ہوجائیں، ٹرمپ
(13.06.2016) شامی شہر ادلب میں تازہ فضائی حملوں میں کم ازکم بیس افراد ہلاک
(12.06.2016) شنگھائی ائیر پورٹ پر دھماکے  میں 3 افراد زخمی
(12.06.2016) افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹرز پر حملہ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک
(11.06.2016) بان کی مون اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تناو بڑھا جا رہا ہے۔سعودی عرب نے یمن اتحاد کو بلیک لسٹ سے خارج کرنے کے لیے دباو ڈالا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں