ایرانی حکومت نے بالآخر، وزارت داخلہ کے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ایران میں موجودگی کی تحقیقات کے حوالے سے لکھے گئے خط کا جواب دے دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو جوابی خط، ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے ان سے ملاقات کے دوران حوالے کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق چوہدری نثار اور ایرانی سفیر کی ملاقات کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے پیش رفت اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
’را‘ کی موجودگی کے حوالے سے ایران کے جوابی خط کے مندرجات میڈیا سے شیئر نہیں کیے گئے۔
ملاقات کے دوران چوہدری نثار علی خان نے واضح کیا کہ کوئی تیسرا ملک، پاک ۔ ایران تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی نگرانی کو مضبوط بنانے اور معلومات کے بروقت تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یاد رہے کہ ہندوستانی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، رواں سال مارچ میں ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان سے ایک روز قبل ظاہر کی گئی تھی۔
اسی ماہ کے آخر میں سیکریٹری داخلہ عارف احمد خان کا دستخط شدہ خط، ایرانی سفیر کو اپنی حکومت تک پہنچانے کے لیے حوالے کیا گیا تھا۔
خط میں ایرانی حکومت سے کلبھوشن یادیو اور اس کے ساتھی و ’را‘ کے سب انسپیکٹر راکیش عرف رضوان کی ایران میں موجودگی کی تحقیقات اور ان کی وہاں سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
خط میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر راکیش کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرے، ساتھ ہی کلبھوشن یادیو کی سرگرمیوں کی تصدیق، اس کے ایران میں قیام اور ملنے جلنے کے حوالے سے تمام معلومات کا تبادلہ کرے۔
خط میں مزید کہا گیا تھا کہ امید ہے کہ ایران اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گا اور پاکستانی حدود میں ہندوستانی جاسوسوں کی دراندازی روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