ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کی وفات
پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کا پورا نام عشرت حسین عثمانی تھا اور وہ 15 اپریل 1917ء کو پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے بی ایس سی آنرز، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم ایس سی اور لندن یونیورسٹی سے مشہور نوبیل انعام یافتہ سائنسدان جی پی ٹامسن کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1942ء میں وطن واپسی کے بعد وہ انڈین سول سروس میں شامل ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان کی سول سروس میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں جن میں سب سے اہم عہدہ 1960ء سے 1972ء تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی چیئرمین شپ تھا۔ ان کے دور میں نیلور میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی گئی اور کراچی میں کینپ کا نیوکلیئر پاور پلانٹ نصب کیا گیا۔ 1972ء میں وہ وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ یہ وزارت انہیں کی تجویز پر قائم کی گئی تھی۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارۂ پاکستان اور نشان امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔
٭17جون 1992ء کو پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
استاد لطافت حسین کی وفات
سترہ جون 2005ء کو کلاسیکی موسیقی کے معروف استاد، استاد لطافت حسین خان وفات پاگئے۔
استاد لطافت حسین کا تعلق کلاسیکی موسیقی کے معروف شام چوراسی گھرانے سے تھا۔ وہ استاد سلامت علی خان کے فرزند اور استاد نزاکت علی خان کے بھتیجے تھے۔ ان کا خاندان خیال، دھرپد اور کلاسیکی موسیقی کے حوالے سے پورے برصغیر میں معروف ہے۔ استاد لطافت حسین خان گائیکی کے علاوہ ہارمونیم، سرمنڈل اور تانپورہ بجانے میں بھی اختصاص رکھتے تھے۔
استاد لطافت حسین کے بھائیوں میں شرافت علی خان، سخاوت علی خان اور شفقت علی خان بھی کلاسیکی گائیکی کے حوالے سے بے حد معروف ہیں جبکہ موجودہ دور کے مقبول گلوکار رفاقت علی خان ان کے کزن ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
بھنبھور میں جنوبی ایشیا کی قدیم ترین مسجد کے آثار برآمد ہوئے
17 جون 1960ء کو جب ماہرین آثار قدیمہ کی زیر نگرانی‘ کراچی سے 37 میل دور بھنبھور کے مقام پر آثار قدیمہ کی کھدائی کا کام جاری تھا‘ ایک مسجد کے آثار برآمد ہوئے۔ اس مسجد کے ساتھ ہی کچھ کتبے بھی برآمد ہوئے جن پر خط کوفی میں تحریر کی گئی ایک عبارت کے مطابق یہ مسجد 109 ھ (مطابق 727 ء) میں تعمیر ہوئی تھی۔
اس تحریر کی برآمدگی کے بعد ماہرین آثار قدیمہ اور ماہرین مذہبیات اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ مسجد برصغیر میں تعمیر ہونے والی‘ اولین مسجد تھی اور یہ مسجد محمد بن قاسم کے ساتھیوں نے تعمیر کروائی تھی۔
بھنبھور کے مقام پر برآمد ہونے والی جنوبی ایشیا کی اس پہلی مسجد کا طول 122 فٹ اور عرض 120 فٹ تھا۔ اس کے چاروں طرف چونے کے پتھر کی اینٹوں کی ایک ٹھوس دیوار تھی جس کی موٹائی 3 تا 4 فٹ تھی۔ مسجد کے صحن کا طول 75 فٹ اور عرض 58 فٹ تھا۔ مغرب کی جانب ایک وسیع دالان تھا جس کی چھت لکڑی کے 33 ستونوں پر قائم تھی۔ اس مسجد کا نقشہ کوفہ اور واسط کی مساجد سے مشابہ تھا اور انہی کا تسلسل لگتا تھا۔
بھنبھور میں برآمد ہونے والی اس مسجد کے آثار کی برآمدگی 23 ستمبر 1962ء کو مکمل ہوئی تھی۔
------------------------------------------------------------------------------------------------