دنیا بھر میں جس طرح دوسرے میڈیا یا ذرائع ابلاغ ہیں اور انکی اپنی حدود و قیود اور اصول و ضوابط ہیں اسی طرح سوشل میڈیا

کے بھی باقاعدہ اصول و ضوابط ہیں۔ ہمارے ہاں نوے فیصد سے زیادہ لوگ ان اصولوں اور ضوابط سے بے پرواہ ہو کر اس جدید میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں اور جیسے اپنی چھری سے اپنا ہی گلا کاٹ رہے ہیں
اردو دنیا میں فیس بُک پر لوگوں کی ایک غالب اکثریت فیس بک کو شعر وشاعری اور افسانہ افسانہ کھیلنے کے لیئے استعمال کر رہی ہے۔ ان میں بہت بڑی اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے جانے انجانے میں اردو زبان اور اردو ادب کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور حیرت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کو اس کا شعوروادراک تک نہیں۔ ان میں سے ہر آدمی بزعم خوش خود ساختہ استاد ہے اور بلا وجہ آپکو مشورے دینے پر بضد ہے۔ ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو خود تو شاید مناسب املا کے ساتھ دو پیرا گراف درست نہ لکھ سکے لیکن ثقہ بند نثر نگاروں، شعرا اور اہل فن کے لیئے خود کو نقاد ثابت کرنے پر بضد ہیں۔
ایسی صورت حال میرے احباب کی فہرست میں شامل ایک شریف النفس اور اہل نظر اقبال حسن آزاد بھائی کے ساتھ بھی پیش آئی ہے اور فیس بُک کے ادبی بونوں نے ان سے نا زیبا رویہ اختیار کیا۔ یہ عجب سانحہ ہے کہ دنیا بھر کو سچائی کا درس دینے والے یہ شاعر ادیب خود اپنے قبیلے کے ایک فرد کا ساتھ نہیں دے پاتے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کل یہ صورت حال خود انکے لیئے بھی پیدا ہو گی۔ اقبال حسن آزاد بھائی مجھ میں سچ کا ساتھ دینے کا حوصلہ ہے اور یہ حوصلہ اسی قلم سے ملا ہے
اقبال حسن آزاد بھائی
جس سمت نگاہ دوڑاؤں ، بس یہی نظر آتا ہے جیسے سیاسی ، مذہبی ، سماجی اور معاشرتی سطح پر " کردار کشی " انسانوں پر ایک زمیداری کی طرح ہے ۔ دکھ اس بات کا ہے کہ سب سے زیادہ جن کا اخلاقی کردار پرواز نشیب ہے ، ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیںجو چند لفظ پڑھ لکھ اور بول سکتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کاتعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑسکی ۔ خیرعلم سے فیض تو قسمت والے ہی اٹھاتے ہیں ۔ کیونکہ علم آپ کو عاجزی ، انکساری اور محبت سکھاتا ہے ۔ وہ کسی کو سربازار رسوا کرنے سے پہلے ہی لرز جاتا ہے کیونکہ علم شرافت بھی عطا کرتا ہے ۔۔ علم ہی تعلیم کی طرف راغب کرتا ہے تاکہ ہم نے جو اس سے پایا ہے وہ دوسروں تک پہنچا سکیں ، انہیں آسانیاں اور سکھ دیں سکیں ۔ یہ بلکل ایسے ہی جیسے میری تعلیم نسخے لکھنا ہے لیکن تعلیم مجھے کہانیاں لکھنے میں مدد کرتی ہے جن میں میرا علم سانس لیتا ہے ۔ ۔
افسوس صد افسوس ۔۔۔۔۔
