محسن کمال کی پیدائش
سولہ جون 1963ء پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر محسن کمال کی تاریخ پیدائش ہے۔
محسن کمال لائلپور( فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 19 مارچ 1984ء کو لاہور میں انگلستان کے خلاف کیا۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سوویں کھلاڑی تھے۔ محسن کمال نے مجموعی طور پر 9 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ انہوں نے 822 رنز دے کر 24 وکٹیں حاصل کیں اور کل 37 رنز اسکور کیے۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں انہوں نے 19 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 760 رنز دے کر 21 وکٹیں حاصل کیں اور کل 27 رنز اسکور کیے۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
سری گرو ارجن دیو جی گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہورکے قیام کی چارسو ویں سالگرہ کے موقع پرڈاک ٹکٹ کا اجرأ
16جون 2006ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سری گرو ارجن دیو جی گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کے قیام کی چارسو ویں سالگرہ کے موقع پرایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر اس گوردوارے کی تصویر شائع کی گئی تھی اور انگریزی میں 400th Anniversary of SRI GURU ARJUN DEV JEE Gurdwara Dera Sahib, Lahore کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ پانچ روپے مالیت کے اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن فیضی امیر صدیقی نے تیار کیا تھا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
سائیں اختر حسین کی وفات
16جون 1987ء کو پاکستان کے معروف لوک فن کار سائیں اختر حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
سائیں اختر حسین 1920ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت استاد بھائی لعل محمد سے حاصل کی۔ وہ خود بھی ربابیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شاہ حسین، بابا بلھے شاہ، لعل شہباز قلندر، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے عرس کے موقع پر کافیاں اور لوک گیت گایا کرتے تھے۔ 1962ء میں انہوں نے ’’عشق پر زور نہیں‘‘ کے مشہور نغمہ ’’دل دیتا ہے رو رو دہائی …کسی سے کوئی پیار نہ کرے‘‘ کے لئے پس منظر کا الاپ دیا جس سے ان کی شہرت بام عروج پر پہنچ گئی۔
سائیں اختر حسین نے اندرون ملک اور بیرون ملک لاتعداد سفر کئے۔ بھارت میں انہوں نے حضرت نظام الدین اولیاؒ،حضرت امیر خسروؒ، حضرت مخدوم صابر ؒاور خواجہ معین الدین چشتی کے مزارات پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
سائیں اختر حسین لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