16.10.2026, 10:17am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
سری لنکن حکومت نے پاناما لیکس پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے تحقیقات کے لیے خصوصی پینل تشکیل دینے کا اعلان کردیا
حکومت اور مولویوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا ریڈ زون خالی کرکے واپس لوٹ گئے۔
 
عالمی اخبار تازہ ترین
 

چوہدری نثار علی نے لیک ویڈیوز نشر ہونے کو  ’غیر آئینی اور غیر اخلاقی‘ قرار دے دیا۔
19.06.2016, 09:10am , اتوار (GMT+1)

ٹی وی چینلوں پر دو ہائی پروفائل مشتبہ افراد کی تحقیقات کے دوران بنائی گئی 3 لیک ویڈیوز نشر ہونے کے بعد بالآخر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو اس جانب خیال آہی گیا اور انہوں نے اس عمل کو ’غیر آئینی اور غیر اخلاقی‘ قرار دے دیا۔

چوہدری نثار علی خان نے ساتھ ہی سندھ حکومت سے کہا ہے کہ وہ سراغ لگائے کہ کونسی تحقیقاتی ایجنسی ان ویڈیوز کے لیک ہونے میں ملوث ہے۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام مقدمات کا فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہوگا، میڈیا ٹرائل کے ذریعے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیر تفتیش اور گرفتار شدگان کی ویڈیوز کی تشہیر سے کیس مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، سندھ حکومت کو خط لکھے گی جس میں ان تحقیقاتی ویڈیوز کے لیک ہونے میں ملوث تحقیقاتی ایجنسی کو تحقیقات کرکے سامنے لانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے بھی کہا جائے گا کہ وہ زیر تفتیش ملزمان کی ویڈیوز کی تشہیر روکنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے۔

لیکن چوہدری نثار کا یہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما کو متاثر نہیں کرسکا، جنہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ خود ڈاکٹر عاصم کی تحقیقاتی ویڈیو منظر عام پر لانے کی دھمکی دے کر اس ’غیر آئینی اور غیر اخلاقی‘ عمل کا ارتکاب کرچکے ہیں۔

گزشتہ بدھ او جمعرات کو، ٹی وی چینلوں نے سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے دو ویڈیو بیانات نشر کیے تھے، جن میں انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے رضاعی بھائی اویس مظفر عرف ٹپی پر سنگین الزامات لگائے تھے۔

جمعہ کے روز متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کارکن منہاج قاضی کا بھی 37 سیکنڈز کا ویڈیو بیان نشر کیا گیا، جس میں انہوں نے 18 سال قبل کے حکیم سعید قتل کیس میں سابق صوبائی قانون ساز کے ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

قبل ازیں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قاتل صولت مرزا اور ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار خالد شمیم کا ویڈیو بیان بھی پراسرار طور پر میڈیا میں نشر ہوچکا ہے۔

صولت مرزا کا ویڈیو بیان، مارچ 2015 میں اس کی پھانسی سے چند گھنٹے قبل بلوچستان کی مچھ جیل سے نشر کیا گیا، جس کے نتیجے میں وزارت داخلہ نے صدر ممنون حسین سے درخواست کرکے صولت مرزا کی پھانسی ملتوی کرائی۔

تاہم صولت مرزا کو مئی 2015 میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ ویڈیو کس نے بنائی اور میڈیا میں لیک کی۔

چوہدری نثار کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی نے ڈان کو بتایا کہ وزیر داخلہ کو خود سے اس تحقیقات کا آغاز کرنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے ہی سب سے پہلے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ ڈاکٹر عاصم کی تحقیقات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر لے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار کو ہمیں یہ بتایا چاہیے کہ انہیں ڈاکٹر عاصم کی ویڈیو کس نے اور کیسے دی۔

سعید غنی نے کہا کہ ان کے خیال میں وزیر داخلہ نے ہی یہ ویڈیوز لیک کرائیں اور اب وہ خود کو بچانے کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔

گزشتہ سال 12 دسمبر کو چوہدری نثار علی خان نے سندھ حکومت پر ایک شخص کو بچانے کی خاطر کراچی آپریشن سبوتاژ کرنے الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر عاصم کی تحقیقاتی ویڈیو اور خفیہ تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لے آئیں گے۔

:دیگر مضامین
(19.06.2016) معروف وکیل نعیم بخاری پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے
(18.06.2016) کراچی کے مختلف علاقوں میں رینجر ز کی کارروائی،8ملزمان گرفتار
(18.06.2016) ٹی او آرز پرکشیدگی برقرار، اپوزیشن کا پیر کو حقائق سامنے لانے کا اعلان
(17.06.2016) پاناما لیکس,ٹی او آر کی تیاری پر حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی برقرار
(17.06.2016) برطانیہ نے پاکستانی اداروں سے بھتہ خوری کے الزامات کے ثبوت مانگ لیے
(17.06.2016) نیٹو سیکرٹری جنرل.فوج کو بڑے پیمانے پر افغانستان میں رکھیں گے
(16.06.2016) ممبران الیکشن کمیشن کی تعیناتی کیلئےقائم پارلیمانی کمیٹی کی ایک بارپھر تشکیل نو
(16.06.2016) ہندوستانی جاسوس کے حوالے سے خط پر ایران کا جواب
(16.06.2016) شیریں مزاری کا خواجہ آصف کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس
(15.06.2016) ایان علی کو امیگریشن حکام نے ایئر پورٹ سے واپس بھیج دیا
(15.06.2016) دہشت گردی کے کیسز میں ملزم کومعاف نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ
(15.06.2016) خیبر پختونخوا کا 505 ارب روپے کا بجٹ، 22 فیصد تعلیم کیلئے مختص
(14.06.2016) افغان فورسز سے فائرنگ کا تبادلہ،زخمی پاکستانی میجر ہلاک
(14.06.2016) طورخم بارڈر:افغان فورسز کی فائرنگ سے زخمی میجر ہلاک
(14.06.2016) ایف آئی اے نے عمران فاروق قتل کیس کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کرلیا
(13.06.2016) پنجاب کا16کھرب81ارب  روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کردیا
(13.06.2016) پنجاب اسمبلی کا بجٹ آج سہ پہر وزیر خزانہ پنجاب پیش کریں گی 
(13.06.2016) طورخم بارڈر پر افغان فورسز کی پاکستانی حدود میں بلا اشتعال فائرنگ
(12.06.2016) بیٹے نے جو کیا، اس کا مذہب سے تعلق نہیں، میر صدیق والد عمر متین
(12.06.2016) فلوریڈا: نائٹ کلب میں فائرنگ، پچاس ہلاک ۔ پچپن افراد زخمی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں