16.10.2026, 05:06pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ماہ پارہ صفدر
 

چارہ گر ہی رہزن جب بن گیا تو ہو گا کیا ۔ ماہ پارہ صفدر
17.06.2016, 04:05am , جمہ (GMT+1)

ماہ پارہ صفدر ۔ لندن
 امریکہ میں گزشتہ 1260 دنوں میں ایک ہزار حملے خود کار، حملہ آور یعنی اسالٹ ہتھیاروں اور شارٹ گن سے ہوئے جس میں تیرہ سو پینتیس افرد ہلاک اور چار ہزار زخمی  ہوئے۔ موجودہ صدی میں کسی ترقی یافتہ ملک میں اسی کوئی مثال موجود نہیں۔

  صرف گزشتہ برس آٹھ جان لیوا حملے ہوئے جن میں سے سات حملوں میں  اسالٹ یعنی حملہ آور رائفلیں استعمال  کی گئیں، یہ خود کار رائفلز جو سیکورٹی اداروں کے نکتہ نظر بنائی گئی ہیں،  انتہائی کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کا سبب بنیں، بس لبلبہ پر انگھوٹھا رکھنے کی دیر ہے، لاشیوں کا ڈھیر آپ کے سامنے، جیسا کہ چند دن پہلے اورلینڈو کے نائٹ کلب میں ہوا۔

ہر ایسے اندوہناک واقعے کے بعد اس مرتبہ بھی ایس کچھ آوازیں سنائی دیں کہ امریکی قانون کے مطابق اگر ذاتی حفاظت کے لیے ہتھیار رکھنے کے حق کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو ایسے خود کار ہھتیار رکھنا کس زمرے میں آتا ہے جو مخصوص حالات کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ جن کی عام زندگی میں کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

امریکہ میں سب سے بڑا مسلہ یہ رہا کہ جب بھی کوئی ایسا حملہ یا  دہشت گردی  کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو تمام بحث اور توجہ اسلامی شدت پسندی اور دہشت گری پر اکر سمٹ جاتی ہے، اورلینڈو، جسے اب تک کا بدترین قتل عام قرار دیا گیا، کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔

گہرائی میں جھانکنے کی کوشش  ہی نہیں کی گئی کہ حملہ آور دہشت گرد ہو یا کوئی نفسیاتی مریض یا نسلی بنیادوں پر منافرت رکھنے والا شخص ہو،  وہ اس درجہ سہولت سے اپنے ارادوں کی تکمیل میں کامیاب کیوں اور کیسے ہو جاتا ہے، ایسے مہلک ہھتیاروں کا حصول، انھیں اپنے گھر میں رکھنے، ان کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے اور  ساتھ لیکر چلنے  پر کوئی روک ٹوک  کیوں نہیں،  یہانتک کہ اگر کوئی  شخص شدت پسند سرگرمیوں کے زمرے میں سیکورٹی اداروں کی نظر میں مشکوک ہے،  اور زیر نگرانی ہے،  تب بھی یہ وفاقی قانون کے مطابق سیکورٹی ادارے اس کے ہتھیار خریدنے اور  رکھنے کے حق کو چیلنج نہیں کرسکتے۔

 صدر اوباما اپنے سات سالہ دور اقتدار میں ہھتیاروں کی کھلے بندوں خرید و فروخت اور استعمال کے قانون میں تبدیلی کی بارہا بات کرتے رہے۔  دو بر س قبل کی بات ہے، جب چھونے بچوں کے ایک سکول میں فائرنگ کرکے بیس بچوں کو ہلاک اور چھ کو زخمی کردیا گیا تھا، تو ہمیںاس کا اندازہ ہوا کہ وہ  امریکی صدر جو دنیا کو تو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہو، اپنے ملک میں  کس قدر بے اختیار ہے،
چھوٹے چھوٹے بچوں کی لاشوں پر ان کے والدین سے ملتے ہوئے صدر اوباما کے  آنسو بہہ نکلے۔ امریکی صدر کے لہجے میں چھپی شرمندگی و بے بسی بھی نمایاں تھی، انھوں نے اعتراف کیا موجودہ صدی میں دنیا کا کوئی ترقی یافتہ ملک ایسا نہیں جہاں اتنے بڑے پیمانے پر بے گناہ جانوں کا نقصان ہوتا ہو، مگر وہاں ہتھیاروں کا حصول اس قدر آسان بھی ہو۔

