جاری ہے زمانے میں فیضان خدیجہ کا
لاریب ہے امت پر احسان خدیجہ کا
لے جاو مری دولت احمد کو ستاو مت
تھا عام عرب میں یہ اعلان خدیجہ کا
جو عظمت فضہ سے واقف نہ ہوئے اب تک
ہو کیسے بھلا ان کو عرفان خدیجہ کا
وہ پہلی شہادت ہیں سرکار مدینہ کی
ہے اوج پہ کس درجے ایمان خدیجہ کا
ہم ان کو بھلا کر خود پڑ جائینگے ذلت میں
ہوگا نہ زرا اس سے نقصان خدیجہ کا
افسوس عرب کے کچھ نادان حریصوں نے
ہر عہد میں لوٹا ہے سامان خدیجہ کا
مشکوک سمجتا ہوں میں ان کا نسب لوگو
جوبھول گئے یک دم احسان خدیجہ کا
مادر کی طرح ان کو حیدر نے صدا جانا
کرتے تھے ادب دل سے عمران خدیجہ کا
ہے پاس مرے سب کچھ اس گھر کی عنایت سے
ہے آب محمد کا اور نان خدیجہ کا
تبلیغ محمد کا رہ جائے بھرم یا رب
تھا زندگی بھی بس یہ ارمان خدیجہ کا
مطلوب ہے جو تجھ کو داور کی رضا مندی
دے واسطہ پھر اس کو ہر آن خدیجہ کا
کہتا ہے بلال اپنا دل جوش مودت سے
جنت میں بنوں گا میں مہمان خدیجہ کا