پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر وائس مارشل سر آرتھر ڈبلیو بی میک ڈونلڈ
پاکستان فضائیہ کے چوتھے کمانڈر انچیف ایر وائس مارشل سر آرتھر ڈبلیو بی میک ڈونلڈ 14 جون 1903ء کو جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد برٹش آرمی میں ڈاکٹر تھے ۔ آرتھر میک ڈونلڈ نے 15 مارچ 1924ء کو رائل ایر فورس میں کمیشن حاصل کیا اور دوسری جنگ عظیم میں شریک ہوئے۔ انھوں نے 20 جون 1955 ء سے 22 جولائی 1957ء کے دوران پاک فضائیہ کے چوتھے کمانڈر انچیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ پاک فضائیہ کے آخری انگریز کمانڈر انچیف تھے ۔انھی کے دور میں پاکستان رائل ایرفورس کا نام بدل کر پاکستان ایر فورس رکھا گیا۔ ایر وائس مارشل سر آرتھر ڈبلیو بی میک ڈونلڈ کا انتقال 26 جولائی 1996 کو ہوا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
ایم جے رانا کی وفات
٭20 جون 1995ء کو فلم اور اسٹیج کے معروف ہدایت کار ایم جے رانا لاہور میں وفات پاگئے اور انہیں گلشن راوی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔
ایم جے رانا کا پورا نام محمد جمیل رانا تھا۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز دائود چاند کے معاون ہدایات کار کی حیثیت سے کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں فلم ساز جے سی آنند نے اپنی فلم ’’سوہنی‘‘ کی ہدایت کاری کے لئے منتخب کیا۔یہ فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل تو نہ کرسکی مگر ایم جے رانا کے صلاحیتوں کو ضرور اجاگر کرگئی۔ ایم جے رانا کی دیگر فلموں میں ماہی منڈا، یکے والی، سہتی، چٹی، شیرا، جمالو، باپ کا باپ، من موجی، جی دار، اباجی،یار مار،راوی پار،جگ بیتی، بائو جی، جوانی مستانی، چن ویر، خون دا بدلہ خون، عید دا چن، پیار دی نشانی، ماں دا لال،چند ویر،چانن اکھیاں دا، میرا ماہی، جانی دشمن، رانی خان اور سرپھرا کے نام سرفہرست تھے۔ انہوں نے بعض اسٹیج ڈراموں کی بھی ہدایات دیں جن میں ’’شرطیہ مٹھے‘‘ بے حد مقبول ہوا۔ 1989ء میں انہیں ان کی طویل فلمی خدمات پر خصوصی نگار ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
توفیق عمر کی پیدائش
٭20جون 1981ء بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے پاکستان کے اوپنر بیٹسمین توفیق عمر کی تاریخ پیدائش ہے۔
توفیق عمر لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 29 اگست 2001ء کو ملتان میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا تھا۔ انہوں نے اس پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی اور یوں انہوں نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو میں سنچری بنانے والے آٹھویں پاکستانی کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ توفیق عمر نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں مجموعی طور پر 43میچ کھیلے اور 7سنچریوں کی مدد سے 2943 رنز اسکور کیے۔ انہوں نے 22 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی حصہ لیا اور کل 504 رنز اسکور کیے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
صادقین کی پیدائش
٭ پاکستان کے نامور مصور صادقین کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا اور وہ 20جون 1930ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔

1948ء میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے جہاں انہوں نے بہت جلد اپنی منفرد مصوری اور خطاطی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ان کی شہرت کا آغاز میورلز سے ہوا جو انہوں نے کراچی ایر پورٹ، سینٹرل ایکسائز لینڈ اینڈ کسٹمز کلب، سروسز کلب اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی لائبریری میں بنائیں۔ کچھ عرصے کے بعد وہ پیرس چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے فن کے یادگار نمونے پیش کئے اور کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کئے۔1969ء میں انہوں نے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر کلام غالب کو بڑی خوب صورتی سے مصور کیا۔ 1970ء میں انہوں نے سورۂ رحمن کی آیات کو انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیا اور مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے لاہور کے عجائب گھر کی چھت کو بھی اپنی لازوال مصوری سے سجایا۔ 1981ء میں انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں میں اپنے فن کے نقوش بطور یادگار چھوڑے۔ 1986ء میں انہوں نے کراچی کے جناح ہال کو اپنی مصوری سے آراستہ کرنا شروع کیا مگر ان کی ناگہانی موت کی وجہ سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔ وہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور رباعیات کہنے میں خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
10 فروری 1987ء کو پاکستان کے نامور مصور صادقین کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------