امریکا نے ایک بار پھر پاکستان سے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ڈرون حملے میں ملااختر منصور کی موت سے مذاکرات پر منفی اثرات پڑے۔امریکا نے پاکستان سے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیا ہے۔
پینٹاگون نےکہاہے کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاک امریکا تعلقات اور سیکیورٹی امداد میں رکاوٹ ہیں۔
پینٹاگون کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ میں وہی گھسے پٹے مطالبات دہرائے گئے ہیں اور پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی ماحول بہتربنانے کے لئے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کی آماجگاہوں کو ختم کرے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر کی جانب سے تصدیق نامہ جاری نہ کرنے کے باعث اتحادی سپورٹ فنڈ کی تیس کروڑ ڈالر کی امداد روک دی گئی ہے۔
پینٹاگون نے اعتراف کیاہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پاکستان کا انتہائی اہم اور کلیدی کردار ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اعتراف کیا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے مذاکرات پر منفی اثرات پڑے۔