امریکہ میں ہھتیاروں کے کاروبار کی اس قدر ریل پیل ہے کہ دکانیں قسم قسم کے  خود کار اور نیم خود کار ہھتیار سجائے اور اسلحے کے انبار لگائے خریدار کے لیے فرش راہ  ہیں، جس کا بھی دل چاہے  اور جس کے پاس پیسے ہوں  وہ جا کر مہلک اور تباہ کن  ہھتیار خرید سکتا ہے۔ بہت سی ریاستوں میں شخصی آزادی کا حق استعمال کرنے کی حد یہ ہے کہ خریدار سے اس کی شناخت اور اس سے متعلق معلومات بھی نہیں لی جاتیں، مثلاً یہی کہ ذہنی رحجانات کیا ہیں، میڈیکل ہسٹری کیا ہے کہیں کوئی جنونی وغیرہ  تو نہیں، اس کے باوجود کہ کئی وارداتوں  کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ حملہ آور اور قاتل نفسیاتی مریض یا ماضی میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ  ہھتیار رکھنا امریکیوں کی نفسیات میں شامل ہوچکا ہے اوراس معاملے میں ملکی آئین بھی ان کے ساتھ ہے۔ لگ بھگ دو سو برس قبل ذاتی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے ہھتیار رکھنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اسے  امریکی آئین کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ مگر سب جانتے ہیں کہ  یہ وہ دور تھا جب امریکہ خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیر کے دور سے گزر ہا تھا، تعمیر و ترقی کے لیے افرادی وسائل کے لیے افریقہ سے غلام بناکر مزدوروں کو لایا جاتا تھا   سیکورٹی کے معاملات مخدوش اور ادارے مضبوط نہیں تھے، روپے پیسے والے کاشتکار طبقے کی من مانی تھی،  شائد اس وقت یہ قانون وقت کا تقاضہ ہو مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔

اولاۙ تو  ملک میں سیکورٹی کے انتہائی مستعد اور قابل ادارے تشکیل پاچکے ہیں۔ دوسرے  امریکہ ایک ایسی  کشیر نسلی، کشیر مذاہب اور تہذیب یافتہ عالمی طاقت ہے، جسے بقول اس کے  دہشت گردی جیسی سنگین صورتحال کا بھی سامنا ہے۔ اس منظر نامے میں  دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ کہیں اس حد تک شخصی آزادی دوسروں کے زندہ رہنے کے حق سے متصادم تو نہیں۔

ہتھیاروں کے قانون میں تبدیلی کا جب بھی معاملہ اٹھا، ناکامی سے دو چار ہوا۔  چلیے مانے لیتے ہیں، ریپلکنز حکومت کی تو ایسی کوئی خواہش بھی نہیں کیونکہ ان کے زیادہ تر ارکان خود اسلحے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ہتھیار بنانے والی فیکڑیوں کے مالک ہیں۔ اسی لیے  باور کیا جاتا ہے کہ اسلحے بنانےوالوں کی  نیشنل رائفل ایسوسی ایشن ’این آر اے‘ اس قدر طاقتور لابی ہے کہ اس کے مفادات پر ہاتھ  ڈالنا کچھ آسان نہیں۔

 البتہ ڈیموکریٹ صدر اوباما قانون میں تبدیلی  کے خواہاں اور خاصے سنجیدہ نظر آئے مگر انھوں نے بر ملا اعتراف کیا کہ قانون ساز ادارے  کانگریسں میں نیشنل رائفلز ایسو سی ایشن کے  بے انتہا اثر و رسو خ کے باعث وہ ایسا نہیں کر پائے۔