دوسروں پر انگلیاں اٹھانے والے اپنی طرف اٹھی چار انگلیاں نہیں دیکھ پاتے۔ میری نظر سے ساری پوسٹیں گزر چکیں ہیں اور گزر رہی ہیں ۔۔ غبار راہ کی طرح ۔۔ مجھے 2014 کے وہ دن کبھی نہیں بھولیں گے جب بشیر شاد نے میری مرضی کے خلاف مجھے حقائق انٹرنیشنل کے افسانہ مقابلے کاجج بنایا تھا اور خود بیمار ہو کر فورم ایسے کم نظروں اور کم ظرفوں کے ہاتھ چھوڑگئے کہ اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ان پڑھے لکھے ، تعلیم یافتہ لوگوں نے جو مجھ طالب علم کی کردار کشی کی اور الزامات کی بوچھاڑکی اس کے آپ بھی گواہ ہیں ۔
میں نے دوستوں اور ایڈمنز سے اس امر پر ایکشن کی گزارش کی تب سارے دوستوں نے مجھے انباکس میں کہا وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔۔ کسی نے کہا مٹی اڑتی ہے تو گرد بیٹھنے میں کچھ دیر تولگتی ہے ۔۔۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ برداشت کر لو ورنہ تم اکیلی رہ جاؤگی ۔۔۔ مجھے اکیلے رہنا کڑوڑ بار منظور ہے ۔۔ اس لیئے اس دن سے لے کر آج تک میں نے پلٹ کرپھر اس غبارراہ کو دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔اور انشاللہ مرتے دم تک نہیں دیکھونگی ۔۔۔۔۔۔۔
اقبال بھائی آپ بھی پلٹ کر مت دیکھئے گا ۔۔
جب بھی کوئی واقعہ حادثہ بنتا ہے تو ان لوگوں کو ہمارے ہمراہ کر دیتا ہے جو ہمارے جیسے ہوتے ہیں ۔ مجھے ایسا کوئی گمان نہیں ہے کہ وہ لوگ جو اس غبار میں اپنے چہرے کھو بیٹھے ہیں ان کی زندگی میں میرے نا ہونے سے کوئی کمی ہے ، لیکن مجھے ان کے نا ہونے کی بہت بہت خوشی ہے ۔۔ میرا مزاج منافقانہ نہیں ہے سو اپنے جیسے دوستوں میں ہوں ۔۔ فائدہ یہ ہوا کہ اب اعتبار کرنے میں بہت محتاط ہوں ۔۔ قلمکاروں سے دور دور کا سلام رکھتی ہوں ۔۔ جو سب سے زیادہ خوبصورت لفظوں کی جگالی کرتا ہے مجھے ان میں چھپے مکرو اور منافق چہرے فورا نظر آجاتے ہیں ۔۔ یہ ہے اس حادثے کی دین جس نے کھرے کھوٹے الگ کر دیئے تھے ۔۔
حیقت یہ ہے کہ کسی کی بات کسی کو بھی ناگوار گزر سکتی ہے لیکن اسے باور کروانے کا ایک مہذب طریقہ ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایمانداری کے ساتھ ایک دوسرے کے تحفظات کو سنا جائے اور اپنی بات کو سمجھا یا جائے ، اس کے لیئے فیس بک پر ڈھول پیٹنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ ان باکس میں بات کیجئے ۔۔ ایک گروپ انباکس میں بنا لیجئے ۔۔۔ پر اقبال بھائی یہ باتیں ان کے لیئے ہیں جو شعور والے ہیں جنہیںمعلوم ہوتا ہے کہ کونسی بات کہاں رکھنی ہے اور کہاں سے اٹھانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال بھائی آپ انتہائی محنتی ، قدر شناس اور مروت رواداری کے پاسدار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے ساتھ تو اس سے بھی زیادہ برا ہونا لازم تھا ۔۔۔ دیکھئے ابھی بھی آپ نے کسی پر کوئی لعن طعن اور فتوی بازی نہیں کی ۔۔۔ اور نا ہی کسی پر سے پردہ اٹھایا ہے اور نا ہی کسی کوثالث سے بین کرنے کی دھمکی دی ہے اور نا ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہی ظرف والوں کی نشانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہی پروفیشنلزم ہے ۔۔ میں آپ کی شکرگزار ہوں کہ آپ مجھے کسی قابل جانتے ہیں ۔۔ شاد و آباد رہیئے ۔
اقبال حسن آزاد بھائی دیکھنا اب یہ ہے کہ یہ حادثہ آپ کے لیئے کیا انعام لاتا ہے ۔۔۔۔