 مگر تـجزیہ کار  کہتے ہیں کہ سیاسی عز م و ارادے میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور ہے۔  زیادہ دور  جانے کی ضرورت نہیں نوے کے عشرے میں آسٹریلیا کو دیکھ لیجئے۔ 1996 میں تثمانیہ میں  پورٹ آرتھر میں ایک حملہ آور کے ہاتھوں خود کار ہتھیار سے 35 افراد کے قتل عام اور لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں زخمی کردئے جانے  پر عوامی غم و ٰغصے  کی  جو لہر دوڑی، اس وقت کے وزیر اعظم ہاورڈ نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کار اور نیم خود کار ہتھیار رکھنے اور استعمال کرنے  پر پابندی کا قانون منظور کرالیا۔ ایسا بھی  نہیں کہ اس کی کوئی مخالفت نہ ہوئی ہو، طاقتور حلقوں  کی جانب سے بھر پور مخالفت ہوئی، مگر قانون بن کر رہا۔ اور قانون کے حرکت میں آنے کے بعد آسٹریلیا میں اکا دکا واقعے کے سوا کوئی ایسی واردات نہیں ہوئی جس میں بہت جانیں جاتیں۔

   مگر امریکہ میں شائد شخصی آزادی انسانی نقصان سے  زیادہ اہم ہے، یہاں قانون میں ممکنہ تبدیلی کو آزادی سلب کرنے سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ شخصی آزادی کی آڑ   میں کمرشل اور سیاسی مفادات کی نگرانی کی جاتی ہو۔ اورلینڈو کے قتل عام کے بعد اب کہیں جا کر  ریپبلیکنز کے موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اس حد تک آمادہ ہوئے ہیں کہ کہ وہ این آر ایے کے ساتھ اس بابت صلاح مشورے کریں گے کہ  دہشت گردی کے شبے میں زیر نگرانی  افراد ہتھیار حاصل نہ کرسکیں۔ اس سے پہلے وہ بارہا  کہہ چکے ہیں کہ ہتھیار نہیں بلکہ ہتھیار استعمال کرنے والے پر منحصرہوتا ہے۔

 اورلینڈو میں پچاس افراد کی ہلاکت کے بعد  بھی جب ہھتیاروں پر کنٹرول  کے حق میں آوازیں  بلند نہیں ہوئیں  اور یہ معاملہ کوئی بڑا موضوع نہ بن سکا، تو کسی دل جلے تجزیہ کار نے  یہ تک کہی دیا جبتک  نیشنل رائفل ایوسی ایشن  کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا جاتا، امریکہ میں ہتھیاروں کی فروخت کو پابند نہیں کیا جاسکتا۔ خیر یہ تو محض خام خیا لی اور ناممکنات کی بات ہے۔

 مگر حقیقی منظر نامے میں قانون میں ممکنہ تبدیلی کے لیے خواہش کا ہونا تو شرط ہے ہی، مگرساتھ جس سیاسی عزم کی ضروت ہے  وہ  شائد صدر اوباما کی اپنی ذات تک موجود ہے۔ مگر اس کی بازگشت خود ان کے ڈیموکریٹس عوامی حلقوں اور سیاسی ایوانوں میں بھی کچھ زیادہ سنائی نہیں دیتی۔ اور اس کی تصدیق کے لیے آپ کو زیادہ انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا، بس آیندہ چند ہی ہفتوں میں انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن  کے بیانات سے ظاہر ہوجائیگا کہ ہتھیاروں پر پابندی کے قانون کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔  

:دیگر مضامین
(16.12.2015)  قومی یادگار حکومت کے عزم کی عکاس ہوگی۔ از ۔ ماہ پارہ صفدر۔ اشاعت مکرر
(28.06.2015) بریڈ فورڈ میں پائی جانے والی فرقے وارانہ کشیدگی منکشف ہو گئی۔ از۔ ماہ پارہ صفدر
(28.09.2014) پاکستان میں چند حکمراں خاندانوں کی چودھراہٹ ؟؟ از۔۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(13.04.2014)  مرد کے بچے بنو۔مرد کے بچے ۔۔۔ از۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(04.04.2014) ‎اور پھر نابو ڈارلنگ چلے گئے۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(24.03.2014) یوکرین:طاقت کے کھیل میں نقصان کس کا ہوگا ؟تجزیاتی تحریر ۔ماہ پارہ صفدر
(25.06.2013) میری ماں ۔۔۔۔ نام کی نہیں عمل کی شمس۔از ۔ ماہ پارہ صفدر



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں